Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان کے سینٹ امیدواروں سے انٹرویو 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

کوئٹہ(این این آئی) پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان عوامی پارٹی نے سینیٹ کے انتخابات میں ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے امیدواروں سے باقاعدہ 16سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھروا کر انٹرو یو لئے امیدواروں سے ذاتی معلومات کے علاوہ پارٹی سے وابستگی ، خدمات، سینیٹ میں آنے کی وجہ ، سینیٹ کے حوالے سے جنرل نالج کے سوالات پوچھے گئے ، پہلے روز 86میں سے 75امیدواروں نے انٹرویو دئےے جبکہ 11امیدوار نہیں آئے ، غیر مقامی اور پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والے امیدوا ر بھی انٹرویوز دینے والوں میں شامل ہونے سے امیدواروں میں تشویش پائی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی نے ملکی سیاسی تاریخ میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے پیر کو کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں سینیٹ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہش مند امیدواروں کے باقاعدہ سوالنامے بھروا کر انٹرویو لینے کا سلسلہ شروع کیا انٹرویو سینیٹر انوار الحق کاکڑ، ثناءجمالی ارکان قومی اسمبلی نوابزادہ خالد مگسی، روبینہ عرفان، صوبائی وزراءمیر سلیم کھوسہ، میر ضیاءلانگو ،پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند پر مشتمل تین علیحدہ علیحدہ پینلز نے صبح 11سے سہ پہر چار بجے تک لئے، انٹرویو دینے کے لئے آنے والے امیدواروں کو پہلے 16سوالات پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا جسے انہیں پر کرنے کے بعد انٹرویو پینل کے سامنے جانا تھا سوالنامے میں امیدواروں سے پوچھا گیا کہ انکا تعلق بلوچستان کے کس ضلع سے ہے، کیا وہ سرکاری ملازم ہیں یا رہے ہیں ، انکی تاریخ پیدائش کیا ہے، بلوچستان عوامی پارٹی کب عمل آئی، بلوچستان عوام پارٹی کے منشور کے چیدہ چیدہ نکات واضح کریں ، آپکی کی سیاسی وابستگی بلوچستان عوامی پارٹی سے کب عمل میں آئی، آپ نے بلوچستان عوامی پارٹی کے لئے کیا خدمات انجام دیں ، آپکی سینیٹ میں آنے کی اہم وجہ کیا ہے، آپ سینیٹ کے رکن بن کر بلوچستان کے لئے کیا اقدامات کریں گے، بلوچستان عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے آپکا سینیٹر منتخب ہونا کیوں ضروری ہے سوالنامے میں باقاعدہ ٹیسٹ کی طرح جنرل نالج کے سوال بھی پوچھے گئے جن میں پاکستان میں سینیٹ کا کیا کردار ہے اور سینیٹ کے ممبران کی تعداد کتنی ہے، سینیٹ آف پاکستان قیام کب عمل میں آیا، اسوقت سینیٹ آف پاکستان میں کتنی خواتین ممبر ہیں اور انکی فیصد کتنی ہے ، سینیٹ کے ممبران کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں ، سینیٹ آف پاکستان کی پالیمانی کمیٹیوں کی مختلف اقسام کیا ہیں، سینیٹ آف پاکستان میں اقلیتوں کا کیا کردار ہے جیسے سوالات شامل تھے ۔ جنرل نشستوں پر ٹکٹ کے حصول کے لئے کل 44 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جن میں سے 38 نے پینل کو انٹرویو دیا انٹرویو دینے والوں میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری منظور احمد کاکڑ، میر اعجاز سنجرانی، ولی محمد ، ملک خدابخش، اسفند یار کاکڑ، آغا شکیل احمد درانی، سردار نور احمد بنگلزئی، محمد نواز ناصر، نذر خان ، میر سرفراز بگٹی، میر دوستین ڈومکی، عبدالرﺅف رند، میر غلام دستگیر بادینی، نعمت اللہ بزنجو،میر مجیب الرحمن محمد حسنی، حسین اسلام ، میر عبدالکریم نوشیروانی، نصیب اللہ کاکوزئی، نوید جان بلوچ، جہانزیب لونی، ملک شہریار اعوان، شاہ زمان کاکڑ، محمد انوار خان، عبدالفتح جمالی، عبدالغفار ، عتیق الرحمن ،یار محمد ،اسفند یار کاکڑ، میر اسلم خان مگسی، حبیب ترین، میر عاصم کر دگیلو، پر نس احمد علی احمد زئی، ولی خان غیبزئی ، تاج محمد، میر شاہ جہاں کھیتران، علی محمد ناصر، سید رحیم آغا، امیر رضا جمالی شامل ہیں جبکہ جنرل نشست پر پارٹی کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سید حسنین ہاشمی سمیت 6امیدواروں پر نس احمد عمر احمد زئی ،سینیٹر میر خالد بزنجو، محمدیعقوب ،اورنگزیب جمالدینی، ظہور حسین کھوسہ انٹرویو دینے کے لئے نہیں آئے، اسی طرح ٹیکنو کریٹ نشست پر ٹکٹ کے امیدوار پارٹی کے بانی سعید احمد ہاشمی سمیت تاج محمد بھی انٹرویو دینے نہیں آئے جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری منظور احمد کاکڑ، محمد نواز ناصر، عتیق الرحمن کاکڑ، نوید کلمتی، امیر محمد ترین، مصلح الدین مینگل ،نور خا ترین ،نصیب اللہ، بابو گلاب، پر نس احمد علی، میر شاہجہان کھیتران نے سوالنامے بھرنے کے بعد انٹرویو دئےے، خواتین نشستوں پر 19میں سے 17خواتین نے انٹرویو دئےے جن میں راحت فائق جمالی، ثمینہ ممتاز، نصرت شاہین ، ثوبیہ کرن کبزئی، مینہ بلوچ، روبینہ شاہ، درچین مری، بی بی رئےسہ، شانیہ خان، ثناءولی محمد، طلعت رحمان، ہلناز مگسی، کاشفہ گچکی ، شمع پروین مگسی، سینیٹر ستارہ ایاز، جوریہ ترین، رحیمہ جلال نے انٹرویو دئےے جبکہ ثمینہ خان اور شازیہ شاہجان نے انٹرویو نہیں دئےے ،اقلیتوں کی نشست پر رکن صوبائی اسمبلی دنیش کمار کے علاوہ 10میں سے 9امیدواروں سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار، خلیل جارج بھٹو، روز اے جان، بسنت لعل گلشن ، انعم نتاشا، ،مول چند، انیتہ عرفان، سندیپ کمار، نانک سنگھ نے انٹرویو دئےے ذرائع نے این این آئی کو بتایا کہ انٹرویو کے لئے مقامی ہوٹل میں بکنگ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے نام پر کروائی گئی تھی اور تمام عمل کو فراوانی سے جاری رکھنے کے لئے ڈپٹی سیکرٹری سطح کے ایک آفیسر کو بھی انٹرویو مکمل ہونے تک ہوٹل میں تعینات کیا گیا تھا، انٹرویو دینے کے لئے آنے والے بعض امیدواروں نے طریقہ کار پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا اور اس عمل کو ناپسندیدہ قرار دیا وہیں کچھ امیدوار اس تمام عمل کو جمہوریت کا حصہ اور وزیراعلیٰ جام کمال خان اور پارٹی کا تاریخ اقدام قرار دیتے رہے، بلوچستان عوامی پارٹی سے سینیٹ کی ٹکٹ کے حصول کے لئے چند غیر مقامی امیدوار بھی نظر آئے جبکہ بعض امیدواروں کا تعلق پارٹی سے نہیں تھا جس پر پینل اور پارٹی امیدواروں دونوں ہی تحفظات کا اظہار کیا ہے ،بلوچستان عوامی پارٹی ذرائع کے مطابق انٹرویوز کا دوسرا راﺅنڈ آج وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقد ہونے کا امکان ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.