Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

نئی افغان عبوری حکومت کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں : چین ، ترکی ، ایران

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بیجنگ : ایک روز قبل افغان طالبان کی طرف سے عبوری حکومت کا اعلان کیا گیا جس کے بعد چین نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی افغان عبوری حکومت کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبنگ نے بیجنگ میں بریفنگ کے دوران کیا۔ بریفنگ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا چین نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے گا یا نہیں۔ جس پر جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئی افغان حکومت کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں، چین افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ افغانستان کے نئے حکام تمام حلقوں اور نسلوں کے لوگوں کی سنیں گے تاکہ اپنے لوگوں کی خواہشات اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کو پورا کر سکیں۔

طالبان حکومت تسلیم کرنے میں جلد بازی نہیں کرینگے: ترکی

دوسری طرف ترک وزیر خارجہ میولوت چاواشولو نے کہا ہے کہ طالبان حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور دنیا کو بھی اس حوالے سے جلدی نہیں ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے اور مختلف عوامل کی بنا پر یہ فیصلہ لیں گے۔

ترک ٹی وی چینل این ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ترکی طالبان کے ساتھ بتدریج تعلقات بڑھائے گا۔ ہمیں اُمید ہے کہ افغانستان میں نوبت خانہ جنگی تک نہیں پہنچے گی۔ اس وقت وہاں معاشی بحران اور قحط کی سی صورتحال ہے اور ہم قطر اور امریکہ سے کابل ایئرپورٹ کے متعلق بات چیت کر رہے ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو تمام گروہوں کی نمائندہ حکومت ہونا چاہیے اور اگر اس میں صرف طالبان ہوئے تو پھر اُن کے مطابق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان کے لیے خانہ جنگی سے بہتر یہ ہوگا کہ وہ تمام دھڑوں کی نمائندہ حکومت بنائیں کیونکہ اسے پوری دنیا قبول کرے گی۔ افغان خواتین کو بھی حکومت میں ذمہ داری دی جانی چاہیے۔

ایران کی جانب سے افغانستان میں ہونیوالی پیش رفت پر تشویش

ایران میں اعلیٰ سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ ایران میں طالبان کی جانب سے جامع حکومت کی تشکیل میں ناکامی اور بیرونی مداخلت تشویش کا باعث ہیں۔

ایران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغان حکام کو امن اور استحکام کو ہر چیز سے بالا رکھنا چاہیے۔

انھوں نے لکھا کہ افغان عوام کے دوستوں کے بنیادی تحفظات یہ ہیں کہ وہاں جامع حکومت کی ضرورت کو نظر انداز کیا تپا، بیرونی مداخلت اور بہت سے سماجی اور نسلی گروہوں کی جنب سے مذاکرات کے ذریعے مطالبات کو پورا کرنے کے بجائے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

ان کی جانب سے یہ بیان طالبان کی نئی عبوری حکومت کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ شامخانی بظاہر طالبان کے پنجشیر میں قبضے پر بھی تنقید کرتے دکھائی دیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.