Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

”غداری“ کا طوق : عطاء الرحمن

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نوازشریف اور ان کے چالیس قریبی ساتھیوں بشمول وزیراعظم آزاد کشمیر اور سابق وزیراعظم کے سیاسی سفر میں ہمرکاب تین ریٹائرڈ جرنیلوں کے خلاف مقدمہ بغاوت کے اندراج نے تین مرتبہ منتخب شدہ اور ہمہ مقتدر غیرآئینی قوتوں کے ہاتھوں اتنی بار برطرف ہونے والے سابق سربراہ حکومت اور لندن میں زیرعلاج سیاسی قائد کی عزت اور وقار میں مزید اضافہ کیا ہے…… اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ کھڑی ہیں …… ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے کالموں میں لکھنے والے وہ مبصرین بھی جو ان کی سیاست کے ناقد رہے ہیں ان میں دوچار سرپھروں کے سوا سب نے موصوف کی حب الوطنی کو شک و شبہ سے بالا قرار دیا ہے…… یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان پیغام دینے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ مقدمہ ان کے ایما پر درج کیا گیا نہ ان کی جماعت کا اس سے کوئی تعلق ہے…… موصوف کی کابینہ کے اراکین کی بھاری اکثریت نے ماسوائے دو وزراء کے گزشتہ اجلاس میں اس سے اعلان برأت کیا ہے…… گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے جن کے ساتھ مقدمے کے مدعی اور لاہور کے تین تھانوں کے اندر کرمنل ریکارڈ رکھنے والے بدر رشید ہیرا کی تصاویر وائرل ہوئی ہیں اور جسے تحریک انصاف کا باقاعدہ کارکن بتایا جاتا ہے بڑی سرعت کے ساتھ اس سے اظہار لاتعلقی کیا ہے…… اس ضمن میں ایک کے بعد دوسری وضاحت دینے پر مجبور ہوئے ہیں …… اگرچہ ملک بھر کے قانونی ماہرین کی جانب سے اٹھایا جانے والا سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی واضح اشیرباد کے بغیر پولیس نے کسی بھی عام شہری کی مدعیت میں مقدمہ بغاوت کیسے درج کر لیا اور ’ایف آئی آر‘ کیونکر کاٹ لی جس کی وہ ہرگز ازخود مجاز نہ تھی…… یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے اگر سول حکومت واقعی اس کی ذمہ دار نہیں تو مقدمہ لامحالہ کسی بالائی قوت کے واضح اشارے پر درج ہوا ہو گا…… حکومت کے کچھ ترجمان بھی ٹیلی ویژن پروگراموں میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے زچ ہو کر اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں تو ساراجھگڑا ختم سمجھئے! حکومت سے بالا حکومت یقینا وجود رکھتی ہے اور جب چاہے مرضی کی پالیسی مسلط کر دیتی ہے یا حکم چلا دیتی ہے…… نوازشریف نے 20 ستمبر کو ’اے پی سی‘ کے اجلاس میں لندن سے براہ راست کی جانے والی اپنی تقریر میں یہی الزام لگایا تھا جس پر اتنا بڑا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے درودیوار ہل کر رہ گئے ہیں …… اسی کی بنا پر سابق وزیراعظم پر کبھی بھارتی ایجنٹ اور کبھی غدار ہونے کا طعنہ دیا جا رہا ہے…… لیکن مقدمے کے اندراج کی خبر پر زبردست عوامی اور صاحبان دانش و بصیرت کے ردعمل نے خان بہادر وزیراعظم سمیت پوری کی پوری حکومت کو BACK FOOT پر جانے اور اپنا عیب چھپانے کی خاطر نت نیا جھوٹ بولنے پر مجبور کردیا ہے…… اسٹیبلشمنٹ اپنی چالاکیوں پر مسکرا رہی ہے اگرچہ تیر نشانے پر نہیں لگا جبکہ نوازشریف اہل وطن کے اندر مقبولیت اور پذیرائی کا نیا جلوہ دیکھ کر مطمئن اور مسرور ہیں ……

پاکستان کی پون صدی کو محیط مختصر لیکن بدقسمت سیاسی تاریخ مقتدر قوتوں کی جانب سے ناقد اور مقابلے پر اٹھ کھڑے ہونے والے سیاستدانوں کو غدار قرار دینے کے الزامات سے بھری پڑی ہے……

