Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

زرداری نہ نواز مفاد سب پر بھاری…

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

شفیق اعوان

پی ڈی ایم کا اپوزیشن اتحاد جب وجود میں آیا تو اس کی اٹھان کمال تھی اس کے جلسوں اور تین بڑی جماعتوں کے لیڈران کی تقریروں سے اس حکومت سے ستائے عوام کو لگ رہا تھا کہ حکومت کو لے ہی بیٹھیں گے۔ میاں نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ یعنی فوج پر براہ راست نام لے لے کر یلغار بھی پہلے کبھی دیکھی نہ سنی تھی۔ اس پر مولانا فضل الرحمان کی اپنے سب سے پرانے حلیف یعنی اسٹیبلشمنٹ کو للکار سے بھی لگ رہا تھا کہ پی ڈی ایم والے کچھ نہ کچھ ٹھان کر آئے ہیں۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کی طرح بڑوں کو دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ سیاست میں نووارد بلاول بھٹو اور مریم نواز کا جوش و جذبہ بھی دیدنی تھا اور وہ بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے اپنے قد سے بڑھ کر تقریریں کر رہے تھے۔ ہر کوئی ملکہ جذبات بنا ہوا تھا لیکن تدبر اور معاملہ فہمی کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی اور ٹکراﺅ یقینی لگ رہا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست متاثر جے یو آئی اور مسلم لیگ نواز تو اس سیاسی تحریک کو آخری معرکے کے طور پر لے رہی تھیں اور پی ڈی ایم کا حصہ ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی نے استعفوں سمیت ہر چارٹر کو تسلیم کیا اور اس پر دستخط کیے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور جذبات ٹھنڈے ہوتے گئے تو پتا چلا کہ اسمبلیوں سے استعفوں سے سینیٹ انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یعنی اتنا بڑا فیصلہ بغیر ہوم ورک کے کیا گیا۔ بلکہ پیپلز پارٹی تو اصولی طور پر دھرنوں کے بھی خلاف تھی اور اس کا اعادہ بھی قمر الزمان کائرہ کی طرف سے کر دیا گیا۔ تحریکیں جذبات کے علاوہ مکمل ہوم ورک اور زمینی حقائق کو دیکھ کر چلائی جاتی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوئی لیکن یہاں تو نشانہ ہی اسٹیبلشمنٹ تھی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے موڈ بدلتے رہتے ہیں اور اس کے آج کے حلیف کل کے حریف بنتے دیر نہیں لگتی۔ لیکن اس نکتے پر غور کیے بغیر پاپولر بیانیہ یعنی ٹکراﺅ کو اپنایا گیا۔

