Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : بلاول بھٹو کی سیاسی بصیرت اور حکومت کی مشکلات

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ نا مسائد حالت اور بد ترین آمریت کے ساتھ ساتھ جمہوری آمروں کے سامنے وہ کلمہ حق بلند کرتی رہی ہے۔ اس کا خمیازہ بھی بارہا بھگتنا پڑا، قائدین کی شہادت سے لیڈران کی قید و بد کی صعوبتوں تک، اداروں کے رویوں سے اپنوں کی کج ادائی تک کیا کیا ستم ہیں جو اس جمہوری پارٹی نے برداشت نہیں کیے۔ مگر کبھی کسی غیر آئینی قوت اور اقدام کا ساتھ نہ دیا۔ پیپلز پارٹی کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ لولی لنگڑی رینگتی ہوئی جمہوریت کے ساتھ بھی کھڑی رہی ، اپنے قول و فعل سے کبھی راستے بند نہیں کیے۔ محترمہ کی شہادت کے بعد نازک وقت میں جہاں بہت کچھ ہونے کا اندیشہ تھا ” پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر اس ملک کے آئین و قانون کے کے سامنے سر تسلیم خم کیا حالانکہ اس وقت کے فوجی آمر مشرف کے خلاف واضح شواہد موجود تھے۔ بلاول کو اس بات کا ادراک ہے کہ جمہوریت کی کیا قدرو قیمت ہے کیونکہ اس ملک میں بلاول اور پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے نا قابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں شاید ہی کوئی سیاسی جماعت اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا مقابلہ کر سکے البتہ اے این پی نے بھی جبر برداشت کیے ہیں۔
موجودہ صورت حال پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بد ترین دور ہے۔ حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز کچھ نہ کچھ ایسا نیا سامنے آ رہا ہے کہ یہ آگ پھیلتی جا رہی ہے۔ پی ڈی ایم حکومت وقت کے خلاف معرض وجود میں آنے والا ایسا اتحاد ہے جس نےملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس تحریک میں اس وقت اہم موڑ آیا جب سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی نے حکومت پر تنقید کرتے کرتے اداروں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ بات یہاں تک رہتی تو کسی حد تک قابل قبول تھی تاہم اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر حساس ترین ادارے کے سربراہ اور سپہ سالار کا نام براہ راست لے کر تنقید کے ساتھ ساتھ چارشیٹ بھی پیش کر دی۔ الزامات کا بازار گرم ہو گیا۔ اور ملک ایک خوفناک بحران میں داخل ہو گیا۔ نواز شریف نے ہر جلسے میں اس قسم کی ہرزہ سرائی کی اور ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پی ڈی ایم ایک کثیر جماعتی اتحاد ہے اس میں بہت سی پارٹیاں شامل ہیں۔ ہر پارٹی کا اپنا نقطہ نظر ہے۔ یقینا سب بات کر رہے ہیں تاہم نواز لیگ کے بیانیہ کے بعد بہت سی سیاسی جماعتوں نے اس بیانیے سے لا تعلقی کا اظہار کیا۔ پی ڈی ایم اپنے پلیٹ فارم سے شاید اس قسم کی بیان بازی کی اجازت دینے کو بھی تیار نظر نہیں آتی۔ پی دی ایم قیادت کا مﺅقف یہ سامنے آ رہا ہے کہ ہم حکومت پر اس کارکردگی پر اور الیکشن ریفارمز پر تو بات کر سکتے ہیں کر بھی رہے ہیں تاہم براہ راست فوجی قیادت اور حساس اداروں پر نام لیکر تنقید سے ملک کو نقصان کا اندیشہ تو ہے ساتھ ہی ساتھ اس لولی لنگڑی جمہوریت کا بوریا بستر بھی گول ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے انتہائی دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے میاں نواز شریف کے سخت بیانیے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے جلسے میں نواز شریف کی تقریر سن کر ’دھچکا‘ لگا، انتظار ہے کہ نواز شریف کب ثبوت پیش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ہم جلسوں میں اس طرح کی بات نہیں کرتے، فوجی قیادت کا نام لینا نواز شریف کا ذاتی فیصلہ تھا، ان کی اپنی