Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سعودی عرب اور قطر کے 18شیخوں کو بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں شکار کی اجازت دیدی گئی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ (آن لائن) سعودی عرب اور قطر کے 18شیخوں کو بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں شکار کی اجازت دیدی گئی ہے جن میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو لیہ اور بھکر،گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان کو آواران اور چاغی ،قطر سے شیخ محمد بن خلیف الثانی کولورالائی ، شیخ جاسم بن حمد الثانی کو موسی خیل اور درگ ،شیخ محمد بن علی الثانی کو بارکھان ،شیخ ثانی بن عبد العزیز قلات سوراب ، شیخ علی بن عبد اللہ آلثانی کو تربت، شیخ فلاح بن الجاسم کو جھل مگسی، شیخ فہد بن عبد الرحمن کونصیرآباد،اور فیصل بن قاسم کو ڈیرہ بگٹی میں شکار کی اجازت ہوگی،دو سالوں میں حکومت بلوچستان کے خزانے میں شکار کی مد میں 14سے15کروڑ روپے جمع کرائے گئے ہیں ،محکمہ وائلڈ لائف بلوچستان پرندوں کی جانوں اور نسلوں کے تحفظ کے لئے کام کر رہی ہے ۔آن لائن کوذرائع نے بتایاکہ پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے 18 سعودی اور قطری شیخوں کو بلوچستان ،پنجاب اور سندھ میں قیمتی پرندوں کے شکار کی اجازت دی ہے ذرائع نے بتایاکہ گزشتہ دو سالوں میں 14سے 15کروڑ روپے حکومت بلوچستان کے خزانے میں جمع ہوچکے ہیں ،ذرائع کے مطابق یہ رقم دو گناہوسکتی تھی اگر شکار کرنے والے تمام شیوخ الاٹمنٹ کی مد میں واجب الادا رقم جمع کراتے ،ذرائع کے مطابق بلوچستان میں 18شکار گاہیں جو عرب اور قطری شیوخ کیلئے الاٹ کئے جاتے ہیں تاہم بعض لوگ شکار کیلئے نہیں آتے جس کا خمیازہ صوبائی حکومت کو بھگتنا پڑتاہے ،وفاقی حکومت کی جانب سے شکارگاہ کی الاٹمنٹ تو ہوجاتی ہے لیکن وہ رقم جمع نہیں کراتے جس کا نقصان صوبے کوہوتاہے ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ وائلڈ لائف کو اس وقت افرادی ومالی وسائل کی کمی کاسامناہے محکمہ میں کل 950عملہ جس میں آفیسران اور نچلے طبقے کے ملازمین شامل ہیں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،نفری نہ ہونے کی وجہ سے غیر قانونی شکار کرنے والے مقامی بااثر افراد سے نہ صرف جانوں کا خطرہ بلکہ بارہا وائلڈ لائف کے عملے کو زدکوب کے واقعات بھی ہوئے ہیں ،طویل رقبے پرمشتمل صوبہ بلوچستان میں زیادہ شکار گاہیں اور نایاپ پرندوں کی آماہ جگاہ ہے 15نومبر سے 15فروری تک سائیبرین پرندے تلور کاشکار ہوتاہے ،الاٹمنٹ کی رقم ایک کروڑ روپے جو مذکورہ شکاری ڈالر میں جمع کرانے کاپابند ہوگی بلکہ شکار کی مدت دس دن اور ایک روز میں وہ صرف دس تلور کا ہی شکار کرسکتاہے ۔وائس آف امریکہ کے مطابق سرکاری اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ رواں سال نومبر میں پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے بھیجے گئے خط میں اس نے متعلقہ حکام کو لکھا تھا کہ 62 قیمتی فالکن سعودی عرب سے شکار لانے کے لئے پاکستان لائے جائیں گے جن میں شہزادہ فہد بن سلطان بن عبد العز Al آل سعود سے تعلق رکھنے والے جو تبوک کے گورنر ہیں کراچی ،کوئٹہ اور پھر دالبندین جائیںگے ،ماہ اکتوبر میں وزارت خارجہ نے قطری اور سعودی شکاریوں کو شکار کے میدان فراہم کرنے میں مدد کے لئے مختلف ریاستوں میں متعلقہ اداروں کو خط لکھا۔قطر سے شیخ محمد بن خلیف الثانی بلوچستان میں لورالائی ، شیخ جاسم بن حمد الثانی کو موسی خیل اور درگ ،شیخ محمد بن علی الثانی کو بارکھان اور شیخ خالد بن خلیفہ کو جیکب آبادمیں شکار کی اجازت دی گئی ہے جبکہ شیخ ثانی بن عبد العزیز قلات سوراب ، شیخ علی بن عبد اللہ آلثانی کو تربت، شیخ فلاح بن الجاسم کو جھل مگسی، شیخ فہد بن عبد الرحمن کونصیرآباد،اور فیصل بن قاسم کو ڈیرہ بگٹی میں شکار کی اجازت ہوگی بلکہ شیخ تمیم بن حماد الثانی کو پنجاب میں بھکر،جھنگ اورسندھ کے کشمور میں شکار کرنے کی اجازت ہے۔اسی طرح سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو لیہ اور بھکر،گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان کو آواران اور چاغی ،گورنر البتین شہزادہ منصور بن محمد کو پنجاب کےءڈیرہ غازی خان میں شکارت کی اجازت دی گئی ہے ۔بلوچستان فارسٹ اینڈ وائلڈ لائف کورٹ کے ایک سینئر عہدیدار نیاز محمد کاکڑ نے وائس آف امریکہ کو بتایاکہ قطری اور عرب شیخ موسمی پرندوں کے شکار کے لئے اس علاقے میں آتے ہیں۔نیاز کاکڑ کے مطابق پاکستان کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ نے 2018 ءمیں شکار کی اجازت دی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ قطری اور سعودی شیخ محدود حد تک شکار کریں گے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ہر شکاری ایک باج کے لئے ایک ہزار امریکی ڈالر اور ہر علاقے میں شکار کے لئے ایک لاکھ امریکی ڈالر ادا کرینگے یہ پرندہ جسے انگریزی میں ہبارڈ بوسٹارڈ کے نام سے جانا جاتا ہے سرد موسم کے دوران وسطی ایشیا سے افغانستان اور پاکستان منتقل ہوتا ہے اور مارچ میں واپس چلاجاتاہے ماحولیاتی ماہرین اور پولٹری کے حقوق کے کارکن باز میر خان کا کہنا ہے کہ پرندے کو دواں سے فائدہ اٹھانے کی کوئی چیز نہیں ہے جسے شیخ جسمانی طاقت کیلئے کھاتے ہیں باز میر کے مطابق شکار ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔”شیخان گوشت کا شکار کرتا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس میں جسمانی اور مردانہ طاقت ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا ہے۔ “تب یہ ہمارے ذہن میں بس آگیا۔ یہ کبھی بھی ہمیں ہراساں کرنے کے لئے واپس نہیں آئے گا۔نیاز کاکڑ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں موجودہ حکومت پرندوں کی جانوں اور نسلوں کے تحفظ کے لئے کام کر رہی ہے اور کسی کو بھی غیر قانونی طور پر شکار کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.