ہر طرف اب نہیں تو کبھی نہیں کی صدائیں اٹھ رہی تھیں لیکن جوڑ توڑ کا بادشاہ ایک شخص جس کا نام آصف علی زرداری تھا وہ خاموش بیٹھا تھا اس کو کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا تھا حتیٰ کہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں بھی اس کی سنی ان سنی کر دی جاتی تھی وہ کہتا رہتا کہ میری بھی سنو۔ وہ کہتا تھا کہ الیکٹورل کالج سے استعفے دینے سے سینیٹ انتخابات نہیں رکیں گے میری نہ سنو لیکن دیوار میں ٹکر مارنے سے پہلے اپنے آئینی ماہرین سے ہی مشورہ کر لو۔ پارلیمنٹ کی بے قدری نہ کرو، سیاست ممکنات کا کھیل ہے کل اگر عدم اعتماد کا وقت آیا تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ لیکن اسے کبھی سنجیدہ نہ لیا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے مشرف کو ایوان صدر سے نکالا ہے۔ ان کے کریڈٹ پر بلوچستان حکومت کا خاتمہ اور موجودہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی تھا لیکن بوجوہ اس کا ذکر نہ کیا۔ یہ شخص جوڑ توڑ کا اتنا ماہر ہے کہ پارلیمنٹ میں اپنی مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے شہید بے نظیر کی طرف سے قرار دیے گئے اپنے مبینہ قاتل پرویز الٰہی کو اپنے ساتھ ملا کر ڈپٹی وزیر اعظم بنا دیتا ہے۔ آج بھی اس کا رابطہ چودھری برادران سے ہے اور پتا نہیں کب یہ کام آ جائے۔ پھر ایم کیو ایم سے بھی کبھی اس نے جھگڑا نہیں کیا اور اسے یقین ہے کہ جب وقت آئے گا تو یہ بھی اس کے ساتھ ہوں گے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک زرداری سب پہ بھاری۔ مجھے دھڑکا لگا رہتا تھا کہ جب اس کی سنی گئی تو پی ڈی ایم کے بیانیے کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ اور وہی ہوا جوں جوں اس کی باتیں سنی گئیں پی ڈی ایم قائدین کو لگا کہ کہہ تو ٹھیک رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی ہواﺅں کا رخ دیکھ کر اپنی سمت کا از سر نو تعین کرنے میں ہی عافیت جانی۔ جب آصف زرداری کے کہنے پر آئینی ماہرین کی ٹیم بیٹھی تو انہوں نے بتایا کہ اسمبلیوں سے استعفوں پر سینیٹ کے الیکٹورل کالج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور بہتر حکمت عملی کی وجہ سے حکمران اتحاد یہ سیٹیں لے اڑے گا۔ اسی طرح ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ پر اس کا کہنا تھا کہ اس طرح یہ سیٹیں حکمران اتحاد کی جھولی میں ڈالنے کے برابر ہو گا اور معمولی اکثریت پر کھڑی حکومت پارلیمنٹ میں مضبوط ہو گی۔ جس کے بعد سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ ہوا۔ اسی طرح اس نے ٹکراﺅ کے بجائے تدبیر کو ترجیح دینے کی بات کی۔ اس نے کہا پتھر تو کبھی بھی مار سکتے ہیں لیکن اسے آخری آپشن کے طور پر رکھیں اور کسی ایسی صورت میں پہلا پتھر میں ماروں گا۔ اس نے نواز شریف کو بھی قائل کر لیا کہ سیاسی خودکشی کے بجائے حکمت عملی سے چلا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کبھی ایک پارٹی کے ساتھ نہیں ہوتی اس کے اہداف اور حلیف تبدیل ہوتے رہتے ہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ آصف زرداری کہا کہنا تھا کہ ہم سب کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی اس حکومت

سے راضی نہیں تو بجائے اس سے ٹکراﺅ کے اپنے آپ کو ایک آپشن کے طور پر پیش کریں۔ اپنا ہدف حکومت کو بنائیں اگر اسٹیبلشمنٹ سے بھی بگاڑ لیں گے تو اس چومکھی لڑائی میں ہم اپنی قوت بھی ضائع کر دیں گے اور کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ یہ آصف زرداری ہی تھا جس نے میاں نواز شریف کو اپنی تقاریر میں فوج کو براہ راست ہدف نہ بنانے کی بات منوائی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے پاس حکومت جانے کے بعد کا کوئی پلان نہیں ہے پی این اے کی تحریک کے بعد بھی مارشل لا آ گیا تھا۔ ہمیں اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ یہ آصف زرداری ہی تھا جس نے مولانا کی پی ڈی ایم کے لانگ مارچ یا دھرنے کا رخ راولپنڈی یعنی جی ایچ کیو کی طرف کرنے کی مخالفت کر کے اسٹیبلشمنٹ کا دل جیت لیا۔ اس میں مسلم لیگ ن کی خاموش حمایت بھی شامل تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی ایم کی تحریک کے مقاصد کا خلاصہ کیا جائے تو زرداری نہ نواز شریف بلکہ مفاد سب پر بھاری نظر آتا ہے۔ اب پی ڈی ایم اپنے اصل بیانیے سے ہٹ کر زرداری فارمولے کو اپنائے گی۔ دیکھنا ہو گا کہ ایک زرداری سب پر بھاری ہوتا ہے یا اس کا وزن پی ڈی ایم کو ہی لے بیٹھے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.