Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کر ونا ویکسین کی آ مد اور ہما ری ذمہ داری

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

از: ڈا کٹر ابر اہیم مغل

سو شل میڈ یا پر ہرخا ص و عا م کی ر سا ئی نہا یت آ سا ن ہو جا نے کی بنائ پر ہما را ملک افوا ہو ں کی انتہا ئی ز ر خیز آ ما ج گا بن چکا ہے۔ معا ملہ خو ا ہ سیا ست کا ہو، یا ہما ری سو شل زند گی کا ہو یا پھر ہما ری صحت، کاہما رے سو شل میڈ یا کے فنکا ر اس سب کے با رے میں افوا ہیں پھیلا نے نے نہیں چو کتے۔ پہلے توذ را پو لیو قطر و ں کے معا ملے کو ہی دیکھ لیجیئے۔ ان افوا ہ سا زوں نے عوا م کو پو لیوقطر وں سے اس حد تک متنفر کیا کہ و طنِ عز یز سے آ ج تک پو لیو کا مر ض ختم نہ ہو سکا۔ اور اب ان افوا سا زوں کی تو پو ں کا رخ کرو نا ویکسین کی جا نب ہے۔ جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسقبل قر یب میں کر ہِ ار ض پہ کرونا کی وبا ئ ختم ہو تی نظر نہیں آ رہی۔ تا ہم یہ بات حوصلہ افزا ہے

