Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ترقیاتی پیکج ،جنوبی بلوچستان کی اصطلاح ا و رتحفظات

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

جلال نورزئی

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ مہینے اپنے دورہ کوئٹہ کے موقع پربلوچستان کے جنوبی اضلاع کی ترقی کے لیے پیکج کا اعلان کیا ۔جس کے لیے وزیراعظم نے ”جنوبی بلوچستان “کی اصطلاح استعمال کی ۔ بلوچستان حکومت کو ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ پیکیج کے حوالے سے مشاورت ہورہی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اس ٹاسک کے لیے نگران ہیں۔ چناں چہ جنوبی بلوچستان کے الفاظ پر صوبے کی بڑی جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی نے اعتراضات و تحفظات پر مبنی نکات اُٹھائے ہیں ۔ کہ یہ اصطلاح دراصل بلوچستان کو انتظامی اور جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کی راہ ہموار کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے اخبارات میں چھپنے والے بیانات ایسی کسی بھی منصوبہ بندی کے خلاف سیاسی مزاحمت کی دھمکی دی ہے۔ بی این پی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر جہانزیب جمالدینی یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ وفاق چاہتا ہے کہ گوادر اور صوبے کے دوسرے ساحلی علاقوں پر مشتمل ایسا یونٹ بنایا جائے جو براہ راست وفاق کے تصرف و زیر انتظام ہو۔ نیزنیشنل پارٹی کے دو روزہ مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے اعلامیہ میں ساحل بلوچستان کے ساتھ کراچی کے ساحل کو ملاکر ایک وفاقی یونٹ بنانے کے ماسٹر پلان کی تشکیل کا الزام عائد کیا گیا ہے، کہ منصوبہ سندھ اور بلوچستان کی تقسیم کا آغاز ہے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بھی کہہ چکے ہیں کہ جنوبی بلوچستان کا نام استعمال کرکے خدشا ت جنم لے چکے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں زیر گردش یہ بھی ہے کہ دونوں صوبوں کے جزائر وفاق زیر کنٹرول لے رہا ہے۔اس سلسلے میں اب پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020 ءکا اجراءبھی کردیاگیا ہے ۔ اتھارٹی چیئرمین کی تقرری کے لیے اخبارات میں اشتہارات جاری ہوئے تب جاکر آرڈیننس سے متعلق خبر عام ہوئی۔ آرڈیننس کے مطابق ساحل سے سمندر کے اندر 12 ناٹیکل میل تک کا حصہ اب اتھارٹی کی ملکیت تصور کیا جائے گا ۔یعنی بلوچستان اور سندھ کے ساحلوں پر موجود تمام جزائر اب وفاق کی ملکیت ہیں، جسے شیڈول ون میں رکھا گیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان کی سیاسی ،سماجی حلقوں کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس آرڈیننس پر اظہار خیال کیا اور اسے غیر قانونی کہا ۔ بلاول بھٹو کے مطابق پیپلزپارٹی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے جزائر کے الحاق کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ سینیٹ میں مخالفت کرے گی۔ بلوچستان کی اگر بات کی جائے تو بلوچستان میں اس وقت فرنٹیئر کور بھی ساﺅتھ اور نارتھ یعنی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایف سی نارتھ کا آئی جی کوئٹہ اور ساﺅتھ کا تربت میں بیٹھتا ہے بہر حال یہ درست ہے کہ جنوبی بلوچستان کی بجائے صوبے کے جنوبی اضلاع یا مکران و جھالاوان کا نام استعمال کیا جاتاتو اعتراض نہ ہوتا۔ بلوچستان ملک کا وسیع و عریض صوبہ ہے جس کے مسائل اور پسماندگی اپنی جسامت کی طرح ہی ہےں۔ اس جدید دور میں بھی صوبہ مختلف النوع مسائل سے دو چار اور ضروریات کا متقاضی ہے۔ چناں چہ بلوچستان اگر صوبے کے پشتون بلوچ عوام کے تاریخی خطوں پر تقسیم ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ امن و امان جیسے مسائل پر قابو پانا چنداں مشکل نہ رہے گا ۔اور صوبے کی ترقی دسترس میں ہوگی۔ گوادر بندرگاہ کی فعالیت کے بعد یہ ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جس کے بعد لا محالہ آبادی کا رُخ مکران ڈویژن اور اس سے متصل علاقوںکی طرف ہوگا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی بار ہا کہہ چکی ہے کہ پشتون علاقوں پر مشتمل الگ صوبہ کے قیام پر ان کی جماعت معترض نہیں ہو گی ۔ صوبے کی بڑی پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ملک میں ون یونٹ کے خاتمے کے وقت سے ہی الگ پشتون صوبہ کا مطالبہ رہا ہے۔ اسی بات پر عبدالصمد خان اچکزئی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)سے الگ ہوئے تھے۔ بہر کیف ترقیاتی پیکیج میں مکران ڈویژن کے ساتھ قلات ڈویژن کے اضلاع آواران اور لسبیلہ بھی شامل ہیں۔ جس کے لیے سر دست 200ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس لاگت سے 184سے زائد منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچائے جائیں گے۔ پیکیج دینے کا فیصلہ قومی ترقیاتی کونسل (این ڈی سی ) میں ہوا ہے ۔ یہ تیرہ رکنی کونسل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں جون2019ءمیں قائم کی گئی ۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ بھی اس کے رکن ہیں۔ این ڈی سی نے یہ فیصلہ بلوچستان کے جنوبی اضلاع کیچ۰ تربت)، پنجگور، گوادر، لسبیلہ اور آواران کی عدم ترقی اور پسماندگی کے پیش نظر کیا ہے جہاں مواصلاتی ربط اور سماجی و اقتصادی ترقی کی ضرورت ہے تاکہ ان اضلاع میں معیار زندگی بھی بلند ہو۔ 184 منصوبوں میں مواصلات، زراعت ، آبپاشی، آبنوشی ، صنعت، ماہی گیری ، توانائی ، لائیو اسٹاک ،سرحدی تجارت سمیت مختلف شعبوں کے منصوبے شامل ہیں۔ ضلع آواران کو کراچی ، خضدار اور ضلع کیچ سے ملانے کی خاطر شاہراہیں تعمیر کی جائیں گی۔ سڑکوں کی تعمیر سے ایران کی سرحد کے ساتھ تجارت آسان ہوگی۔ مکران ڈویژن کو نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی۔ ایل پی جی اور ایل این جی ٹرمینلز کا قیام منصوبے کا حصہ ہیں۔ تعلیمی اداروں کا قیام بالخصوص کیڈٹ کالجز منصوبے میں شامل ہوں گے۔ مکران کے اندر کپاس کی کاشت کو فروغ دے کر کاٹن جیننگ ملز بنانے کا پلان ہے۔ کولڈ اسٹوریجز بنائے جائیں گے۔ نیزمکران کی کھجورکی فصل کے لئے پروسسینگ پلانٹس قائم کئے جائیں گے تاکہ مقامی کھجور دوسرے ممالک برآمد کی جا سکے۔ کسانوں اور مالداروں کو بھی فنی معاونت کی منصوبہ بندی ہے۔ ارادے و منصوبے یقینا انقلابی ہیں۔ مگربلوچستان حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہیں۔ بقول بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور بلیدی کے کہ نیشنل پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر کام کے ضمن میں بنیادی کردار کا حامل متعلقہ صوبہ ہی ہوتاہے جبکہ اس بڑے پیکیج کے لیے بلوچستان کے پاس رقم نہیں ہے۔ اس بناءوفاق بلوچستان کی معاونت کرے گا اور رفتہ رفتہ مزید اضلاع بھی پیکیج کا حصہ بنائے جائیں گے۔ گویا مشکل ضرور ہے ۔ وفاقی حکومت یکسوئی کے ساتھ معاونت کرتی ہے تو ان منصوبوں کی تکمیل آئندہ تین چار سالوں میں ہوسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.