Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : ہزارہ برادری کی فریاد اور وزیراعظم کا بیان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

ظلم و جبر کی داستان پڑھنی ہوتو ہزارہ برادری کے چہرے پڑھ لیے جائیں۔ اس مظلوم قوم پر ہونے والے ستم اور ان کے خون سے کھیلی جانے والی ہولی کی داستان سمجھ آ جائے گی۔ کسی بھی ریاست کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ دنیا کی تمام ریاستیں اپنے شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کی ہر طرح حفاظت کرے تاکہ لوگ عدم تحفظ کی فضاءسے نکل کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ریاست پاکستان اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ ہزارہ لوگوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ کسی طور بھی قابل ستائش نہیں ہے۔ یہ ظلم و جبر کی وہ داستان ہے جسے سننے کی سکت بھی شاید کسی میں نہ ہو۔ دو دہائیوں سے ہزارہ لوگ اپنے ملک میں رہتے ہوئے بیگانگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حکمران آئے اور چلے مگر یہ ظلم اپنی جگہ قائم ہے۔ آئے روز اس قسم کے اندہوناک واقعات ہو رہے ہیںکہ انسانیت بھی شرماجائے۔ مگر افسوس کہ ہماری ریاست ہزارہ برادری کو کسی بھی قسم کا تحفظ دینے سے قاصر رہی ہے۔ ہم اچھے اور برے دہشت گردوں کی چھانٹی کرتے رہے اور وہ ہماری نسلوں کو لہولہان کرتے رہے۔ کبھی فرقہ وارانہ تصادم اور کبھی دہشت گردی اس مظلوم قوم کا مقدر بنی۔ دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی اور دیگر اس قسم کے معاملات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایلشن پلان بنایا گیا تاہم اس پر مکمل اور اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہو سکا جس کی وجہ سے اس قسم کی کارووائیوں میں اضافہ ہوا ۔ سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر وہ کونسی طاقت ہے جو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہونے دے رہی۔ ساری قوم اس پر متفق ہے کہ دیشت گردوں کو انجام تک پہنچانا ہے تاہم اس حوالے سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونا یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب بہت اہم ہے۔ ہزارہ برادری کی تو باقائدہ نسل کشی کی جا رہی ہے۔ نوجوانوں ، بوڑھوں اور بچوں کو بلا تخصیص قتل کیا جا رہے۔ یہ جبر ہو رہا ہے تاہم ہمارے حکمران آج بھی انا کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہزارہ برادری کا یہ مطالبہ کہ وزیر اعظم بھلے ہمارے دکھوں کا مداوا نہ کریں تاہم کم از کم ہمارے دکھ میں شامل تو ہو جائیںمگر افسوس کہ وزیر اعظم اور وفاقی کاوزراءاس معاملے کو بھی سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کی کوئٹہ آمد کو مشروط کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ ریاست مدینہ کے دعوے دار حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ کیا ریاست مدینہ میں یہ کچھ ہوتا تھا۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے تمام مطالبات تسلیم کرچکے، آپ شہدا کی تدفین کریں، آج ہی کوئٹہ آجا¶ں گا، وزیراعظم کے آنے سے مشروط کر کے بلیک میل نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے، جتنا ظلم ہزارہ کمیونٹی پر ہوا پاکستان میں کسی پر نہیں ہوا، ہمارے ملک میں ہزارہ کمیونٹی پر سب سے زیادہ ظلم ہوا، نائن الیون کے بعد ہزارہ کمیونٹی کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، بھارت پاکستان کیخلاف سازش کر رہا ہے۔دوسری جانب سانحہ مچھ کے متاثرین کا غم کم نہ ہو سکا۔ کوئٹہ میں مچھ واقعہ کے خلاف ہزارہ برادری کا لاشوں کے ساتھ دھرنا ساتویں روز میں داخل ہو گیا، شہدا کمیٹی نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کیا جبکہ شرکاءبھی وزیراعظم عمران خان کی آمد تک میتوں کی تدفین سے انکاری ہیں۔گزشتہ روز ملک کے مختلف حصوں سے سیاسی قیادت دھرنے کے شرکا سے یکجہتی کے لئے پہنچی، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کراچی سے کوئٹہ پہنچے اور دھرنے میں شرکت کی، یوسف گیلانی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی ان کے ساتھ تھے، بلاول بھٹو سمیت پی پی قیادت نے لواحقین سے تعزیت کی۔ اسے بھی ایک مشیر خاص نیا اور سیاسی رنگ دینے کو کوشش کر رہے ہیں موصوف نے فرمیا ہے کہ ہزارہ برادری تو میتوں کو دفنانا چاہتی ہے تاہم کچھ لوگ ایسا کرنے نہیں دے رہے۔ ان کا اشارہ یقینا اپوزیشن کی جانب تھا۔ خدارا اس قسم کی صورت حال میں تو سیاست کا کھیل نہ کھیلا جائے۔ مظلوم لوگ اپنے پیاروں کی میتیں سخت ترین موسم میں رکھ کر آسمان کی جانب دیکھ رہے۔ ان کو انصاف دینے کی بجائے ان معاملات کو کسی عمل سے مشروط کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے ۔ دنیا کی ہر ریاست اس کی ذمہ دار ہے۔ آپ تو پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلانا چاہتے ہیں تو زرا سوچیں کہ ریاست مدینہ کے حکمران ایسا کرتے تھے۔ وزیر اعظم صاحب کو سوچنا چسہیے کہ وہ حکمران ہیں اور لوگوں کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے، ایسے میں اس قسم کے بیانات دے کر مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم پہلے دن ہی جاکر ہزارہ برادری کو گلے لگا لیتے مگر جانا تو دور کی بات اگر مگر سے مشروط کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ ایک طرف میتیں سٹکوں پر پڑی ہیں دوسری جانب حکمران کہہ رہے ہیں کہ بلیک میل نہیں ہوں گا۔ اس قسم کی گفتگو زیب نہیں دیتی۔ آپ کا کام لوگوں کو تحفظ دینا ہے جس میں آپ ناکام ہوئے ہیں۔ ملکی ادارے ناکام ہوئے ہیں۔ ایک ہی قوم یا برادری کے خلاف انسانیت سوز ظلم آخر کب تک جاری رہے گا۔ یہ الگ سوال ہے کہآیا اس میں ملوث کون ہے، کیا بیرونی طاقت شامل ہے ۔ مگر یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ریاست تحفظ دینے میں کیوں ناکام رہی ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ تو نہیں ہے سالہا سال سے ظلم کی یہ داستان لکھی جا رہی ہے۔ آخر ہزارہ قوم کا صبر جواب دے گیا ہے وہ کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں، نہ ان کی جان، نہ مال اور نہ املاک محفوظ ہیں۔ اس واقعے سمیت ماضی کے سانحات میں جو بھی ملوث تھا یا ہے اسے تو سزا ملنی ہی چاہیے تاہم ہمارے ادارے بھی تو اپنا احتساب کریں۔ ہمارے حکمران ماضی سے حال تک ہر معاملے کو سیاست کی نذر کرتے رہے ہیں۔ مگر کسی نے بھی درد دل سے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ آج حالات قابو سے باہر ہیں تو اس کی ذمہ داری ماضی اور حال کے حکمرانوں پر ہے۔ سارا ملک احتجاج کر رہا ہے۔ ہر شہر میں دھرنا دے دیا گیا ہے۔ دھر کراچی میں بھی سانحہ مچھ سے اظہار یکجہتی کیلئے شہر کے 30 مقامات پر احتجاجی دھرنے جاری ہیں، دھرنوں کے باعث شہر کی مین شاہرایںبلاک ہیں۔ گھروں سے نکلنے والے شہری سڑکوں پر رل گئے۔شارع فیصل، یونیورسٹی روڈ، ایم اے جناح روڈ سمیت آئی آئی چندریگر روڈ سمیت دیگر پر ٹریفک معطل ہے۔ مرکزی دھرنا نمائش چورنگی پر جاری ہے جبکہ کورنگی، ناظم آباد، گلستان جوہر، سٹیل ٹا¶ن، عائشہ منزل، سرجانی ٹاون، شاہ فیصل کالونی، ملیر، کورنگی انڈسٹریل ایریا سمیت تیس مقامات پر بھی چند مظاہرین نے سڑکیں بند کر رکھی ہیں۔ یہی حال لاہور کا ہے داخلی اور خارجی رستے بند کر دیے گئے ہیں۔ لوگ گھروں سے نکل آئے ہیں۔ ایسے میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنی دیگر مصروفیات کو ترک کریں اور فوری طور پر کوئٹہ جائیں تاکہ شہداءکی تدفین بھی ہو سکے اور ہزارہ برادری کو اس بات کا احساس بھی ہو کہ وہ پاکستانی ہیں۔ وہ اس ملک کے شہری ہیں اس ملک کا قانون انہیں بھی مکمل تحفظ دیتا ہے۔ سیاست سے بالاتر ہو کر حکومت ، اپوزیشن اور عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس معاملے کہ تہہ تک پہنچیں۔ یقینا بھارت بلوچستان میں بد امنی پھیلانا چاہتا ہے۔ وہ ماضی میں بھی اس قسم کے گھناﺅنے کھیل کھیلتا رہا ہے۔ تاہم آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو تحفظ کیوں نہ دے سکے۔ اس معاملے کا حل بے حد ضروری ہے اگر حکمرانوں نے بصیرت سے کام نہ لیا تو حالات قابو میں نہیں رہیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.