Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بائیڈن کی مزید 2 ریاستوں میں برتری ,جارحیا میں دوبارہ گنتی کا اعلان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

واشنگٹن :   امریکا کے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں ڈیموکریٹک امیدوار جوزف بائیڈن نے مزید 2 اہم ریاستوں پنسلوینیا اور جارجیا میں برتری حاصل کر کے اپنی فتح یقینی بنالی جبکہ امریکی صدر ری پبلکن ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ جج کریں گے ۔ تفصیلات کے مطابق صدارتی الیکشن کے تیسرے روز بھی ووٹوں کی گنتی جاری رہی، مقدمے دائر کیے جا تے رہے اور امریکا حالت اضطراب میں رہا۔ اس وقت تمام تر توجہ چار اہم ریاستوں پر مرکوز ہے جن میں سے اہم ترین ریاست پنسلوینیا کے حکام کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق ٹرمپ اپنی لاکھوں ووٹوں کی لیڈ کھو کر اب بائیڈن سے پیچھے جاچکے ہیں ۔ جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر 5587 ووٹوں کی برتری ہے جبکہ 95 فیصد حلقوں سے نتائج آئے ہیں۔اگر جو بائیڈن یہ ریاست جیت جاتے ہیں تو انہیں صدارت کے لیے درکار 270 ووٹ مل جائیں گے ۔اسی طرح ایک اور ریاست میں اچانک پلڑا مکمل تبدیل ہوگیا۔ جارجیا میں ٹرمپ کو برتری حاصل تھی لیکن اب جو بائیڈن کو جارجیا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر کم از کم 900 ووٹوں کی برتری حاصل ہو گئی ہے جبکہ صرف چند ہزار ووٹوں کی گنتی ہی باقی ہے تاہم جارجیا کے سیکرٹری آف سٹیٹ نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں امریکی صدارتی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جائے گی۔براڈ ریفنزبرگر کا کہنا تھا کہ ریاست میں 4169 ووٹوں کی گنتی ہونی باقی ہے جبکہ فوجی افسران کی طرف سے بذریعہ ڈاک بھیجے گئے تقریباً آٹھ ہزار ووٹ اب بھی ڈاک میں ہیں جبکہ برتری کا فرق بہت معمولی ہے اور اس معمولی فرق کے باعث ووٹوں کی گنتی دوبارہ ہو گی۔ جو بائیڈن کی جارجیا میں کامیابی سے انہیں اس ریاست کے 16 الیکٹورل کالج ووٹ مل جائیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد وہ صدر بننے کے لیے درکار الیکٹورل کالج ووٹ سے صرف ایک قدم کی دوری پر ہوں گے ۔جو بائیڈن کی اس ریاست میں کامیابی سے صدر ٹرمپ کے واضح کامیابی کے دعوے کی بھی تردید ہو گی۔ اگر ٹرمپ جارجیا کے علاوہ باقی رہ جانے والی تمام ریاستوں میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں(جو تقریباً نا ممکن ہے ) تو وہ صرف 269 الیکٹورل کالج ووٹ لے سکیں گے اور دونوں امیدواروں کے درمیان ڈرا ہو جائے گا۔ ایک اور ریاست نواڈا میں بائیڈن کی ٹرمپ پر برتری تقریباً 22000 ووٹوں کی ہے ۔ گزشتہ رات تک تقریباً 91 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی تھی اور کل ووٹوں میں سے تقریباً76 فیصد ڈاک کے ذریعے آئے تھے جبکہ چوتھی اہم ریاست ایریزونا میں جو بائیڈن کی برتری میں کمی آئی ہے ۔ گزشتہ رات تک ان کی برتری 43570 ووٹوں کی ہوگئی جبکہ ایک روز پہلے تک یہ برتری 47000 سے زیادہ ووٹوں کی تھی۔ریاست کی سب سے بڑی کاؤنٹی ا میں ابھی بھی گنتی جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق وہاں 20 لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے جو کاؤنٹی کی کل آبادی کا 75 فیصد ہے ۔متعدد امریکی خبر رساں اداروں نے ایریزونا میں بائیڈن کی کامیابی کی پیشگوئی کردی ہے ۔ ریاست پنسلوینیا میں جو بائیڈن کی بڑھتی ہوئی برتری سامنے آنے کے بعد ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ابھی ختم نہیں ہوا، بائیڈن کے جیتنے کی غلط پیشگوئی ان چار ریاستوں کے نتائج کی بنیاد پر کی جا رہی ہے جو ابھی فائنل ہونے سے بہت دور ہیں۔ ادھر پنسلوینیا کی سیکرٹری آف سٹیٹ کیتھی بوکوار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ووٹر فراڈ کے حوالے سے کسی بھی تازہ ترین الزام کا علم نہیں ہے جبکہ پنسلوینیا میں ایک وفاقی جج نے گنتی روکنے کے لیے ٹرمپ مہم کی درخواست کو رد کر دیا ہے ۔جج پال ڈائمنڈ نے ٹرمپ مہم کی ان شکایات کا جواب بھی دیا ہے جن میں کہا گیا تھا رپبلکن پارٹی کے نگرانوں کو گنتی کے مقام تک مساوی رسائی نہیں دی گئی۔انھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹس کو نگرانی کے لیے 60 نمائندے بھیجنے کی اجازت نہیں۔ اس کے علاوہ جارجیا میں ریاستی ری پبلیکنز اور ٹرمپ کی انتخابی ٹیم نے چیٹھم کاؤنٹی میں ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لیے درخواست دائر کی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ غیر حاضری میں ڈالے گئے ووٹ صحیح طریقے سے نہیں گنے جا رہے تاہم ٹرمپ کی ٹیم کی درخواست بھی مسترد ہوگئی لیکن ٹرمپ کے انتخابی دفتر نے پھر بھی نیواڈا میں بھی مقدمہ دائر کر دیا۔ اس مقدمہ میں شواہد فراہم کیے بغیر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کلارک کاؤنٹی میں بے ضابطگیوں نے انتخابات کو متاثر کیا ہے ۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا اگر قانونی ووٹ گنے جائیں تو میں جیت گیا ہوں لیکن اگر غیر قانونی ووٹ گنے جائیں تو وہ ہم سے الیکشن چھین سکتے ہیں۔ پوسٹل بیلٹ ایک کرپٹ نظام ہے اور یہ کسی ایسے شخص کو بھی کرپٹ کر دیتا ہے جو فطرتاً کرپٹ نہ ہو۔یہ حیران کُن بات ہے کہ کیسے پوسٹل ووٹوں کی بڑی تعداد یکطرفہ ہے ۔ یہ پورا مرحلہ نہایت غیر منصفانہ ہونے کی وجہ سے بہت سی قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ری پبلکن پارٹی امریکی ملازمت پیشہ لوگوں کی پارٹی بن کر ابھری ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی پر بڑی ٹیکنالوجی اور میڈیا کمپنیوں کی حمایت یافتہ ہونے کا الزام عائد کیا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں 1960 کے بعد سے کسی بھی صدر کے مقابلے میں زیادہ لاطینی، افریقی امریکی، ایشیائی امریکی اور قبائلی امریکیوں کے ووٹ ملے ہیں۔انھوں نے اختتامیے میں کہا کہ وہ اور بائیڈن دونوں ہی ریاستیں جیتنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ حتمی طور پر ججوں کو فیصلہ کرنا ہوگا۔انتخابات2020پربہت زیادہ قانونی کارروائی کی توقع کر رہا ہوں اور قانونی کارروائی سپریم کورٹ میں ختم ہوسکتی ہے ۔ بریفنگ کے بعد وہ سوالوں کے جواب دیئے بغیر کمرے سے باہر چلے گئے البتہ امریکی نیوز چینلز نے بغیر ثبوت دھاندلی کے الزامات لگانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کی براہ راست نشریات روک دیں۔امریکی ٹی وی چینل ایم ایس این بی سی کے اینکر برین ولیمز نے ٹرمپ کی تقریر کو کٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک بار پھر غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے جہاں ہمیں نہ صرف امریکی صدر کے خطاب کے دوران مداخلت کرنی پڑرہی ہے بلکہ ان کی تصحیح بھی کرنی پڑ رہی ہے ۔اس کے علاوہ سی این این کے اینکر نے بھی کہا کہ یہ امریکا کے لیے افسوسناک رات ہے کہ امریکی صدر لوگوں پر الیکشن چرانے کا الزام لگارہے ہیں اور یہ جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ان کے پاس الیکشن چرانے کے الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان کی طرف سے بھی بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ امریکی عوام کا حق ہے کہ انھیں ووٹوں کی گنتی اور ان کی تصدیق کے عمل کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔یہ ایک الیکشن کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ہمارے پورے انتخابی نظام کی ساکھ کا سوال ہے ۔