Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

معاہدہ تاشقند, کل اور آج

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عمر فاروقی

معاہدہ تاشقند (Declaration Tashkent ) پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔جو دونوں ملکوں میں لڑی جا نے والی ستمبر 1965 کی جنگ کے بعد 10 جنوری 1966 کو وسطی ایشیا کے شہر تاشقند میں ہوا۔ اس سے قبل اس جنگ کو رکوانے کیلئے عالمی طاقتوں نے مداخلت کی جس کے نتیجے میں 23 ستمبرجنگ بندی ہو گئی۔ عالمی طاقتوں کی مداخلت کا سبب اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا تھا کیونکہ خدشہ تھا کہ اس جنگ میں خطے کی دوسری قوتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔معاہدہ تاشقند کا پسمنظر 6ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ تھی جو 22 ستمبر تک جاری رہی۔ اس جنگ میں3800 پاکستانی اورکم وبیش 5500 کے لگ بھگ بھارتی فوجیوں کی جان گئی۔
بظاہر نہ پاکستان کے پاس کوئی حقیقی جنگی پلان تھا نہ بھارت کے پاس۔ شاید اسی لیے دونوں ممالک نے 17 دن بعد ہی اقوامِ متحدہ کی جنگ بندی قرارداد فوراً مان لی۔ لیکن65کی اس جنگ کی حقیقت جاننے کے لئےجنگ سے پہلے آپ کو آپریشن جبرالٹر بھی جاننا ضروری ہے۔جس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کو آزاد کروانے کیلئے اگست میں ایک پلان بنایا گیا تھا ۔ جنرل ایوب کا خیال تھا کہ پچیس تیس ہزار فوجی اگر بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں گھس کر گوریلا وار شروع کردیں گے تووہاں کی مقامی آبادی کو ساتھ ملا کر آسانی سے کشمیر کو آزاد کروایا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہ ہوا۔وہاں کی آبادی شاید اس کیلئےتیار نہ تھی۔ بلکہ اس کے مخالف جاتے ہوئے انہوں نے بھارتی فورسز کا ساتھ دیا۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر کے قابل ذکر حصہ پر گوریلا دستے قابض ہو چکے تھے۔ اس کے جواب میں بھارت نے جنوبی محاذ کھول دئیے۔ اور اس کے فوجی ایڈوانس کرتے کرتے لاہور کے اندر تک باٹا پور اور شالا مار باغ تک پہنچ گئے۔ اسی طرح دوسرے کئی محاذوں پر باقاعدہجنگ شروع ہوگئی۔ سترہ دن جاری رہنے والی اس لڑائی میںہزاروں لوگ مارے گئے اور ہزاروں بےگھر ہو گئے۔
امریکہ ، روس اور دوسری عالمی طاقتوں نے مداخلت کی اور جنگ کو رکوانے کا اہتمام کیا۔ ان کے دباﺅ پر تاشقند کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کا اعلامیہ 10 جنوری 1966 کو جاری ہوا جو دراصل بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔ اس کا آغاز 4 جنوری 1966 کوہونے والےایک اجلاس میں ہوا جو دونوں ملکوں میں مستقل تصفیہ کی کوشش کے طور پر منعقد کیا گیا تھا اس معاہدے کیلئے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان 3 جنوری 1966ئ کو اپنے سولہ رکنی وفد کے کیساتھ روس کی جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے‘ انکے وفد میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو‘ وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین وزیر قانون منظور قادر اور وزیر تجارت غلام فاروق کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام شامل تھے ۔ تاشقند وسطی ایشیا کے ملک ازبکستان کا کیپٹل اور سب سے بڑا شہر ہے ،ازبکستان اس وقت سوویت یونین کا حصہ تھا۔جہاں سوویت یونینکے وزیر اعظم کوسیجن نے بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور پاکستا ن کے صدر محمد ایوب خان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے یہ تاریخی مذاکرات7 دن تک جاری رہے۔ اس دوران کئی مرتبہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے کیونکہ بھارت کے وزیر اعظم شاستری نے ان مذاکرات میں کشمیر کا ذکر شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ پہلے سےطے شدہ ہے اور موجودہ مذاکرات صرف حالیہ جنگ سے پیدا ہو نے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہورہے تھے ۔ پاکستانی وفد کا خیال تھا کہ ایسے حالات میں یہ مذاکرات بے مقصد ہوں گے اور پاکستانی وفد کو کوئی معاہدہ کیے بغیر واپس لوٹ جانا چاہیے۔ مگر مذاکرات کے آخری ایام میں سوویت وزیر اعظم کوسیجین نے صدر ایوب خان سے مسلسل کئی ملاقاتیں کیں اور انہیں بھارت کے ساتھ کسی نہ کسی سمجھوتہ پر پہنچنے پر رضامند کرلیا۔ یوں 10 جنوری 1966ئ کو صدر ایوب خان اور وزیر اعظم شاستری نے معاہدہ تاشقند پر اپنے دستخطکردئیے۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج اگلے ڈیڑھ ماہ میں 5 اگست 1965ئ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس چلی جائیں گی اور دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور پر پابند رہتے ہوئے باہمی مذاکرات کی بنیاد پر حل کریں گے۔
بظاہر یہ معاہدہ دونوں فریقوں کیلئے اگر فائدہ مند نہیں تھا تو بے ضرر ضرور تھا لیکن جنگ کے دوران حکو مت کی طرف سے عام آدمی کیلئے جنگ کی فتوحات کےتاثر کو پوری قوت سے پھیلایا گیا کہ جیسے کشمیر آزاد ہوگیا ہے اس کا قوم کو یقین دلایا جارہاتھا کہ جیسے اب پاکستان کی فتح کا اعلان ہو نا باقی رہ گیا ہےتھے ۔ جبکہ ایسا نہیں تھا بلکہ اس وقت بھی آج ہی کی طرح ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو اسی طرح کنٹرول کیا جا تا تھا۔ لیکن جب معاہدہ تاشقند کا اعلامیہ منظر عام پر آیا تو اس امن معاہدے کی شرائط کو پاکستانیوں نے پسند نہیں کیا اور ایسا تاثر بنا کہ گویا ایوب خان میدان میں جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار گئے ہیں۔ یعنی پاکستانیوں کے نزدیک1965کی جنگ میں پاکستان کو بھارت پر برتری حاصل تھی اور پوری دنیا میں پاکستان کو فاتح کی حیثیت دی جارہی تھی لیکن معاہدہ تاشقند کے ذریعے ہم میدان جنگ میں جیتی ہوئی جنگہار گئے ،اس اعلان تاشقند نے پاکستان کی سیاست پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔اس وقت ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ تھے، جن کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے صدر ایوب کے سامنے معاہدئہ تاشقند کی دستاویز کو پاکستان فروخت کرنے کا معاہدہ قراردیا تھا۔لوگ مایو سی میں ڈوب گئے اور پورے ملک میں غم و غصہ اور رنج لہر دوڑ گئی۔ ایوب خان کی حکومت پر گرفت مضبوط تھی لیکن اس کے باوجود تاشقند معاہدے کے حوالے سے حکومت کے خلاف عوام کی جانب سے بھر پور احتجاج ہوا اورکراچی میں ہونے والے مظاہروں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ شروع شروع میں عوامی مظاہروں کوطاقت کے استعمال سے کچل دیا گیا، لیکن تاشقند معاہدے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ، بعد میںاس میں دیگر سیاسی عوامل بھی شامل ہوتے گئے۔اس طرح1968ءکے وسط سے تحریک میں شدت آگئی اور تاشقند معاہدہ نامنظور کے ساتھ ساتھ ایوب خان کے بارے میں انتہائی سخت نعرے بھی شروع ہو گیا۔ ایوب خان نے اس صورتحال پر قابو پانے اور اقتدار بچانے کیلئے سیاستدانوں سے مذاکرات شروع کئے لیکن ایوب حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن اور ہنگاموں میں کمی کی بجائے شدت پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں جنرل یحیی ٰخان نے 25 مارچ 1969ءکو نے مارشل لا لگا کر ایوب خان کو اقتدار سے علیحدہ کردیا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہمعاہدہ تاشقند ہی دراصل وہ معاہدہ جس کو بھٹو نے ایوب خان کے خلاف اپنی سیاست کا محور بنا یا اور ایوب خان کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ایوب خان جو جنگ کے بعد قوم کے ہیرو بن گئے تھے اس معاہدے کے بعد ہیرو سے زیرو ہو گئے ، اس طرح یہ معاہدہ ایوب خان کے زوال اور بھٹو کی قومی سیاست کے عروج کا سبب بن گیا۔ بھٹو صاحب نے 31 اگست 1966ءکو وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا اور ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا وہ عنقریب تاشقند معاہدے کے اصل نکات سے قوم کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کہ ایوب خان نے معاہدہ تاشقند پر دستخط کرکے پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کا سودا کیا ہے جو دراصل یہ ایک ایسامعاہدہ ہے جس کی وجہ سے ہم لوگ اب کشمیر کبھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ بھٹو کا موقف تھا کہایوب خان نے خود اپنے ہاتھوں سے معاہدے پر لکھ دیا تھا کہ وہ بھارت سے جنگ نہیں کریں گے۔ بھٹو اپنے موقف سے عوام کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ ا یک فوجی جرنیل جنگکے لئے تیار نہیں ، لیکن وہ بھارت سے ہزار سال تک لڑنے کے لئے تیار تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ معاہدہ تاشقند پر دستخط صدر ایوب خان کی سیاسی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ ثابت ہوئے اور پاکستانی عوام میں ان کے خلاف غم و غصہ اور نفرت کی لہر پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں ایوب خان کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ آج بھی پاکستانیقوم کا سمجھتی ہےکہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو تاشقند کی سرزمین پر ہمیشہ کے لیے دفن کردیا اور وہ جنگ‘ جو خود حکومتی دعوﺅں کے مطابق میدان میں جیتی جاچکی تھی‘ معاہدے کی میز پر ہار دی گئی۔ معاہدہ تاشقند بلاشبہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہے لیکن ایک ہوشمند قوم کی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا یکسر تبدیل ہوچکی ہے جس کے ساتھ چلنے کیلئے ہمیں اب اکیسویں صدی کے نئے تناظرات نئےچیلنجز نئے گلوبل ویڑن اور خطے میں تبدیل شدہ حالات کو سامنے رکھ کر اپنی داخلہ خارجہ حکمت عملیوں کو ازسر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ایک وقت میں قوم سمجھتی تھی کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو تاشقند کی سرزمین پر ہمیشہ کے لیے دفن کردیا اور وہ جنگ‘ جو خود حکومتی دعوﺅں کے مطابق میدان میں جیتی جاچکی تھی‘ معاہدے کی میز پر ہار دی گئی لیکن اب خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور خاص طور پر بھارت کے ساتھ نئے تنازعات میں پاکستان کی صورتحال کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے کشمیر کی خود مختاری ختم کردی ہے اور اب کشمیر کا سارا کنٹرول براہ راست بھارتی وفاق کے پاس چلا گیا ہے۔ جوپاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں کی سمتوں کے تعین کیلئے جوہری کردارکا حامل رہا ہے۔اب اس کے بعد کشمیر کے حوالے سے تاشقند میں ہونے والے معاہدے یا دیگرایسے معاہدوں کے بارے سوالات پیدا ہو چکے ہیں جو ماضی میں عالمی فورموں پر پاکستان اور بھارت میں ہوتے رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.