Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بلوچستان:شہری منصوبہ بندی پر خاطرخواہ توجہ دینے کی ضرورت

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ہفتہ10اکتوبر2020ئ
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے گزشتہ روز صوبے کے ایران سے متصل دور افتادہ ضلع کیچ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تربت اور مکران ڈویژن سمیت مجموعی طو رپر پورے صوبے کی تعمیر و ترقی ، معاشی و معاشرتی استحکام کے لئے ہمہ گیر اقدامات کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی زیر قیادت موجودہ مخلوط صوبائی حکومت صوبے کے تمام اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اورصوبے کے تمام اضلاع میں یکساں ترقی کا عمل جاری رکھنے کے لئے جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس کی بدولت صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کی امید واقع ہوئی ہے چونکہ یہ تقریب تربت سٹی کے ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے فیزIIکا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب تھی اس لئے وزیراعلیٰ جام کمال کی تقریر اور خطاب میں بار بار شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے اقدامات کا عزم ظاہر کیا جاتا رہا ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے جس میں جنوبی بلوچستان کے پسماندہ اضلاع سمیت دیگر علاقوں کے کئی منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر رواں سال کام کا آغاز کیا جائے گا ان منصوبوں میں مواصلات کے شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھائے گئے ہیںانہوںنے بالخصوص مکران ڈویژن میں مواصلات کے شعبے میں جاری اور زیر غور منصوبوں کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ہوشاب تربت روڈ، مند تربت روڈ، مند گوادر روڈ، تربت بلیدہ روڈ، تربت بل نگور روڈ اور پنجگور پروم روڈ پر ترجیحی بنیادوں پرکام کا آغاز کیا جارہا ہے جو مکران ڈویژن کی ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہونگے جن کے مکمل ہونے کے بعد مکران ڈویژن کا رابطہ بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بحال ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت صوبے کے دوسرے شہروں میں بھی اسی نوعیت کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے جس میں پنجگور،دالبندین،نصیرآباد اور دیگر اضلاع شامل ہیں۔ تقریب کے اختتام پر وزیر اعلی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت عوام کی بھلائی کے لیے مختلف قسم کے پروگرام شروع کررہی ہے جس میں لوگوں کو کاروبار کے لیے قرضوں کی فراہمی، زراعت سے وابستہ افراد کے لیے ٹریکٹروں کی خریداری کے لیے خصوصی اسکیم، یوتھ لون اور سرکاری ملازمین کے لیے انشورنس پروگرام بھی شامل ہیں۔ تربت سٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے فیز ٹو کے حوالے سے یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ پونے تین ارب روپے سے زائدکی لاگت سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ تربت شہر کی تعمیر کے حوالے سے ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے جس میں ٹرانسپورٹ کے لئے بھی منصوبے شامل ہیںجبھی تو اس منصوبے سے متعلق وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا ہے کہ یہ ایک جامع منصوبہ ہے جس کی تکمیل کے بعد تربت شہر مکمل سہولیات سے آراستہ ہوکر ایک جدید شہر کا منظر پیش کر ے گا اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں شہر کی سڑکوں کی تعمیرات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں تربت کے ماسٹر پلان کو وسعت دیتے ہوئے شاہراہوں کی تعمیرات کے علاوہ صحت،تعلیم، اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں سمیت دیگر ضروری اسکیمات کو بھی اس منصوبے میں شامل کیاگیا ہے اس سے قبل گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ جام کمال خان سی عزم کا اعادہ کرچکے ہیں کہ حکومت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام بڑے شہروں اور بالخصوص ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ٹاﺅن پلاننگ ، شہری منصوبہ بندی کو یقینی بنائے گی اسے بدقسمتی کہیں یا المیہ کہ باقی صوبائی دارالحکومتوں کے برعکس کوئٹہ ملک کا واحد دارلحکومت ہے جہاں عرصہ دراز سے ماسٹر پلان منصوبے کی صدائے بازگشت تو سنائی دیتی ہے لیکن عملی صورتحال آج بھی یہی ہے کہ اسے کسی بھی زاویے سے دیکھیں تو یہ صوبے کا مرکزی شہراور صوبائی دارالحکومت دکھائی نہیں دیتا کیونکہ یہ شہر ماضی حکومتوں میں مسلسل نظر انداز ہوتا رہا قیام پاکستان سے قبل انگریز دور حکومت میں یہاں آنے والے ایک بدترین زلزلے کے بعد جب شہر کو دوبارہ بسانے کا موقع آیا تو اس وقت کی سرکار نے شہر بسانے سے قبل پہلے قانون سازی کی تعمیرات اور شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے قوانین مرتب کئے انہیں لاگو کیا اس کے بعد شہر کو ابتدائی طو رپر پچاس ہزار نفوس کے لئے ڈیزائن کیاگیا لیکن آج پچاس ہزار نفوس کے لئے بنائے گئے شہر پر محتاط ترین اندازے کے مطابق ڈھائی ملین سے زائد لوگ سانس لے رہے ہیں قیام پاکستان کے بعد بھی وقتاً فوقتاً شہر ی منصوبہ بندی کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جاتے رہے بلوچستان کو جب صوبے اور کوئٹہ کو صوبائی دارالحکومت شہر کا درجہ ملا تو یہاں ادارہ ترقیات کوئٹہ کے نام سے ایک نیا ادارہ بھی قائم کیاگیا یہی ادارہ ترقیات کوئٹہ آج کل کیوڈی اے کہلاتا ہے لیکن آج بھی متعدد معاملات ایسے ہیں جن کے حوالے سے کیوڈی اے ، بلدیہ عظمیٰ کوئٹہ اور دیگر محکموں کے مابین انتظامی مسائل موجود ہیں شہر میں مسائل کی باری آئے تو ہر محکمہ دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اس وقت اندرون صوبہ تو درکنار یہاں کوئٹہ میں بھی ماسٹرپلاننگ نہیں ہورہی شہر چاروں طرف پھیل رہا ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ شہر پر آبادی کے دباﺅ میں اضافہ ہورہا ہے ایسے میں اس بات کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے کہ از سرنو کوئٹہ شہر کا ماسٹرپلان بنا کر شہری مسائل کے حل اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اس ضمن میں موجودہ حکومت کے بعض اقدامات کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی وزیراعلیٰ جام کمال کی قیادت میں موجودہ مخلوط حکومت نے شہر کے ناک نقشے کو درست رکھنے ، اسے اس کا سابقہ حسن اور خوبصورتی واپس دلانے کے لئے متعدد منصوبے شروع کئے ہیں اور متعدد منصوبے زیر غور ہیں ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف کوئٹہ کو اس کا سابقہ حسن اور خوبصورتی واپس دلائی جاسکے گی بلکہ آبنوشی ، نکاسی ، ٹریفک جام ، عمارتی قوانین کی مسلسل پامالی اور دیگر مسائل سے نمٹنے میں بھی خاطرخواہ آسانی او رمعاونت ملے گی پس ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی دارالحکومت کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ضلعی ہیڈ کوارٹرز اور دیگر بڑے شہروں میں بھی شہری سہولیات کی فراہمی اور ماسٹر پلاننگ پر ابھی سے توجہ مرکوز کی جائے تاکہ آنے والے وقتوں میں ان شہروں میں وہ صورتحال جنم لے جس کا سامنا آج صوبائی دارالحکومت کے مکین کررہے ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.