کہ پورے ملک میں کورنا کے باعث لاحق ہونے والی بیماری سے تحفظ کے لیے ویکسی نیشن کا عمل سرگرمی سے ہو چکا ہے۔ اس مہم کا آغاز منگل کے روز وزیراعظم کی نگرانی میں ہوا تھا۔ دنیا بھر کے اخبارات اور سوشل میڈیا میں اس وقت زیرِ استعمال ہر کورونا ویکسین کے بارے اچھی، بری باتیں، خبریں اور افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر حقیقت پر مبنی نہ ہو؛ تاہم دو باتوں پروائرس اور ویکسی نیشن کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اکثر ماہرین متفق ہیں۔ پہلی‘ ویکسینز کے مابین جو فرق بتائے جارہے ہیں اگر انہیں غور سے دیکھیں تو درحقیقت یہ اتنے بڑے اور اہم نہیں جتنے بادی النظر میں لگتے ہیں۔ دوسری‘ زیرِ استعمال ہر کورونا ویکسین مریض کو مرض کی شدت سے محفوظ رکھتی ہے۔ دونوں باتیں بہت حوصلہ افزا ہیں اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ تمام ضرر پذیر افراد کو جلد از جلد ویکسین ضرور ملنی چاہیے۔ اب آتے ہیں ایک اور پہلو کی طرف۔ ہمارا ملک نہ تو ویکسین دریافت کرنے والوں میں سے ہے اور نہ ہی ہم دوسروں کی دریافت کردہ ویکسین اپنے یہاں بنانے والوں میں سے ہیں۔ یہاں صرف دوسروں کی بنائی اور دی ہوئی ویکسین استعمال ہوگی۔ یہ ہمارا ایک علیحدہ اور دیرینہ قومی المیہ ہے لیکن اس وقت بات ہورہی ہے ا±ن 5 لاکھ ویکسینز کی جو ہمارے دوست ملک نے ہمیں تحفتاً دی ہیں۔ قوم کو اس تحفے کی دل کی گہرائیوں سے قدر ہے، لیکن ایسی کوئی منصوبہ بندی ہونی چاہے کہ ویکسین مقامی طور پر بھی تیار کی جاسکے، چاہے اس کے لیے فارمولہ کسی دوسرے ملک سے حاصل کیا جائے۔ اب ذرا غور فرمائیں کہ یہ ویکسین وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت نے یکم فروری کو صبح ساڑھے تین بجے، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پرو صول کی، لیکن یہ کم و بیش 55گھنٹوں کے بعد لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ میں ایک تقریب میں ڈاکٹرز اور دیگر طبعی عملے کو رسمی طور پر ملنا شروع ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنے اہم کام کو شروع کرنے میں 55 گھنٹے ہی لگنا چاہئیں تھے؟ وہ بھی ایک رسمی تقریب میں؟ اگر اربابِ بست و کشاد کی نظر میں یہ ایک اہم معاملہ تھا تو یہ کام ہر جگہ یکم فروری کو ہی شروع نہیں ہوسکتا تھا؟کیا اب تک تمام فرنٹ لائن طبی عملے کو یہ ویکسین مل نہیں جانا چاہیے تھی؟ ہمارے انتظامات کیا پہلے سے مکمل اور مستعد نہیں ہوسکتے تھے؟ اگر ہمارے انتظامات کرنے والے باصلاحیت ہوتے اور انہیں وقت کی اہمیت کا احساس ہوتا تو پانچ لاکھ خوراکیں کب کی مل چکی ہوتیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں سے صرف 10 کروڑ افراد کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی اور اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو ویکسین نہیں دی جائے گی، نیز سال کے آخر تک 70 فیصد افراد کو یہ ویکسین میسر ہوسکے گی۔ اس حوالے سے ویکسین لگانے کی جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے اس میں ہیلتھ کیئر ورکرز کو پہلی ترجیح قرار دیا گیا ہے اور ان کے بعد ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد یا وہ افراد جو ایسی پیچیدہ بیماریوں کا شکار ہیں جن سے وہ کورونا وائرس کا بہ آسانی ہدف بن سکتے ہیں۔ ویکسین کی پہلی ڈوز کے بعد دوسری ڈوز کا 21 دن بعد دیا جانا موثر بتایا جارہا ہے۔ ایسے میں سب سے پہلے یہ انتظام کرنا ہے کہ ابتدائی طور پر جن تین لاکھ ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین دی جارہی ہے، 21 دن کے بعد ان کی ویکسین کی دوسری ڈوز میسر ہو، ایسا نہ ہو تو ویکسین مہم کی ساری مشق بیکار ہو کر رہ جائے۔اگرچہ حکومت کی اب تک کی حکمتِ عملی خاصی اطمینان بخش ہے؛تاہم اصل امتحان تمام ملکی آبادی کے تمام طبقات کو یکساں طور پر ویکسین لگانے کے عمل میں ہوگا جسے مکمل طو رپر شفاف اور غیرمتنازع بنانے لیے ابھی سے تمام ضروری تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔ نیز یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ ایک طرف حکومت امیر و غریب کی تخصیص کے بغیر تمام بالغ ملکی آبادی کو ویکسین فراہم کرنے کا اعلان کر رہی ہے اور دوسری جانب نجی فارما کمپنیوں کو ویکسین کی درآمد کی اجازت بھی دی جاچکی ہے، ایسے میں شفافیت کس طرح برقرار رکھی جاسکتی ہے؟ اگر نجی کمپنیوں کو مکمل چھوٹ دے دی گئی تو کیا عام آدمی کی جیب پرائیویٹ طور پر ویکسین کا خرچہ برداشت کر پائے گی؟ نیز کیا نجی کمپنیوں کی ویکسین سے استفادہ کرنے والوں کے حوالے سے ڈیٹا مرتب کیا جائے گا؟ اگرچہ عام آدمی بھی اس سہولت سے دور ہے مگر پھر بھی عوامی سطح پر ویکسین کی افادیت، اس کے جائز ہونے اور اس کے مضر اثرات کے حوالے سے خدشات سر اٹھانا شروع ہوچکے ہیں، جن کو ایک وزیر کے اس بیان سے مہمیز ملی ہے کہ ویکسین کے مضر اثرات بھی ہیں۔ ویکسین کے بعد بھی لوگوں کو احتیاط کی تلقین کی جارہی ہے، اس لیے ویکسی نیشن کے بعد بھی احتیاطی تدابیر ترک نہیں کی جائیں گی۔ یہاں یہ سوال نہیں ا±بھرتا کہ اگر ویکسی نیشن کے بعد بھی احتیاطی تدابیر جاری رہیں گی تو ویکسین پر کثیر سرمایہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے، یہ پیسہ کورونا کے علاج کی تلاش پر خرچ ہوسکتا ہے۔ بہرحال ضروری ہے کہ ویکسی نیشن کے سارے عمل کی چوکس نگرانی کی جاتی رہے اور حکومتی عہدے داروں نے جتنی مدت میں جتنی آبادی تک ویکسین پہنچانے کا ارادہ اور وعدہ یا عزم کیا ہے، اس کی پابندی کی جائے تاکہ اس موذی مرض کے پھیلآ کا سدباب ممکن ہوسکے او رملکی آبادی کو اس عالمی وبا سے محفوظ کیا جاسکے۔ اس حوالے سے اگر روایتی تغافل کو شعار بنایا گیا تو اس کے یقینا مہلک اثرات و نتائج برآمد ہوں گے۔ لہٰذا ہمیں بطور ایک قوم زیادہ سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.