بیان میں ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام لگایا گیا کہ وہ اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ تمام قانونی بیلٹ گنے جانے چاہئیں اور کوئی غیر قانونی بیلٹ نہیں گنا جانا چاہیے ۔ ادھر ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اپنی تازہ ٹویٹس میں ایک بار پھر ہر ووٹ کی گنتی پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہمیں ٹرمپ کے ووٹوں کی گنتی سے متعلق دعوؤں سے لڑنا ہو گا،ہم انتخابی تحفظ کی لڑائی میں تاریخ کی سب سے بڑی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق جو بائیڈن آج امریکی عوام سے خطاب کریں گے ۔علاوہ ازیں امریکی میڈیا کے مطابق خفیہ سروس نے جیت کے لیے پر امید جو بائیڈن کی سکیورٹی کو بڑھانے کے انتظامات کر لئے ہیں ۔ ادھر متعدد ریاستوں میں انتخابی افسران کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے بے بنیاد الزامات کے بعد انہیں مشتعل افراد کی طرف سے اپنے سٹاف کی سلامتی کے حوالے سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے حالانکہ ابھی تک تشدد کے کسی بڑے واقعہ کی اطلاع نہیں ہے تاہم مظاہرین ووٹوں کی گنتی کے مراکز کے باہر جمع ہیں اور الیکشن حکام صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل الزامات کی وجہ سے پریشانی محسوس کررہے ہیں جبکہ ری پبلکن پارٹی میں ٹرمپ کے خلاف آوازوں میں تیزی آگئی ہے ۔ ری پبلکن پارٹی کے ایک سابق سینیٹر رک سینٹورم نے ٹرمپ کی پریس کانفرنس کو خطرناک قرار دیا ہے ۔ری پبلکن کے ایک اور سینئر سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار مٹ رومنی نے بھی ٹرمپ کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات پر تنقید کی ہے ۔مٹ رومنی نے کہا ہے امریکی صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے الزامات لگانے سے دنیا بھر میں آزادی کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں نے ری پبلکن پارٹی کو صدر کی پشت پناہی کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ وہ دوبارہ انتخاب میں کامیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈان جونیئر نے جماعت پر کمزور ہونے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ڈان جونیئر کے بھائی ایرک نے خبردار کیا ہے کہ ہمارے ووٹر کبھی آپ کو نہیں بھولیں گے ۔علاوہ ازیں ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹرمپ کے انتخابی دفتر کے مقدموں کی مالی معاونت کے لیے پانچ لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ دریں اثنا فلاڈیلفیا میں ووٹوں کی گنتی کے مرکز پنسلوینیا کنونشن سنٹر پر حملے کی پولیس تحقیقات شروع ہوگئی ہیں تاہم امریکا میں صدارتی انتخاب کے بعد مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے اور متعد د افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ فلوریڈ ا کے شہر میامی میں ٹرمپ کے حامیوں نے سڑک کنارے مظاہرہ کیا، شرکا نے صدر کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھی۔ صدر ٹرمپ کے سپوٹرز سڑک کنارے کھڑے ہو کر مزید چار سال، مزید چار سال کے نعرے لگاتے رہے ۔امریکی ریاست وسکونسن میں دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔ فاکس نیوز کے مطابق دونوں پولیس اہلکار ایک حادثے کی رپورٹنگ کر رہے تھے کہ ایک نامعلوم شخص نے انہیں گولیاں مارنے کے بعد فرار ہو گیا۔دونوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ ادھر نیویارک میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کے دوران پولیس اہلکار پر تھوکنے والی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.