Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پی ڈی ایم اب نہیں رہی، اس میں واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میاں افتخار

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما میاں افتخار نے کہا ہے کہ شوکاز نوٹس دے کر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) توڑ دی گئی اور پی ڈی ایم اب نہیں رہی تو اس میں واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وفد نے نیر بخاری کی قیادت میں چارسدہ میں اے این پی کے وفد سے ملاقات کی جس میں موجودہ ملکی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نیر بخاری نے کہا کہ آج پیپلز پارٹی کا وفد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اے این پی کے پاس ولی باغ حاضر ہوا اور ہم بالخصوص اسفند یار ولی کی مزاج پرسی کے لیے آئے جن کی طبیعت ناساز ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ملاقات میں اسفند یار کی طبیعت دریافت کی گئی اور ساتھ ساتھ ملکی سیاسی صورتحال بھی زیر بحث آئی، جس میں خصوصی طور پر اے این پی کی جانب سے پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس پر علیحدگی کے اعلان پر بھی گفتگو کی گئی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ موجودہ صورتحال ہم خیال جماعتوں میں تعاون مزید بڑھنا چاہیے اور موجودہ ملکی صورتحال میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر ترقی پسند جماعتیں مل کر کوئی لائحہ عمل اختیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 11 تاریخ کو کراچی میں منعقد ہو رہا ہے جس میں پیپلزل پارٹی مستقبل کے فیصلے کا اعلان کرے گی اور یہ بحث بھی ہو گی کہ ہمیں مستقبل میں کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی ترقی پسند جماعتیں ہیں جن کا ماضی میں بھی ایک دوسرے سے تعاون رہا ہے بالخصوص 2008 سے 2013 تک دونوں کی اتحادی حکومت تھی جس میں بہت اچھے تعلقات تھے اور ہم ان تعلقات کو مستقبل میں بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

پی ڈی ایم سے علیحدگی کے حوالے سے سوال پر نیر بخاری نے کہا کہ ہماری سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 11 اپریل کو ہے اور اس میں جو فیصلہ ہو گا پیپلز پارٹی اسی کا اعلان کرے گی کیونکہ ہماری پارٹی کا پالیسی ساز ادارہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ہے تو اسی میں مستقبل کی پالیسیوں کا فیصلہ ہو گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار نے پیپلز پارٹی کے وفد کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ سے علیحدہ ہوئے بلکہ پی ڈی ایم انہوں نے توڑ دی تو اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا کیونکہ شوکاز نوٹس بھیجنا ہی پی ڈی ایم توڑنے کے مترادف تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے بڑا ظلم کیا کیونکہ ہمارا جمہوری اتحاد کامیابی کی طرف گامزن تھا لیکن اسے بیچ میں مسئلہ کھڑا کر کے اس طرح کی فضا پیدا کر کے توڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں شوکاز نوٹس بھیجا گیا حالانکہ پی ڈی ایم کا نہ کوئی آئین ہے، نہ کوئی ضابطہ تھا، ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ سربراہی اجلاس بلا کر اس میں یہ بات کر لیں گے اور اس کا حل نکلنا کوئی مشکل نہیں تھا، نجانے انہیں کس چیز کی جلدی تھی جو یہ افسوسناک قدم اٹھایا گیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ہم نے جمہوریت کی بحالی اور دھاندلی زدہ حکومت کے خاتمے کے لیے جو کچھ کرنا تھا کر لیا اور ہماری یہ جدوجہد جاری رہے گی کہ جعلی مینڈیٹ سے آئی ہوئی حکومت کا خاتمہ کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں نیر بخاری نے کہا کہ پی ڈی ایم کو توڑنے کی بنیاد مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر نے رکھی کیونکہ انہوں نے دو جماعتوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے، ہم اس اتحاد میں برابری کی سطح پر بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی کسی کا ماتحت نہیں، شوکاز نوٹسز تو ماتحتوں کو دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈیم ایم الیکشن کمیشن کے پاس کوئی رجسٹرڈ پارٹی نہیں ہے، یہ موجودہ حکمرانوں کے خلاف دس جماعتوں کا مجموعہ اور سیاسی اتحاد تھا اور ہمارا مقصد ایک تھا کہ اس نااہل حکومت سے نجات کیسے حاصل کی جائے اور اس کے لیے ایک چارٹر اور ایکشن پلان بھی مرتب کیا، پیپلز پارٹی اس پر کاربند تھی، اگر کوئی کاربند نہیں تھا تو شوکاز دینے والے نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلے دن سے مؤقف تھا کہ استعفوں کو آخری آپشن کے طور پر استعمال کرنا چاہیے اور پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹیں لیکن لانگ مارچ سے استعفوں کو منسلک کرنا سربراہی اجلاس کا فیصلہ نہیں تھا۔

پی ڈی ایم کے مستقبل کے حوالے سے سوال پر پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ شوکاز نوٹس دے کر انہوں نے پی ڈی ایم توڑ دی، یہ 10 جماعتوں کا مجموعہ ہے، آپ ایک جماعت کو نکال دیں تو کیا اس کا وجود رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2003 میں مولانا فضل الرحمٰن کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا حالانکہ ان کے پاس اکثریت نہیں تھی اور اکثریت پیپلز پارٹی کے پاس تھی لیکن اس وقت یہ اختیار اسپیکر کے پاس تھا لہٰذا 2012 میں پیپلز پارٹی نے ترمیم کی کہ اپوزیشن لیڈر اس پارٹی کا بنے گا جس کے پاس اکثریت ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی اس لیے اپوزیشن لیڈر بنے کیونکہ ہمارے سینیٹ میں 21 ووٹ ہیں اور اپوزیشن بینچز پر ہم سب سے بڑی جماعت ہیں، اس لیے ہم اس سیاسی جدوجہد میں شریک ہوں گے جو موجودہ حکمرانوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کی پاسداری اور حکمرانی چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

پی ڈی ایم میں واپسی کے حوالے سے سوال پر میاں افتخار نے کہا کہ پی ڈی ایم رہی ہی نہیں تو اس میں واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے انہیں راستہ بھی بتایا تھا اور کہا تھا کہ شوکاز کے بجائے رابطہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ووٹ دینا تھا اور ہم نے یہ واضح کردیا تھا کہ ہم یہ ووٹ پیپلز پارٹی کو دیں گے کیونکہ پیپلز پارٹی نے ماضی میں ہمارے مطالبات پورے کیے جس میں صوبائی خودمختاری، 18ویں، این ایف سی ایوارڈ اور ہمارے صوبے کا نام شامل ہے، ہمارا انتخاب جمہوری اور برحق تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.