Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

امریکہ میں مظاہرے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

ابراہیم مغل

عالمی سپر پاور اور جمہوریت کے علمبردار ملک امریکہ میں اگلے روز چشم فلک نے عجب نظارہ دیکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُکسانے پر سفید فام مظاہرین پارلیمینٹ پر چڑھ دوڑے اور انہوں نے پارلیمینٹ کا تقدس بری طرح پامال کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا اور نو منتخب صدر جوبائیڈن کی انتخابات میں جیت کی توثیق کا عمل جاری تھا۔ مظاہرین لاٹھی، ڈنڈے او رجھنڈے لیے عمارت میں گھس گئے، توڑ پھوڑ کی، ارکان کانگریس عمارت میں محصور ہوگئے۔ ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی میں خاتون سمیت 4 افراد کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی میئر نے شہر میں پبلک ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

جدید امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ انتخابی عمل میں ہار کو قبول نہ کرتے ہوئے پارلیمینٹ پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں دنیا بھر میں امریکہ کے جمہوری امیج کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کا دفاع کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ ایسے واقعات تب ہوتے ہیں جب عوام کو انتخاب میں ان کی فتح سے دور رکھا جاتا ہے۔ عرصے سے محب وطن امریکیوں کی حق تلفی کی جارہی ہے۔ ٹرمپ کے ان الفاظ کی ادائیگی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفید فاموں میں نسل پرستی کا عنصر ابھار کر امریکہ کو ایک متعصب اور تنگ نظر ریاست میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، امریکہ میں نسلی تقسیم کو گہرا کرنا چاہتے ہیں، یہ رجحان ریاست متحدہ امریکہ کی یکجہتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیوں نے واشنگٹن میں احتجاج کا دفاع کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بلاک کردیئے ہیں۔ عالمی سطح پر اس بارے میں شدید رد عمل دیکھنے میں آیا۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے وائٹ ہاﺅس کے باہر پُرتشدد مظاہرے کی مذمب کی ہے جبکہ فرانسیسی وزارت خارجہ امور نے کہا ہے کہ امریکی جمہوریت پر سنگین حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کیپیٹل ہل پر حملے کو ”بنانا ری پبلک“ سے تشبیہ دی ہے۔ سابق صدر باراک اوباما نے بھی ٹرمپ پر تنقید کی ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے حدود کے بغیر نہیں ہونی چاہے۔ یورپی یونین نے کہا کہ امریکہ جمہوریت پر حملہ قابل مذمت ہے۔ نیٹو چیف نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ہلا دینے والے مناظر ہیں۔ عالمی سطح پر پایا جانا اضطراب اس بات کا مظہر ہے جو کچھ امریکہ میں ہوا ہے، اس سے جمہوریت اور جمہوری عمل کے لیے نہ صرف خطرات بڑھ گئے ہیں بلکہ امریکہ میں مقیم دنیا بھر کی قوموں کے افراد بھی عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔ امریکہ کو اپنے اوپر لگے اس داغ کو دھونے کے لیے واقعہ کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے گزشتہ پانچ برس کے دوران دنیا اور عالمی نظام پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کی وجہ سے امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور س کا اثر و رسوخ کم ہوگیا ہے جبکہ اس کی سافٹ پاور میں بھی کمی آئی ہے۔ اگلے برس امریکہ میں سیاہ فام باشندے جارج فلوئڈ کی پولیس کے مبینہ تشدد کے سبب ہونے والی ہلاکت کے بعد سے وہاں آباد سیاہ فام او ردیگر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور پُرتشدد مظاہروں کی شکل میں یہ باشندے سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔ اس بارے میں ماہرین او رمبصرین کا کہنا تھا کہ امریکہ میں جتنے بڑے پیمانے پر اس وقت مظاہرے ہورہے تھے، وہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے انتباہ ہیں، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے حسب عادت اس انتباہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی متعصبانہ پالیسی جاری رکھی۔ اب نئی آنے والی حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیاسی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے وگرنہ تشدد کی آگ کے یہ شعلے بھڑکتے چلے جائیں گے۔ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

