Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سیرت النبیاور قائداعظم کا کردار(آخری حصہ) 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

عطاءالرحمان

تو باقاعدہ ہجرت کر کے اپنے مکہ کے ساتھیوں کو لے کر وہاں تشریف لے گئے… سمع و اطاعت پر بیعت لی اور یوں ریاست مدینہ کے قیام کا باقاعدہ آغاز کیا… یہ وہ زمانہ تھا جب جنگی فتوحات کے نتیجے میں حکومتیں قائم ہوتی تھیں… لیکن آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقتدار اور ریاست کے قیام کے لئے جنگ نہیں لڑی… دشمن کو تلوار کے ذریعے زیر کر کے فتح کے جھنڈے نہیں گاڑھے بلکہ وحی خداوندی اور اپنی سیرت کے بل بوتے پر لوگوں کے قلوب کو مسخر کیا اور ان کے اذہان پر حکومت قائم کی…حضور کے اسوہ حسنہ کے اس اعلیٰ ترین معیار کو سامنے رکھ کر تیرہ صدیوں بعد آپ کے ا±متی محمد علی جناح کی کامیاب سیاسی اور ایک آزاد ریاست کے وجود کو عمل میں لانے والی جدوجہد پر نگاہ ڈالئے… انہیں بیک وقت وقت کے دو حکمرانوںانگریزوں اور بالادست سیاستدانوں یعنی ہندو کانگریس کے رہنماﺅں کی مخالفت کا سامنا تھا مسلمانوں کے مذہبی انتہاپسند بھی مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے اس عالم میں مسٹر جناح نے دو قومی نظریے کا پرچم ہاتھ میں لیا مسلمانوں کے لئے علیحدہ ریاست کے حصول کو اپنا نصب العین بنایاخالصتاً جمہوری بنیادوں پر مشن کو لے کر آگے بڑھے… آئینی اصولوں کو رہنما بنایا… سرعام اعلان کیا ہماری ریاست کا آئین اسلام کے روشن اصولوں کی بنیاد پر تیار کیا جائے گا… انہوں نے اپنی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اس کا کوئی ذیلی مسلح دستہ نہیں تیار کیا… اپنے کارکنوں کو کسی قسم کی جنگی تربیت دی نہ اس کے لئے آمادہ کیا… جگہ جگہ اجلاس کئے قراردادیں منظور کرائیں… اپنے موقف کے حق میں پ±رزور دلائل دیئے… برصغیر کے مسلمانوں کے اندر ایک ذہنی فضا تیار کی… اس کے بعد پاکستان کے نعرے پر 1945-46 کے انتخابات کے میدان میں اترے… زبردست کامیابی حاصل کی… حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست مدینہ کے وجود کو ممکن بنانے کی خاطر وقت کے کسی جنگجو اور دشمن کو شکست دینے والے نامور کی خدمات حاصل کیں نہ قائداعظم نے اپنی جدوجہد کے آخری روز تک کسی ریٹائرڈ یا حاضر فوجی جرنیل کو دست راست بنایا… مسلم لیگ کی ہائی کمانڈ سے لے کر نچلی سطح تک ایک بھی قابل ذکر فوجی کا نام نہیں لیاجا سکتا… حضور علیہ السلام کا ایک وصف یہ تھا آپ نے ساری زندگی باہمی تنازعات طے کرنے کے لئے قبیلوں کے درمیان پ±رامن معاہدے وجود میں لانے اور ان کی پاسداری پر زور دیا… اعلان نبوت سے بہت قبل جب آپ کی عمر پندرہ برس تھی تو عرب قبیلوں کے درمیان فجار کے نام سے جنگ چھڑ گئی… جو 580ءسے لے کر 590 ءتک جاری رہی اور بے شمار قتل عام ہوا… ایک نوجوان کی حیثیت سے آپ بھی اپنے قبیلہ قریش کی جانب سے شامل تھے لیکن اتنی زیادہ خونریزی پر بہت دلبرداشتہ تھے… وقت کے سرداروں کو بھی اس کا احساس ہوا چنانچہ حلف الفضول کے نام سے ایک معاہدہ امن طے ہوا… جس پر اگرچہ زیادہ دیر تک عملدرآمد نہ ہو سکا … لیکن حضور کو یہ معاہدہ اس قدر پسند تھا کہ بہت بعد کے سالوں میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا مجھے آج دو سو سرخ اونٹ بھی دے دیئے جائیں تو ان پر اس معاہدے کو ترجیح دوں گا… ہجرت مدینہ اور باقاعدہ ریاست کا سربراہ بننے کے بعد آپ نے ایک بلندپایہ مدبر کے طور پر جو پہلا کارنامہ سرانجام دیا وہ شہر مدینہ کے جوار میں آباد یہود اور عیسائیوں کے ساتھ اس مشہور معاہدے پر دستخط تھے جسے تاریخ میثاق مدینہ کے نام سے جانتی ہے… یہ ایک ریاست کا پہلا تحریری آئین تھا اور حضور آخری وقت تک اس کی ایک ایک شق کی پابندی پر قائم رہے اس کی خلاف ورزی جب بھی ہوئی یہودی یا عیسائی قبیلوں کی جانب سے سرزد ہوئی… اسی لئے آخرکار انہیں مدینہ کے نواح چھوڑ کر کہیں چلے جانا پڑا… قریش مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدے طے پایا… جس پر کچھ صحابہ دل شکستہ بھی تھے… لیکن حضورنے ان کا حوصلہ بڑھایا ایک ایک لفظ کی پابندی کی تاآنکہ قریش کے ایک حلیف قبیلہ بنی بکر نے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی… مسلمانوں نے بھی اسے توڑ دیا اور اس کے نتیجے میں انہیں فتح عظیم بھی نصیب ہوئی… یعنی پوری سرخروئی کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے… حضور نے اعلان فرمایا قریش سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا… اب آپ قائداعظم کی سیاسی زندگی پر نگاہ ڈالئے… ایک وقت تھا بیرسٹر جناح کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے بیک وقت رکن تھے… دسمبر 1916 میں لکھنو کے اندر ہر دو جماعتوں کے سالانہ اجلاس منعقد ہوئے… مسٹر جناح نے دونوں میں شرکت کی اور کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان جداگانہ انتخابات اور ویٹج سسٹم پر معاہدہ طے کرایا جو لکھنو پیکٹ کے نام سے مشہور ہوا… اگر کانگریس اسی پر قائم رہتی تو شائد علیحدہ تحریک کی نوبت نہ آتی… لیکن اس نے اپنا عہد برقرار نہ رکھا… بیرسٹر جناح بددل ہو گئے… آخر 1919 میں رولٹ ایکٹ آنے کے بعد اس جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی…1946 میں شملہ مذاکرات کے نتیجے میں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان ’اے بی سی‘ فارمولا طے پایا جس کی دس سال تک پابندی لازمی تھی… مگر اسی شام پنڈت نہرو نے ایک پریس کانفرنس میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ضروری نہیں ہم دس سال کی شرط کی پابندی کریں… قائداعظم نے یہ سنا تو اسی وقت معاہدے کے خاتمے کا اعلان کر دیا جو قیام پاکستان کے لئے JUMPING PAD ثابت ہوا… مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی اپنی خودنوشست میں اس کی تصدیق کی ہے اگر بطور صدر کانگریس پنڈت نہرو ایسی بات نہ کرتے تو مسٹر جناح کو بھی پاکستان کے مطالبے پر سختی کے ساتھ ڈٹ جانے کا موقع نہ ملتا… قیام مملکت کے بعد پہلے گورنرجنرل کا حلف اٹھاتے وقت بانی پاکستان نے غیرمبہم الفاظ میں کہا وہ اس ملک کے آئندہ بننے والے آئین کی پابندی کا عہد کرتے ہیں… یہ وہ آئین ہے جسے بار بار بوٹوں تلے روند کر ہم نے قائد کی بنائی ریاست کے ٹوٹ جانے کا سامان کیا… اور آج بھی اس کی پابندی نہ کرنے پر خوار ہو رہے ہیں…

