Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سپریم کورٹ سے ریفرنس مسترد ہوا تو اوپن ووٹ کیلئے جاری آرڈیننس ’ختم‘ ہوجائے گا، حکومت

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد  :  آئندہ سینیٹ انتخابات میں اوپن ووٹ کے لیے الیکشنز (ترمیمی) آرڈیننس 2021 جاری کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کی سخت تنقید کے دوران ہی وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے واضح کیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس کی حمایت نہیں کرتی تو آرڈیننس فوری طور پر ختم ہوجائے گا۔

وزیراعظم کے ساتھی نے ڈان سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت نے صدارتی آرڈیننس سن سیٹ کلاز کے ساتھ متعارف کروایا ہے جو اس وقت خود ختم ہوجائے گا اگر صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اوپن بیلٹ کے خلاف اور سینیٹ انتخابات سے قبل آتا ہے۔

23 دسمبر 2020 کو صدر عارف علوی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے منعقد کرانے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگنے کی وزیراعظم کی تجویز کو منظور کرلیا تھا، تاہم حکومت نے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ہفتے کو سینیٹ انتخابات اوپن ووٹ کے ذریعے کرانے کے لیے آرڈیننس جاری کردیا۔ ادھر اپوزیشن نے حکومت پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس ملتوی ہونے کے بعد صرف 2 روز میں ’متنازع‘ آرڈیننس متعارف کروا کر ملک کو آئینی بحران میں ڈالنے کا الزام لگایا۔

اس حوالےسے جب پوچھا گیا کہ آرڈیننس ’جلد بازی‘ میں کیوں جاری کیا گیا تو بابر اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت اسے جمعرات (11 فروری) سے قبل متعارف کروانا چاہتی تھی کیونکہ جب الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے شیڈول کا اعلان متوقع ہے اور ایک مرتبہ شیڈول کا اعلان ہوجائے تو الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے اعتراض کیا کہ حکومت نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ اور پیسے کے استعمال کے رجحان کو ختم کرنے کے واضح مقصد کے ساتھ بدھ کو آئینی ترمیمی بل پیش کیا تھا لیکن اپوزیشن نے اجلاس کو غنڈہ گردی کرکے خراب کردیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس 3 ہفتوں تک جاری رہا لیکن اپوزیشن نے سینیٹ میں اوپن ووٹ کے خلاف اپنے مؤقف پر جواز پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں کہا۔

پارلیمانی امور کے مشیر کا کہنا تھا کہ میثاق مرکزی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے 2006 میں دستخط کردہ میثاق جمہوریت کے تحت یہ پارلیمنٹ میں ہارس ٹریڈنگ کے راستے کو روکنے پر راضی ہوئی تھیں لیکن جب حکومت ہارس ٹریڈنگ ختم کرنے کی کوشش کررہی تو یہ دونوں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

ایک سوال کے کیوں صدر عارف علوی نے آرڈیننس جاری کیا تو اس پر مشیر کا کہنا تھا کہ صدر نے آرڈیننس جاری کرکے کوئی آئینی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی کیونکہ آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔

یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ ’پاکستان کی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ہوگی جو صدر اور 2 ایوانوں پر مشتمل ہوگی جنہیں بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے طور پر جانا جائے گا‘۔

دوسری جانب اس پیش رفت سے جڑے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ آرڈیننس جاری کرنے کا مشورہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور وزیراعظم عمران خان نے اس کی توثیق کی تھی، یہی نہیں بلکہ وزیر قانون فروغ نسیم نے بھی اس خیال کی حمایت کی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.