Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

”وباءاور معیشت“عالمی مالیاتی ادارے کی نئی پیش گوئی !!

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جمعرات8اکتوبر2020ئ
پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کی معاشی اور معاشرتی تاریخ میں رواں برس اپنے وبائی پس منظر کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا گو کہ روا ں برس بین الاقوامی سیاسی منظرنامے پر بھی غیر معمولی حالات پیش آئے دنیا نے نئی جنگوں اور نئے مناقشوں کا بھی مشاہدہ کیا مختلف شعبوں میں اہم ایجادات بھی ہوئیں اہم اہداف بھی سر کئے گئے مگر اس کے ساتھ ساتھ رواں برس کے آغاز پر سراٹھانے والی وباءکوویڈ۹۱کے اثرات سے ہنوز دنیا نہیں نکلی اور اب ایک ایسے وقت میںجب پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں وباءکی نئی لہر کے خدشات سراٹھارہے ہیں معیشت اور معاشرت پر اثرات مرتب ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور دنیاسرجوڑ کر وبائی حالات سے نکلنے یا پھر وباءکے ساتھ زندگی جینے کے امکانات اور موقع تلاش کررہی ہے نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ممالک بھی وبائی حالات سے جلداز جلد نکلنے کے لئے پرامید ہیں ایسے حالات میں گزشتہ روزعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے عالمی معیشت سے متعلق ایک ایسی پیشگوئی سامنے آئی ہے جس نے دنیا کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیاہے یہ پیشگوئی آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹلیناجارجیوا نے کی ہے جس کے مطابق اگر وباءسے نمٹنے کی مالی امداد ختم کی گئی اور حکومتیں وباءپر مکمل قابو پانے میں ناکام ہوئیں اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس کے قرضوں کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا تو عالمی معیشت کو بحرانی کیفیت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔یہ بات انہوںنے گزشتہ روز لندن سکول آف اکنامکس کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ہے اور کہا ہے کہ آئی ایم ایف آئندہ ہفتے اپنی عالمی اقتصادی پیداوار کی پیش گوئی تھوڑی سی بہتری کی طرف نظر ثانی کرے گا۔انہوںنے دوباتوں کی نشاندہی کی پہلی یہ کہ عالمی معیشت اس بحران کی گہرائی سے باہر آرہی ہے اور دوسری بات یہ کہ ان کے بقول یہ تباہی ابھی خاتمے سے بہت دور ہے، تمام ممالک اب اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جسے انہوںنے طویل راستے سے مشابہت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک طویل راستہ ہے ایک مشکل چڑھائی جو طویل، ناہموار اور غیر یقینی ہوگی اور اس میں نقصان کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہبارہ کھرب ڈالر کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ چند غیر معمولی مالیاتی آسانیوں سے کئی بڑی معیشتوں بشمول امریکا و یورو زون کو وبا سے نکلنے میں مدد ملی ہے جبکہ کاروباری شعبوں نے کورونا وائرس کے بہتر طریقے سے کام کرنے کو ثابت کیا ہے انہوں نے چین کی بھی مثال دی کہ وہاں کی صورتحال آئی ایم ایف کی امید سے بھی تیزی سے بہتر ہوگئی ہے ان کے بقول عالمی معیشت جون کی نسبت ( جب وبائی حالات اپنے عروج پر تھے ) نسبتاً کم خطرناک حالت میں ہے تاہم اگر حکومتیں مالی امداد کو ختم کردیں اور قرضوںکے مسائل کو نظر انداز کردیں اس سے دوبارہ بحران سراٹھائے گا اس سے قبل رواں سال جون میں عالمی مالیاتی ادارے نے کورونا وائرس کے باعث عائد معاشی بندشوں اور لاک ڈاﺅن کے پیش نظر جو اعدادوشمار جاری کئے ان کے مطابق عالمی مجموعی پیداوار میںشدید کمی واقع ہوئی ہے جو آئی ایم ایف کے بقول عالمی معیشت کی 90سالہ تاریخ میں سب سے نمایاں کمی تھی اس دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں حکومتوں نے وبائی حالات سے نمٹنے کے لئے دیگر ہمہ گیر اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشی منظرنامے پر بھی خاطرخواہ توجہ جبھی تو ایک مہینے بعد یعنی جولائی میں جب آئی ایم ایف نے ہمارے اس خطے میں معاشی سست روی سے خبردار کیا وہاں اسی مہینے آئی ایم ایف نے پاکستان میں جلد ہی معاشی بحالی کی بھی پیش گوئی کی اور اپنی جاری کردہ رپورٹ میں یہ قرار دیا کہ مالی سال 2021 میں پاکستان میں بتدریج معاشی بحالی متوقع ہے آئی ایم ایف مختلف ممالک کی معیشت سے متعلق وقتاً فوقتاً اعدادوشمار پر مشتمل رپورٹس کا اجراءکرتا ریتا ہے کورونا وائرس کے دوران بھی آئی ایم ایف نے اس طرح کی رپورٹس کا اجراءکیا جس میںمختلف ممالک میں وبائی حالات سے نمٹنے ، سماجی اورمعاشی مسائل کے حل کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کے حوالے سے پیش گوئیاں بھی شامل تھیں اور حالات کی بہتری کے لئے نگارشات بھی جہاں تک آئی ایم ایف کی حالیہ نئی پیش گوئی کا تعلق ہے تو عالمی معیشت کے تناظر میں اسے سرسری طورپر لینے کی بجائے ضروری ہے کہ نہ صرف ترقیافتہ ممالک بلکہ خود آئی ایم ایف بھی اس کے تناظر میں اقدامات اٹھائے ترقی پزیر ممالک بالخصوص وہ ممالک جو آئی ایم ایف اور مختلف ممالک کے قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں انہیں قرضوں کی ادائیگی سے لے کر بے روزگاری سے نمٹنے اور اپنے شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لئے وبائی حالات میں غیر معمولی حالات کا سامنا ہے کوئی شک نہیں کہ حکومتیں اپنے طو رپر مسائل سے نمٹ رہی ہیں وسائل خرچ کئے جارہے ہیں لیکن ظاہر سی بات ہے کہ جب تک اس حوالے سے معاشی طور پر مستحکم ممالک معاشی تنزلی یا ابتری کے شکار ممالک کے ساتھ تعاون کی خو نہیں ڈالتے اس وقت تک صورتحال کی بہتری کے امکانات بہت کم ہیں اب تو آئی ایم ایف بھی یہ قرار دے چکا ہے کہ بحران سے مکمل طور پر نکلنے کے لئے آگے کی صورتحال ایک لمبے اور کٹھن راستے کے مترادف ہے اس لئے ضروری ہے کہ پوری دنیا سر جوڑ کر بیٹھے کہ اس کٹھن مسافت کو کس طرح طے کیا جاسکتا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.