یہاں پر سوال کیا جا سکتا ہے کیا قائداعظم نے اس تمام تر پ±رامن آئینی و جمہوری جدوجہد اور آئین کی سختی کے ساتھ پابندی کا کردار حضور کی ذات اور اسوہ حسنہ سے متاثر ہو کر اپنایا… اس کا جواب ہمیں قائد کی زندگی کے مختلف واقعات سے ملتا ہے… محمد علی جناح قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے لندن گئے تو وہاں بیرسٹری کی ڈگری دینے کے لئے کئی INNS تھیں… لیکن انہوں نے LINCON’S INN میں اس لئے داخلہ لینا پسند کیا کہ اس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی تاریخ کے بڑے قانون سازوں کی فہرست میں نمایاں طور پر درج تھا… بیرسٹر جناح نے حضور کی ذات اقدس کے ساتھ وابستگی کے اسی جوش و جذبے کے تحت غازی کا علم الدین شہید کے مقدمے کی وکالت کی… بعدازاں لندن میں قیام کے دوران 7 دسمبر 1932 کو عید میلادالنبی کے موقع پر روح پرور تقریر کی… قیام پاکستان کے بعد 25 جنوری 1948 کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجتماع میں بارگاہ رسالت میں ہدیہ عقیدت پیش کیا… اسلامی دستور اور نظام سیاست اور حضور کے اسوہ کے ساتھ ان کی قلبی و ذہنی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ 9 اگست 1947 کو جب آخری وائسرائے نے یہ مشورہ دیا کہ پاکستان کے لئے مغل بادشاہ اکبر کا سیکولر کردار مشعل راہ کا درجہ رکھتا ہے تو قائد نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا ہمارے لئے پیغمبر اسلام رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ہم پر صرف ان کی پابندی لازم ہے… آئین کی بالادستی انہیں اس حد تک عزیز تھی کہ ایک فوجی افسر کی وردی کا بٹن مروڑتے ہوئے کہا امور حکومت میں مداخلت تمہارا کام نہیں… 1948 میں کوئٹہ سٹاف کالج کے افسروں سے خطاب کے بعد ان کے سوالات سے اندازہ لگایا کہ ہمارے افسروں کو آئین کی تعلیم دینا کس حد تک ضروری ہے… اور پھر 1949 میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت کے افتتاح کی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ماہرین کو صرف کرنسی کے معاملات سے سروکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ آپ کا اصل فریضہ یہ ہے کہ ایک کامیاب اسلامی ریاست کے لئے اسلام کے معاشی نظام کے عملی خطوط تیار کریں اور ان پر عملدرآمد کی راہیں تلاش کریں… مجھے اس کا انتظار رہے گا آپ لوگ یہ فریضہ کتنی جلدی میں سرانجام دینے کے قابل ہوتے ہیں… یہ ہیں قائداعظم کی آئین دوستی اور اسلامی فلاحی ریاست کو کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماڈل کے طور پر سامنے رکھنے کی مثالیں… خیالات اور

Leave A Reply

Your email address will not be published.