مرحوم مشرقی پاکستان کا کوئی بھی قدآور سیاستدان شائد اس سے بچا ہو…… ان میں مولوی فضل الحق مولانا عبدالحمید بھاشانی اور حسین شہید سہروردی جیسے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے تحریک قیام پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کا کھل کر ساتھ دیا تھا…… اسی اثناء میں سہروردی مرحوم کو مشرقی پاکستان میں ان کی مقبولیت کی بنا پر کوئی سال بھر کے لئے ملک کا وزیراعظم بھی بنایا گیا…… پھر ان سے بزور طاقت یہ عہدہ چھین لیا گیا…… کیونکہ وہ 1956 کے ملک کے پہلے متفق علیہ آئین کے تحت عام انتخابات کرانے پر تلے ہوئے تھے…… اصل حکمرانوں کو یہ منظور نہ تھا…… بعد میں پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب نے ان پر ایبڈو وغیرہ کی پابندیاں لگا کر عرصہ حیات اتنا تنگ کر دیا وہ مایوسی کے عالم میں بیروت کے ایک ہوٹل میں پڑے مردہ پائے گئے…… لیکن دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اہل وطن کو واضح پیغام دے گئے میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان آخری پل ہوں اگر نہ رہا تو یہ رشتہ ٹوٹ سکتا ہے…… سو وہی ہوا مشرقی پاکستان کے زعماء اور قائد کے ساتھی عوامی لیڈروں کے ماتھوں پر غداری کا لیبل چسپاں کرنے کے ردعمل میں ہمیں شیخ مجیب الرحمن جیسے واقعی غدار کا سامنا کرنا پڑا…… اس نے 1970 کے پہلے عام انتخابات میں وہاں کے عوام کا زبردست مینڈیٹ حاصل کیا…… پھر اس ہیئت مقتدرہ سے جا ٹکرایا جو قوم کے ٹیکسوں سے حاصل کردہ اسلحے اور عسکری طاقت کے زور پر حقیقی عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل نہ کرنے پر تلی ہوئی تھی…… شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا…… شیخ مجیب نے بھارت کی مدد سے پاکستان کو دولخت کر کے بنگلہ دیش بنا ڈالا…… جو آج تک ہمارا منہ چڑا رہا ہے…… شرم اس کے باوجود ہم کونہ آئی…… بقیہ مملکت خداداد یعنی آج کے پاکستان میں بھی زورآوروں نے مارشل لاء لگانے اور فوجی راج مسلط کرنے کی عادت ترک کی نہ غدار بنانے کی فیکٹری بند کی کیونکہ یہ سب کچھ ان کی جبلت میں شامل ہے…… ہر بار چوٹی کے چند افسر یہ کام کرتے ہیں …… جبکہ ہماری عظیم اور وطن کی آن پر مرمٹنے والی فوج جو ملک کا بہت بڑا سرمایہ ہے بدنام ہو رہی ہے…… چنانچہ 1971 کی جنگ کے بعد باقی رہ جانے والے خطہ پاک یعنی آج کے پاکستان کے اندر بھی غداروں کی فصل اُگانے کا کام جاری رہا…… خیبر پختونخوا کے عبدالولی خان سے لے کر صوبہ بلوچستان کے ہر قابل ذکر لیڈر و سردار مثلاً مینگلوں، مریوں، بھگتوں اور خان آف قلات سب کو سندھ کے نام نہاد علیحدگی پسندوں سمیت سب کو غداری کے تمغوں سے نوازا گیا…… جی بھر کر مطعون کیا گیا…… پھر وقتاً فوقتاً انہیں اقتدار میں شراکت کی پیشکش کرنے اور مختلف حکومتوں میں شمولیت کی ترغیبیں دینے میں بھی شرمساری محسوس نہ ہوئی……

متحدہ پاکستان کے زمانے میں ایوب خان نے انتخابات میں اپنے مدمقابل کھڑی قائداعظمؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو بھارتی ایجنٹ کہنے سے گریز نہ کیا…… ظالموں نے عالم اسلام کے گل سرسید مفکر اسلام مولانا مودودی کو امریکی امداد وصول کرنے والا ملک دشمن ٹھہرایا…… مشرقی پاکستان میں شکست کے باعث اپنی کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر عوام کے منتخب کردہ لیڈر اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا…… نوبت نوازشریف تک آن پہنچی ہے تو منہ کی کھانا پڑی ہے…… قصور تین مرتبہ منتخب ہونے والے برطرف شدہ وزیراعظم کا بس اتنا ہے وہ آئین مملکت کے آئین کے الفاظ اور روح کی پاسداری پر اصرار کرتا ہے برملا کہتا ہے تمام اداروں کو سختی کے ساتھ اپنی حدود کے اندر رہنا ہوگا…… جو ماتحت ہے اسے کار حکومت ہرگز اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے…… ظاہری طور پر نہ پس پردہ بیٹھ کر اور عوام جسے حکومت کرنے کا مینڈیٹ دے دیں اس کی راہ میں قدم قدم پر رکاوٹیں نہیں کھڑی کرنی چاہئیں …… اسی مؤقف یا بیانیے کی پاداش میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے لیڈر کے ماتھے پر بھی بھارت کا ایجنٹ ہونے کا لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے…… البتہ یوں ہوا ہے نوازشریف نے تیسرے دور حکومت میں خالصتاً دستور مملکت کے اتباع میں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے تحت آئین کے زندہ غاصب اور اسے دو مرتبہ توڑنے والے جنرل مشرف کے خلاف دفعہ 6 کے تحت مقدمہ قائم کیا…… لمبی سماعتوں کے بعد اسے متفقہ طور موت کی سزا سنائی گئی…… اسی مقدمے کی پاداش میں نواز شریف کی تیسری اور عوام کی مینڈیٹ یافتہ حکومت کو الٹا کر رکھ دیا گیا…… اس امر نے تاہم ہمارے ناخداؤں کی انا کو بری طرح مجروح کیا ہے…… اسی کے شاخسانے کے طور پر وہ کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمات بھگت رہا ہے…… مختلف سزاؤں کا سزاوار قرار دیا گیا ہے اور اب غداری کا  الٹا اسے پہنانے کی سعی ناتمام کی گئی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.