Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بھارت، داعش کے گٹھ جوڑ سے عالمی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیوں کا انکشاف

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

دنیا بھر میں دہشت گردی، خصوصاً دہشت گردی تنظیم داعش کی کاروائیوں، کے سلسلے میں اہم انکشاف ہوا ہے اور بھارت کے داعش سے ایشیا سمیت دنیا بھر کے ممالک میں روابط اور حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

امریکی ادارے فارن پالیسی نے  انکشاف کیا ہے کہ اب داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے شدت پسندوں میں سے اکثریت کا تعلق بھارت اور وسطی ایشیا سے ہے۔

 

افغانستان میں طالبان ان دنوں حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہیں لیکن دوسری جانب داعش کی شدت پسند کارروائیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں۔

حال ہی میں اگست میں افغانستان کے صوبہ خراسان میں داعش نے جلال آباد کی جیل پر حملہ کیا تھا تاکہ اپنے قید ساتھیوں کو رہا کرا سکیں اور اس حملے میں سب سے دلچسپ امر یہ تھا کہ اس میں افغان، بھارتی ور تاجک باشندوں نے شرکت کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اس طرز کے حملوں کی ایک نئی اور خطرناک ترین عمل ہے جس میں بھارت سمیت مختلف ممالک کے باشندوں نے مل کر ایک ہی جھنڈے تلے حملہ کیا ان حملوں میں 2019 میں ایسٹر کے موقع پر چرچ میں کیا گیا حملہ بھی شامل ہے جس میں 300 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

اس کے علاوہ 2017 میں نئے سال کے موقع پر ترکی میں نائٹ کلب، 2017 میں نیویارک شہر میں ٹرک حملہ اور اسٹاک ہوم میں کیا گیا حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں اہم موڑ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران ثابت ہوا اور نوجوان وہاں کا بڑی تعداد میں رخ کر رہے تھے جس میں بھارت اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

تاجک جنگجوؤں کے مقابلے میں ان شدت پسند گروپوں میں بھارتی نوجوانوں سے متعصبانی رویہ رکھا جاتا ہے جہاں انہیں غلام تصور کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ بڑی تعداد میں جوق در جوق اس گروپ کا حصہ بن رہے ہیں۔

بھارت سے افغانستان میں داعش کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے جس کی سب سے بڑی مثال جلال آباد کی جیل پر حملہ ہے۔

اس کے علاوہ کابل میں سکھ گرودوارہ پر حملہ بھی بھارت سے کیا گیا اور داعش نے یہ منصوبہ بہت سوچ سمجھ کر تشکیل دیا تھا۔

 

گزشتہ سال داعش نے باضابطہ طور پر بھارت میں اپنی ایک شاخ کھولنے کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے وہ کشمیر میں نوجوانوں کی ہلاکت پر مسلسل بھارتی فوج سے بدلہ لینے کا اعلان کر رہے ہیں حالانکہ مقامی سطح پر اب بھی وہ عوام میں زیادہ مقبول نہیں کیونکہ کشمیری عوام کا ماننا ہے کہ داعش کی وجہ سے ان کی بھارتی ریاست کے خلاف دہائیوں پرانی جدوجہد پیچیدگیوں کا شکار ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں کے لیے ماحول تناؤ سے بھرپور ہو گیا ہے کیونکہ مودی حکومت نے اپنی انتہا پسند ہندو قوم پرست ایجنڈے کو فروغ دیا ہے۔

فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ سری لنکا میں 2019 میں ایسٹر پر کیے گئے حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تھے اور بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر توجہ نہ دی گئی تو اس کے مستقبل میں عالمی منظر نامے پر تبادہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.