Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

میڈیا انڈسٹری کا بحران

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: سیّد عارف نوناری

 

ذرائع کمیونیکیشن ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اب پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دو عشرہ قبل میڈیا انڈسٹری اتنی مشکلات کا شکار نہیں تھی اور نہ ہی میڈیا میں اتنی وسعت تھی لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ میڈیا انڈسٹری میں بھی جدیدیت آتی گئی اور یہ شعبہ بھی زراعت، صنعت کی طرح اب ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں بے شمار افراد اس شعبہ کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن یہ لوگ جنہوں نے عوام کو آگاہی راہنمائی اور ریاست کی سمت درست کرنی ہے شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت پاکستان میں اشتہارات کی مد میں اخبارات اور چینلز کو جو آمدنی ہوتی تھی بند کر رکھی ہے اور جو سابق اشتہارات کی اشاعت کے سبب بلز تھے، ان کی ادائیگی بھی اخبار مالکان کو نہیں ہوئی ہے۔ میڈیا چونکہ اب باقاعدہ ایک صنعت کی حیثیت اختیار کر کے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور وسائل کو بہتر طریقہ سے استعمال کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ میڈیا بحران اب اتنی شدت اختیار کر چکا ہے کہ پاکستان میں بے شمار خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ اخبارات اور چیلنز سے وابستہ خاندانوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ یہ صنعت چھوڑ کر کسی اور کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے ہیں۔ صحافتی تنظیمیں آئے دن اپنے مطالبات کے حق میں حکومتی عہدیداران سے ملاقاتیں کرتی ہیں۔ لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے ہیں۔ صحافتی خاندانوں اور انٰ کے بچوں کا کیا قصور ہے، جو اپنے بچوں کی سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی فیسوں کی ادائیگیوں کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔ جہاں ملک پاکستان کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے قواعد و ضوابط اور قوانین نافذ ہیں۔ وہاں صحافتی اداروں کو بھی صحافیوں کے لیے قواعدو ضوابط اور حکومت کی طرز پر سکیل اور قوانین ایسے بنانے چاہئیں جو کہ ان کے مستقبل کا تحفظ کر سکیں۔ معاشرہ میں صحافیوں کا طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اخباری دنیا چونکہ صنعت کا درجہ رکھتی ہے لہٰذا ان کو سرکاری ملازمین کی طرح سہولیات اور تنخواہیں ادا ہونی چاہئیں اور یہ بھی اپنے تحفظ کے لیے لیبر کورٹ یا کسی اور کورٹ سے رجوع کر سکیں۔ اگر معاشرہ کی سمت درست کرنے والے اور معاشرہ و ریاست کی اصلاح کرنے والے مشکلات کا شکار رہیں تو پھر ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ اگر فیکٹری ورکرز کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کا حق حاصل ہے، تو ان کو کیوں نہیں ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس عرصہ دراز سے صحافیوں کے حقوق کے لیے مطالبات کرتے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں صحافیوں کی دیگر تنظیمیں بھی متحرک ہیں۔ ان کے مطالبات میں صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون سازی، پریس پر پابندیوں اور صحافیوں پر سائبر کرائم مقدمات میں اضافہ، صحافیوں کے خلاف جسمانی حملوں، اغوا، لاپتہ ہونا اور قید و تشدد جیسے واقعات میں اضافہ ہونا بھی شامل ہے۔ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں صحافیوں اور میڈیا حملہ کرنے والوں کو سزا نہیںملتی۔ کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے کہ پاکستان ایک جمہوری اور آئینی ملک ہے لیکن یہاں صحافیوں کا کوئی والی وارث نہیں۔ قانون میں ان کو کوئی تحفظ نہیں ہے۔ پاکستان کے بے شمار اشاعتی اداروں اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ اداروں نے صحافیوں کو ہزاروں کی تعداد میں برطرف کر دیا ہے۔ ایک طرف حکومت نے پی آئی ڈی اور ڈی جی پی آر کے ذریعہ جو اشتہارات اخبارات کو ملتے تھے، وہ بند کر دیے ہیں۔ جس سے آمدنی کا ایک نسبت بڑا ذریعہ اخبارات کا ختم ہو گیا ہے۔ اشاعتی ادارے شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے تو انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں اخباری ورکرز کو فارغ کر دیا جس کے سبب صحافیوں کے خاندان بھی شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان صحافیوں کے بچوں اور بیوﺅں کا کیا قصور کہ ان کے خاندان متاثرین میں شمار ہونے لگے ہیں۔ ان کے بچوںکی تعلیم بند ہو گئی ہے۔ میڈیا انڈسٹری کے بحران کا ذمہ دار کون ہے اور اس انڈسٹری کے مسائل کو کون سی ایسی طاقتیں ہیں جو بڑھاتی رہی ہیں۔ ان میں حکومت اور ریاست کا بھی کردار ہے اور اخبار مالکان کا بھی ہے۔ اخبار مالکان کا بھی ہے۔ اخبارمالکان جو اخباری کارکنوں کے سبب میڈیا گروپس کے مالکان بن گئے ہیں اور جاگیرداروں کی طرح ان کی کرڑوں کی جائیدادیں ہیں انہوں نے اخباری کارکنوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مستقبل کا کبھی نہیں سوچا ہے۔ حکومت نے ملازمین جبکہ فیکٹری ورکرز کو فیکٹری مالکان نے حقوق اور سہولیات قوانین پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ لیکن اخبار مالکان نے نہ تو قوانین ان کے لیے تشکیل دیے بلکہ الٹا ان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ حکومت نے صحافیوں کو میڈیکل، انشورنس اور ان کے بچوں کو خصوصی تعلیمی سہولیات سے بھی محروم رکھا۔ حالامنکہ جہاں سرکاری ملازمین کے بچوں اور فیکٹری ورکرز کے بچوں کو تعلیمی سہولیات سکالر شپ کی صورت میں دیتی ہے اگر صحافیوں کے بچوںکو بھی دے دے تو کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ ان کے بچے بھی معاشرہ کا حصہ ہیں۔ میڈیا روز شپ مانیٹران پاکستان کے مطابق 2017ءسے اب تک پاکستان کے پورے میڈیا ایڈورٹائزنگ مارکیٹ کے اشتہارات کی مد میں آمدن مسلسل گر رہی ہے۔ جو کہ 2017ءمیں 87.7 بین روپے تھی جو مسلسل گری ہے۔ یعنی عمران خان کی حکومت میں میڈیا امنڈسٹری زیادہ زوال پذیر رہی ہے۔ جبکہ عمران خان حکومت کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی حکومت نے میڈیا اشتہارات کی مد میں مسلسل اضافہ کیا ہے جس کو قائم رکھنا مشکل ہے۔ عمران خان کی حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ میڈیا آزاد ہے۔ جبکہ صحافتی تنظیمیں اس ریاستی موقف کو مسلسل ماننے سے انکار کر رہی ہیں۔ اگرچہ مجموعی طورپ ر ملک معاشی بدحالی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ جس کا سبب بین الاقوامی سطح پر کرونا کا پھر نمودار ہونا ہے اور اس کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کرونا کے سبب دنیا کا ہر شخص متاثر ہوا ہے لیکن ایسے کرونائی بحران میں صحافیوں کے خاندانوں کا بچانا بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونا چاہیے۔ کئی عشروں سے صحافی ورکرز مشکلات اور مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں اور پستے ہی جا رہے ہیں۔ ریاست و حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور میڈیا انڈسٹری کے خطرناک بحران کے سدباب کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ تاکہ صحافی بھی نارمل زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.