سیاسی جماعت ہے میں انھیں کنٹرول نہیں کر سکتا۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور عمران خان کی حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے لیکن عمران خان کی حکومت لانے کی ذمے داری کسی شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ دو ہی راستے ہیں، انتہا پسند رویہ اختیار کریں یا رک کر سوچیں کہ کیسے آگے بڑھنا ہے، تسلیم کرنا ہو گا کہ ترقی پسند جمہوریت ہی واحد راستہ ہے اور کمزور جمہوریت بھی آمریت سے کئی درجہ بہتر ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی جدوجہد تین نسلوں پر محیط ہے، پیپلز پارٹی جمہوری انداز میں سول حکمرانی اور مضبوط جمہوریت کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی منہگائی اور گرتی معیشت کا سبب پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی ہے۔کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا، کیپٹن صفدر کی گرفتاری، کمرے کا دروازہ توڑنے پر انکوائری ہو رہی ہے، کراچی واقعہ پر آرمی چیف سے دوبارہ رابطہ نہیں ہوا، مجھے یقین ہے اس معاملے پر تحقیقات مکمل کی جائیں گی اور قصور وار افراد کا تعین کر کے انہیں سزا دی جائے گی، میں صبر سے انتظار کر رہا ہوں کہ مجھے انکوائری سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا مطالبہ ہے کہ ایسا کمیشن بنے جو جمہوری حکومتوں میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تحقیق کرے، اور کمیشن ماضی، موجودہ حکومت کی تشکیل میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے متعلق حقائق سامنے لائے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے اعلان کو انتخابات سے قبل دھاندلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان پر زیادہ اعتبار نہیں کرتے کیونکہ وہ یو ٹرن لیتے ہیں، عمران خان اپنے ہر وعدے سے مکر جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے 2018 کے انتخابات میں جنوبی پنجاب کا صوبہ 100 دن میں بنانے کا اعلان کیا مگر وعدہ پورا نہیں کیا، وزیراعظم انتخابات سے قبل یو ٹرن لے سکتے ہیں تو انتخابات کے بعد بھی لے سکتے ہیں۔
وعدہ خلافی کا شکوہ تو حکومتی اتحادیوں نے بھی واشگاف انداز میں کیا ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم کی دعوت پر ق لیگ سمیت چند اہم اتحادیوں نے شرکت سے معذرت کر لی تھی۔ ق لیگ کا مﺅقف سامنے آ گیا ہے کہ ہم سے نہ کسی معاملے پر مشاورت کی جاتی ہے نہ ہی تعاون ، اتحادی ہیں مگرہمارا اتحاد ووٹ تک ہی ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم سمیت دیگر نے بھی اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مسلم لیگ ق نے حکومت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت کو ہماری ضرورت نہیں ہے تو ہم صرف کھانے کے لیے نہیں جا سکتے۔ق لیگ کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اگر حکومت ایسے ہی چلے گی تو جب تک صبر ہے کریں گے، مگر حکومت کے ساتھ گزارا کرنا مشکل ہو جائے گا۔طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ووٹرز کے پاس دوبارہ جانا ہے، ابھی حکومت کی کارکردگی کو لے کر عوام کے سامنے نہیں جا سکتے۔ دیگر اتحادیوں نے بھی مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت کا رونا رویا ہے۔ اتحادیوں کا کہنا تھا کہ آٹا تک میسر نہیں ہے۔ اتحادیوں کی طرف سے تنقید کے ساتھ ساتھ نوشتہ دیوار دیکھانا حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اپوزیشن کی تحریک کیکامیابی کا دارومدار حکومتی کارکردگی پر پے۔ اگر یہی کارکردگی رہی تو اپوزیشن کی بات کو تقویت ملے گی اور اتحادیوں کے لیے بھی نئی راہیں کھل جائیں گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.