Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اپنی ہی سرزمین پہ مظلوم ہیں ہم تو

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سید صفدر رضا

یہ قوم ہے حسینی اور حسین علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے قبل بھی ظلم کا شکار رہنے کے باوجود پاکستان ڑندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہیں ان سے زیادہ پر امن کون ہو سکتے ہیں جنہوں نے پہلے بھی ظلم کا سامنا کرتے ہوئے کوئی ایک بار نہیں کئی بار جنازے اٹھائے اب بھی ان کا مطالبہ مدینہ کی ریاست کے امیر کے آنے کےلیئے ہے کہ وہ ریاست کے پر امن شہریوں کے زخموں پر مرہم رکھیں۔اگر وزیر اعظم پہلے دن ہی آجاتے تو پوری دنیا میں جگ ہنسائی نہ ہوتی۔ ہمارا تشخص جس طرح سے متاثر ہوا ہے سر شرم سے جھک جاتا ہےاب جنازے مرد نہ اٹھائیں گے عورتیں اٹھائیں گی مرد باقی نہ بچے ہیں قاتل صرف ہزارہ کے قاتل نہیں بلکہ پاکستانیوں کے قاتل ہیں سرد ترین موسم میں احتجاج کے باعث مزید موتیں متوقع ہیں کون سا اہم معاملہ ہے جو وزیر اعظم کو لواحقین مچھ کے پاس نہیں آنے دیتے آج اگر تدفین ہو جائی ہے جناب فورا پہنچ جائیں گے اور جیسے سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو گورنر ہاو¿س بلا کر ملاقات کرکے احسان جتایا مجرموں کا کیا؟کچھ پتہ نہیں کیونکہ ہمارے عدالتی نظام سے منسلک اداروں کی ناقص کار کردگی سے انصاف ملتا یا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ ہم ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت میں دیکھ رہے ہیں کہ کوئی بھی کام ڈھنگ سے ہوتا دیکھائی نہیں دیتا اگر عدلیہ میں وکلا کو۔گواہوں کو استغاثہ کو مدعیوں کو پراسیکیوٹرز کوکسی ایک کو اس آئین جو چودہ سو سال پہلے آچکا اس پر عمل پیرا نہیں یا ہمارے آئین کی جس پر بنیاد ہے وہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا ہمارے معاشی سماجی گھریلو جمہوری ضابطہءحیات کی وہ تعلیمات گم ہوگئی ہیں جو ملت اسلامیہ کا خاصہ جانی جاتی ہیں ہماری قومی سیاست ایسے اہم معاملے میں مل کر متاثرین سے اصل ہمدردی کے اظہار کے بجائے آپسی بے راہروی،کدورت۔دشمنی،شب وستم طنز ودشنام کے موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مظلوموں کی داد رسی کرنے کو کوئی تیار نہیں اس کی واحد وجہ آئین اسلام سے دوری ہے کوئی اس پر بات نہیں کر رہا کہ جس بہیمانہ انداز میں بے ضرر اور مظلوم اور کسب روزگار پر جانے والوں کو قتل کیا گیا اور ظالم یہ واردات کر کے غائب ہونے میں کامیاب۔حالانکہ کے دنیا کی بہترین IB,فوج ،ISI,اور دیگر ایجنسیوں کی موجودگی میں بار بار یہ غریب محب وطن ہزارہ کمیونٹی کے افراد ہی گزشتہ دو دہائیوں سے زیر عتاب کیوں ان کی مالی امداد کر دینا ہی کافی نہیں مدینہ کی ریاست میں عزت نفس اور زندگی کی ضمانت دینا ہر دور کی حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر وزیر اعظم پہلی فرصت میں ہی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی طرح متاثرین کے ساتھ ہوتے تو آج آپ کا سیاسی قد بڑا ہوتا مگر دیر کر کے آپ سوال اٹھانے پر مجبور کر چکے ہیں آپ نے دھرنا سیاست ان مظلومین سے ہی سیکھا ہے ان کے دھرنے میں کوئی پتا نہیں ٹوٹاکوئی شیشہ نہیں ٹوٹا یہ تو کہا جارہا ہے تدفین کر دیں مگر حکومت کے نو رتن وزیراعظم کو نہیں جانے دے رہے یا وزیراعظم خاص مقاصد کے حصول کی خاطر نہیں جارہےکیا ہم قرآن مجید کی تعلیمات کو یکسر بھلا چکے ہیں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اگر بقائے انسانیت کی خاطر وزیر اعظم چلے جاتے تو کچھ حدتک لواحقین کا غم بٹ جاتا مگر ان بہنوں بیٹیوں کے دکھ کا مداوا کرنے میں حکومت بالکل ناکام نظر آتی ہے اس وقت اپوزیشن یا دیگر کو باتوں میں الجھنے کا وقت نہیں بلکہ قومی سطح پر متحد ہونے کی ضرورت ہے اگر وزیراعظم مزید دیر کریں گے تو اس قوم کی جس کو ہزارہ کہہ رہے ہیں آپ کو جھکنے پر مجبور کر دیگی کیونکہ یہ دھرنوں کا سلسلہ ملک گیر پھیل جائے گا دھرنا ختم کرنے پر جتنا زور وزراءکا ہے کاش وزیراعظم کو وہاں بھجنے کے لیئے دس فیصد کوشش کرتے تو بہتر ہوتا۔اب پانچ دن بعد حکومت کو خیال آیا کہ یہ ہزارہ نہیں افغانی ہیں کیا مذاق اڑایا جارہا ہے شہدا کا حکومت اپنے پوشیدہ مقاصد واضح کرے نہ کہ منفی 7ڈگری پر بیٹھی ماو¿ں بہنوں بیٹیوں کے سر پر دست شفقت نہیں رکھ سکتے تو ایسا گھناو¿نا مذاق مت کریں ہمارا سلام شہداءوطن انکے لواحقین پر جو دست دعا بلند کر کے عرش الٰہی ہلادیں گی اور آپ اپکے پاس بچاو¿ کی کوئی صورت نہ ہوگی مظلوموں کی آہ سے ڈرو ورنہ آپکا آنے والا وقت ٹرمپ سرکار سے مختلف نہ ہوگا کیونکہ اللہ ہمیشہ مظلومین کی سنتا ہے۔پھر آپ ان سے NROمانگتتے رہوگے آپ کو شہدا کے ورثہ نہ دیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.