Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پاکستان اور اٹلی کا پارلیمانی روابط کے فروغ پر اتفاق ، شاہ محمود قریشی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد  : پاکستان اور اٹلی نے پارلیمانی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طالبان قیادت کی جانب سے جنگ کے خاتمے، عام معافی افغانوں کے حقوق کے تحفظ اور افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات حوصلہ افزاء ہیں، پاکستان، افغان شہریوں کی جان و مال اور حقوق کے تحفظ کے ساتھ افغانستان میں اجتماعیت کی حامل حکومت کا متمنی ہے، افغانستان میں قیام امن کا فائدہ پورے خطے کو یکساں طور پر ہو گا، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سطح پر پاکستان اور اٹلی کے درمیان مربوط اشتراک، مستحکم تعلقات کا مظہر ہے، عالمی برادری کو افغانستان میں امن کی بحالی اور انسانی بنیادوں پر افغانوں کی مالی معاونت کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔وزارتِ خارجہ میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کا انعقاد ہوا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور اطالوی وفد کی قیادت اٹلی کے وزیر خارجہ لیوگی دے مایو نے کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں آپ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔وزیر خارجہ نے کرونا وبا کے دوران اٹلی میں قیمتی جانوں کے نقصان پر اطالوی ہم منصب کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جس طرح اٹلی نے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کئے وہ قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان میں، محدود وسائل کے باوجود، سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے اس وبا پر قابو پانے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کافی مدد ملی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان،اٹلی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سطح پر پاکستان اور اٹلی کے درمیان مربوط اشتراک، مستحکم تعلقات کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہاکہ اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان اور اٹلی کے نقطہ نظر میں مماثلت حوصلہ افزا ہے۔ وزیر خارجہ نے، جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور فیٹف کے حوالے سے، اٹلی کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر اطالوی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان یورپی یونین کے بہت سے ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سمیت کئی یورپی وزرائے خارجہ کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کا موقع مل چکا ہے۔وزیر خارجہ نے اٹلی کی جی 20 کی صدارت سنبھالنے پر،اطالوی وزیر خارجہ کو مبارکباد دی۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جی 20 کی طرف سے افغانستان کی صورتحال پر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے گذشتہ چار دہائیوں سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی اور بدامنی کے مضمرات کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں اگست کے وسط میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ افغانستان کے حوالے سے لگائے گئے تمام اندازے اور پشین گویاں غلط ثابت ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں اہم بات، جنگ کے خاتمے سے افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کی امید کا پیدا ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ طالبان قیادت کی جانب سے جنگ کے خاتمے، عام معافی افغانوں کے حقوق کے تحفظ، اور افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات، حوصلہ افزاء ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، افغان شہریوں کی جان و مال اور حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ افغانستان میں اجتماعیت کی حامل حکومت کا متمنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کے لوگ گزشتہ چالیس سالوں سے جنگ و جدل کا سامنا کرتے آئے ہیں، افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغانوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کو افغانستان میں امن کی بحالی اور انسانی بنیادوں پر افغانوں کی مالی معاونت کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں خانہ جنگی، مہاجرین کی یلغار جیسے خطرات پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس موقع پر امن مخالف عناصر(اسپائیلرز) پر بھی کڑی نظر رکھنا ہوگی جو افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے متحرک ہیں۔وزیر خارجہ نے اطالوی ہم منصب کو اپنے حالیہ چار ملکی دورے کی بابت آگاہ کیا۔میں نے تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کی قیادت کے ساتھ، افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں درپیش چیلنجز اور علاقائی سطح پر متفقہ لائحہ عمل کی تشکیل کیلئے مشاورت کی اور انہیں پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں قیام امن کا فائدہ پورے خطے کو یکساں طور پر ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے مختلف ممالک کے 12000 شہریوں کو کابل سے انخلاء میں معاونت فراہم کی اور پاکستان، انخلاء کے عمل میں مدد کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔اطالوی وزیر خارجہ نے افغانستان سے انخلاء کے عمل میں اطالوی شہریوں کی معاونت پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان پارلیمانی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات کے استحکام اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.