عالمی رہنماﺅں نے امریکہ میں نسل پرستی و قوم پرستی پر مبنی پالیسیوں کو دنیا کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دورِ اقتدار میں اب تک بہت سے اجتماعی معاہدوں سے امریکہ کو الگ کرلیا ہے اور ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے بھی غیرقانونی طو رپر علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کثیر الفریقی سیاست پر استوار ہے جو دنیا میں امریکہ کی برتری کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم عالمگیریت کے نظریئے کو مسترد کرتے ہیں اور وطن پرستانہ نظریات کے حامی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے عالمی برادری اور امریکہ کے درمیان فاصلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی اس پالیسی پر نہ صرف امریکہ کے یورپی اتحادی برانگیختہ ہیں بلکہ بہت سے امریکی سیاستدان اور بین الاقوامی ادارے بھی ٹرمپ پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی امریکہ کی برتری اور مفادات کے تحفظ پر استوار ہے لیکن واشنگٹن کے اتحادیوں کی جانب سے ساتھ نہ دینے او رمخالفت کی وجہ سے ٹرمپ کی فرسٹ امریکہ پالیسی نے عالمی سطح پر امریکہ کو تنہا کردیا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کروڑوں امریکی رنگ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر اپنی شناخت کو شدت سے اپنائے ہوئے ہیں اور اسے ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ خاص طو رپر سفید فام ہونا ان امریکیوں کے لیے فخر و غرور کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے جب ڈیموکریٹک صدر، لندن جانسن نے جولائی 1964ءمیں سول رائٹس ایکٹ منظور کیا تو انہوں نے اس موقع پر اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا ”ہم ایک نسل کے لیے جنوب کو کھو چکے۔“اسی لیے ماہرین سیاسیات کا کہنا تھا کہ الیکشن جیتنے کی خاطر صدر ٹرمپ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ امریکیوں میں وہ اس وقت مقبول ہوسکتے تھے جب انہیں یہ دکھانے میں کامیاب رہیں کہ وہ انتہا پسندی کی حد تک متعصب اور شدت پسند لیڈر نہیں۔ لیکن ایسا ٹرمپ کی فطرت میں شامل نسل پرستی کے فخر نے نہ ہونے دیا او روہ الیکشن ہار گئے۔ امریکہ میں جاری نسل پرستی کے تناظر میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی خدمات، ان کے نظریے اور فکر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے معاشرے میں ثقافتی سطح پر لچک دار رویہ پیدا کرنے، غلامی ، نسل پرستی اور تعصب کے خلاف مزاحمت کی انفرادی سطح پر کوشش کرکے سامراجی عالمی نظام میں اپنی جگہ پیدا کی اور مساوات اور انصاف کے حصول کی جدوجہد کی ایک مثال قائم کی۔ آج کل کے دور میں امریکہ کو پھر ایسی تحریک کی ضرورت ہے۔ نوبل انعام یافتہ مارٹن لوتھر کنگ نے امریکہ میں نسل پرستی، امتیازی سلوک او رسیاہ فام باشندوں کے ساتھ غلامانہ برتاﺅ کے خلاف سول رائٹس موومنٹ 1955ءسے لے کر 1968ءتک یعنی اپنے قتل تک جاری رکھی تھی۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا ”مجھے اقتدار کی طاقت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، لیکن مجھے ایسی طاقت میں دلچسپی ہے جو اخلاقی، صحیح او راچھی ہو۔“ جو بائیڈن کی قیادت میں آنے والی نئی امریکی حکومت کو مارٹن لوتھر کے اس فلسفے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ کو اب ایسی پالیسی بنانا ہوگی جس سے رنگ، نسل اور مذہبی امتیاز کے عفریت پر قابو پایا جاسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.