Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : پی ڈی ایم: لاہور جلسہ اور ممکنہ فیصلے!!!

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز یقینا اس وقت پاکستانی سیاست میں چھائی ہوئی ہیں۔ میڈیا ، سوشل میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا بھی ان کی بات کو اہمیت دے رہا ہے۔ سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر سب یہ مانتے ہیں کہ مریم نواز اس وقت ملکی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں ۔ مسلم لیگ ن جو کہ نواز شریف کی علالت بعد ازاں علاج کی غرض سے باہر جانے اورمسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کے جیل جانے کے بعد مسلم لیگ ن میں قیادت کا فقدان تھا۔ ایک خلا تھا جس کی وجہ سے کارکنان میں بھی سنجیدہ نوعیت کی تشویش پائی جاتی تھی ۔ ایک وقت میں اس قسم کی گفتگو شروع ہو گئی تھی کہ شاید مسلم لیگ توڑ پھوڑ کا شکار ہے اور اب یہ جماعت اپنا وجود کھو دے گی۔ ہماری تاریخ موجود ہے کہ کئی سیاسی جماعتوں کو بیایا اور ختم کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کی قیادت کی معنی خیز خاموشی نے بھی سیاسی پنڈتوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ یہ سکوت اس وقت ٹوٹا جب مریم نواز شریف کھل کر میدان عمل میں آئیں، سیاسی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ کارکنان میں بھی جوش و جذبہ بیدار ہو گیا ۔ قیادت کا فقدان ختم ہوا اور واضح لائن کے ساتھ مریم نواز نے اپنی نئی اننگز کا آغاز کیا۔ پی ڈی ایم کے وجود میں آتے ہی ملکی سیاسی پارہ بھی سوا نیزے پر آ گیا۔ گوجرانوالہ کے جلسے سے جو تحریک شروع ہوئی وہ کراچی سے ہوتے ہوئے پشاور اور پھر ملتان تجک کے سفر میں اپنا وجود منوا چکی ہے۔ ملتان کے جلسے کے بعد حکومت کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کیونکہ حکومت وقت پی ڈی ایم کو کسی صورت سنجیدہ لینے کو تیار ہی نہیں تھی مگر اب حکومت پریشان بھی ہے اور سوچنے پر مجبور ہے۔ خلاف توقع لوگوں کی بڑی تعداد بھی جلسوں میں شامل ہو رہی ہے۔ سیاسی وابستگی ہو یا ملک میں غربت بے روزگاری، مہنگائی اور بنییادی سہولیات کا فقدان مگر عوام نکلی ہے اور اگر یہی حالاے رہے تو غیر جانب دار طبقہ بھی سڑکوں پر آ جائے گا۔ حکومت وقت کے لیے بیک وقت دو چیلینج موجود ہیں ایک پی ڈی ایم اور دوسرا غربت، بے روزگاری اور مہنگائی، ایسے میں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی یا شو ہوتا ہے تو یقینا حالات کے مارے لوگ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ لاہور کے جلسے کی بات کی جائے تو تاریخ کہتی ہے کہ اس شہر بے مثال نے جسے عروج بخشا پھر وہ کامیابی کے زینے چڑھتا گیا اور جسے زوال دیا تو کبھی اٹھ نہ سکا۔ اس شہر نے ذوالفقار علی بھٹو کو بنایا، نواز شریف کو عروج دیا، محترمہ بے نظیر بھٹو کو سر پر بٹھایا اور پھر موجودہ حکمران عمران خان کو بھی 2011میں وہ تاریخ ساز کامیابی دی کہ پھر اقتدار ان کا مقدر ٹھہرا بھلا وہ جیسے بھی آئے، جس کے کندھے نے سہارا دیا مگر ان کو عروج شہر لاہور نے ہی دیا تھا۔ لاہور میں ایک مرتبہ پھر سیاسی میدان سجنے کو تیار ہے مگر فرق یہ ہے کہ کھلاڑی بدل چکے ہیں۔ اس بار بھی سیاست میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ پی ڈی ایم قیادت پر جوش ہے اور لاہور کے جلسے کو لیکر کسی بڑی تبدیلی کے امکانات پر بات کر رہی ہے۔ پر امید پی ڈی ایم قیادت اپنی حکمت عملی سے تو پردہ نہیں اٹھا رہی کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہے مگر ممکنہ امکانات یہی ہیں کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوں اور شہر اقتدار کی طرف فیصلہ کن مارچ یہ وہ ممکنہ اقدامات یا اعلانات ہیں جو پی ڈی ایم قیادت کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے تضاد بھی ہے کہ پیپلز پارٹی اپنا ایک جاندار مﺅقف رکھتی ہے۔ وہ شاید اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہو یا اس حوالے سے کسی دیگر آپشنز پر کام کرے مگر مولانا فضل الرحمٰن شروع دن سے ہی اس بات کے حامی تھے کہ حلف ہی نہ لیا جاتا یا مستعفی ہو کر نئے انتخابات کی راہ یموار کی جاتی۔ مسلم لیگ ن کا ان سے مﺅقف قدرے مختلف تھا مگر مریم ، شہباز اور حمزہ ملاقات کے بعد مریم نواز کا واضح پیغام سامنے آیا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاہور جلسے کو آخر میں اس لیے رکھا کیونکہ یہ فیصلہ کن ہوگا۔مریم نواز نے بھی لاہور کے جلسے کو اپوزیشن کا آخری جلسہ ہونے کی تصدیق کردی۔لاہور میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ لاہور کے جلسے کو آخر میں اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ فیصلہ کن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت کے جانے کے دن گنے جاچکے، جعلی وزیراعظم کے گھر جانے کی باری بھی آگئی ہے۔ن لیگی نائب صدر نے مزید کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی حکومت کو گھر بھجوانے کی ذمے داری لاہور پر ڈالی ہے۔انہوں نے شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے لاہور کے جلسے کا آغاز آج سے ہی کر دیا، میں جعلی وزیر اعظم کا نیا نام تابعدار خان رکھ دیا ہے۔مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ تابعدار خان کل کہہ رہے تھے کہ لاہور کا جلسہ نہیں روکوں گا، انہیں پتہ تھا کہ لاہور کا جلسہ نہیں رکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جعلی وزیراعظم کہہ رہا تھا کہ جلسہ نہیں روکوں گا مگر کرسیاں نہیں دیں گے، میں پوچھتی ہوں اس وقت جو لوگ موجود ہیں کیا انہیں کرسیوں کی ضرورت ہے؟
سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے جلسے کے شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ لوگ مجھے یہ بتائیے کیا جعلی حکومت روکے گی تو ہم رک جائیں گے؟، اگر مینار پاکستان میں جلسہ کی اجازت نہ ملی تو آپ جلسہ نہیں کرو گے؟۔اگر ملتان میں جلسہ ہوسکتا ہے تو لاہور تو پھر لاہور ہے، اس شہر نے قوم کو میاں نواز شریف جیسا بیٹا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میرا گھر ہے، میں خود آپ سب کو جلسے کی دعوت دینے آئی ہوں، آپ 13دسمبر کے جلسے میں آئیں اور ملک کو بیروزگاری اور مہنگائی سے نجات دلائیں۔ن لیگی نائب صدر کا کہنا تھاکہ 13 دسمبر کو لاہور فیصلے کردے گا، اس دن آر یا پار ہوجائے گا، لاہور جلسہ بتادے گا جعلی حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں، جعلی وزیراعظم کے جانے کے چند دن رہ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم قیادت مستعفی ہونے کے فیصلے پر اتفاق رائے قائم کر سکے گی۔ اگر فیصلہ ہو بھی جاتا ہے تو اس کے نتائج پی ڈی ایم کی سوچ کے مطابق نکل سکیں گے۔ اگر ان ہاﺅس تبدیلی پر اتفاق رائے ہو جائے تو کون سی ایسی شخصیت ہوگی جس پر سب سیاسی جماعتیں متفق ہوں گی۔ یا عام انتخابات کروانے کی بات ہوئی تو ملکی موجودہ صورت حال میں یہ ممکن ہو سکے گا۔ یا کوئی ایسا سیٹ اپ آ جائے گا جو مخلوط ہو اور کم از کم ایک سال تک رہے ۔ بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔ بہت سے سوال ہمارا ماضی اور حال بھی ہے۔ ایسے میں سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ساری زمہ داری اب حکومت اور مقتدر حلقوں کی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہنگامہ خیزی میں نقصان ملک کا ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تیسری قوت کو براہ راست یا بالواسطہ آنا پڑے یا مین کردار نبھانا پڑے ایسی صورت حال میں کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ سب کے حق میں ہے کہ ایسا فیصلہ کیا جائے جس سے کم از کم لولی لنگڑی جمہوریت کی گاڑی چلتی رہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.