Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

 ایک بار پھرصدارتی نظام کے مباحث : عمر فاروقی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ملک میں صدارتی نظام کی بازگشت  ایک بارپھر سے سنائی دے رہی ہے ۔سوشل میڈیا اور  ٹویٹ کے ذریعے ایک مہم جاری ہے جس میں ایک بیانیے کو طاقتور بنایا جا رہا ہےکہ   ملک کے تمام مسائل کا حل صرف صدارتی نظام میں ہے۔  لیکن  ہمارے ہاں میڈیا کے روائتی  ذرائع میں  صدارتی نظام پر مباحث کواس قدر پذیرائی نہیں ملی لیکن سوشل میڈیا میں ایک خاص سمت کا تعین کرکے  اس حوالے سے مباحث کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے جس کی بازگشت اب پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی ہے کہ ملک چلانے کے لئے نظام کو تبدیل کردیا جائے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ کہیں بیٹھ کر شائد   طے کر لیا گیا ہے کہ ملک کے تمام بحرانوں کا حل صرف نظام حکومت کی تبدیلی ہےاور اس کاوقت آن پہنچا ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی دائر کی گئی کہ ملک میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے ،ملک کی بقاء کے لئے صدارتی نظام کے نفاذ کا حکم دیا جائے۔  وفاق پاکستان اور وزیر اعظم کو بھی فریق بنا تے ہوئے درخواست میں کہا گیا کہ عدالت وزیراعظم کو صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے ریفرنڈم کروانے کا حکم دے،  اس بارے میںکہا جارہا ہے کہ اگر کسی موقع پر ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں  کہ ملک کو پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کی طرف جانا پڑتا ہے تو اس کے بعدجمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا۔ صدارتی نظام کا مطالبہ کرنے والوں کی ایک بڑی اکثریت کا جھکاؤ حکمران جماعت تحریک انصاف کی طرف جانب  ہے ۔ اس کے مقابلے میں  رائے عامہ اور ذرائع ابلاغ میں طاقتور آواز ر کھنے والے سیاسی عناصر کی ایک بہت بڑی اکثریت اس بیانئے کی شدت سے مخالف ہے۔
اس حوالے سےموجودہ عمران خان کی حکومت سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی منظوری کے مفروضے پرپارلیمانی کی جگہ صدارتی  نظام حکومت  کے لیے کسی آپشن   کو استعمال میں لانے  کی حد تک چلی جاتی ہے کہ  تو اس کا مطلب یہ بھی ہو گا  کہ  عمران خان اور ان کی حکومت اپنی بے عملیوں اور کچھ نہ کرسکنے کے سبب حکومت چلانے کی صلاحیت اور استعداد سے محروم  ہے    جو ایک طرح سے حکومت کی جانب سے اپنی ناکامی اور نااہلی کا اعتراف ہوگا۔ ایسی صورت میں   یہ بات بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی کہ   وزیراعظم  صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے ریفرنڈم کے ایشو کو پارلیمنٹ میں لے جاتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہاں سے ریفرنڈم  کے لیے کوئی قراردار منظور کروا لی جائے گی تو ایسا ممکن نہیں ۔ یا    پارلیمنٹ کو بلڈوز کرتے ہوئے حکومت اپنے عزائم میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ملک کی سالمیت اور قومی یک جہتی کیلئے انتہائی تباہ کن ہوگا ۔اور   1973 کے متفقہ آئین کے  تحت چل رہےپارلیمانی نظام    کو تباہ کرنے کی ذمہ داری بالآخر اسی پر ہی آئے گی جس کا ذکر تاریخ میں ہمیشہ سیا ہ لفظوں سے کیا جاتا رہے گا ۔
پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کی ناگزیریت کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کی  ضرورت اس لیے پیش آ رہی ہے   کہ بعض اوقات ریاست اور حکومت  کو کچھ چیلنجز کے مقابلے  کے لیے فوری فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے پاس کس قدر پارلیمانی استعداد نہیں ہوتی کہ فیصلہ سازی  کو    پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے  میں کامیابی حاصل کر سکے۔ لیکن اس کیلئے یہ بھی ضروری نہیں کہ آئینی اور قانونی طرز حکومت کے پورے ڈھانچے کو ہی تباہ کردیا جائے ایسا کرنا  بہت بڑا قومی جرم ہو گا ، اس کیلئے وزیر اعظم کو سوچنا ہوگا کہ وہ خود اسی نظام کی پیداوار ہیں اور آج جس منصب پر حق اقتدار سے لطف اندوز ہورہے وہ منصب اسی نظام  نے انہیں عطا کیا ہے ۔یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ اصل    مسئلہ سسٹم یا نظام  حکومت کا نہیں کہ وہ پارلیمانی ہونا چاہئے یا صدارتی   بلکہ بطور وزیراعظم عمر ان خان کی بے عملی اور ان کی ناہلی ہے۔ انہیں خود سوچنا چاہیے کہ انہوں نے تبدیلی کے جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔  یہاںاس  بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ  وزیر اعظم عمران خان اپنی صوابدید پر اپنے فیصلے کرتے ہیں اور کسی قسم کا کسی قسم کی روک ٹوک کے بغیر کرتے ہیں صوبوں میں مداخلت کی بات ہو تو صوبے ان کی بات مانتے ہیں  جبکہ صوبوں کو  مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح  اسی طرح اپنی کابینہ میں وہ جب چاہیں  جیسے چا ہیں ردوبدل کرتے ہیں انہیں کوئی روکنے والا نہیں ۔ اسد عمر کو پہلے انہوں نے وزارت سے علیحدہ کیا اور پھر انہیں دوبارہ وزارت میں لے آئے، اپنے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کے خلاف چینی سکینڈل   کی انکوائریاں کروائیں اور جب سرکاری اداروں نےاپنی رپورٹیں فائل کردیں تو کاروائی کرنے کے بڑے بڑے دعوے کئے گئے اور جہانگیر ترین اسوقت ملک سے باہر جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ وزارتوں کے لئے فائنل ہونے والے بعض ناموں کو بعض اوقات ہو اپنی مرضی سے مسترد کر دیتے ہیں۔  پنجاب ایک اہم صوبہ ہے بلکہ ایک طرحسے صوبہ پنجاب ہی پاکستان  ہے ، اس کے انتظامی امور کی سربراہ کا عہدہ بہت اہم ہوتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ  چیف سیکرٹری صاحبان  کے آئے روز ہونے والے تباد لوں سمیت اب تک جتنے بھی آئی جی تبدیل ہو چکے ہیں لوگوں کو اب ان کی تعداد بھی یاد نہیں۔  آئی ایم ایف اے پاس نہ جانے کا وہ دعوی کرتے تھے لیکن جب انہوں نے جانے کا وعدہ کیا فیصلہ کیا تو پورے اختیارات کے ساتھ کیا   حالانکہ اپنے غیر دانشمندانہ  رویہ کے تحت انہوں  نے اس میں  بہت تاخیر کر دی تھی جس پا کستان کو نقصان اٹھانا پڑا تھا ،  وہ اپنے مخالف حکمرانوں پر ہر وقت الزام لگاتے رہتے تھے کہ ان کی وجہ سے قرضوں سے ملک تباہ ہوگیا لیکن ان کے دور میں قرضہ لینے کی رفتار  کا ریکارڈ ملکی تاریخ کا حصہ ہےاور وہ پورے دھڑلے سے اس کا الزام اپنے سیاسی مخالفوں پر لگا تے ہیں کہ ان کی کرپشن اور غلط حکمت عملیوں کے باعث ان کی حکومت نئے قرضے لینے پر مجبور ہے ،  ان سب کے باوجود ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لہذا ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ وزیراعظم نے ایسا کچھ کہا تھا اور وہ یا انہیں بے بسی کا سامنا کرنا پڑا۔یہا ں اس بات کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ   وزیراعظم بہت کچھ کرسکتا ہے لیکن سب کچھ نہیں کر سکتا  کیونکہ وہ جمہوری طور پر منتخب ہوتا ہے اور اسے  بالآخر جواب د ہ ہونا پڑتا ہے اورسب ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے  اور یہ کام صدارتی نظام میں بھی صدر کو کرنا پڑتا ہے اس کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
صدارتی نظام کے حوالے سے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ  صدارتی نظام میں اختیارات کا ارتکاز شخصی ہو جاتا ہے جو بعد میںلاتعداد خرابیوں کا سبب بن جا تا ہے۔ ملک اس سے قبل سکندر مرزا سے لے کر ایوب خان اور ضیاء الحق سے مشرف تک  حکمرانی کےصدارتی نظام کے تجربات سے گزر چکا ہے۔  اور قوم کو تین مارشل لائوں کاسامنا کرنا پڑا۔1962ء کا آئین صدارتی آئین تھا۔ اس صدارتی آئین کے  ہاتھوں پاکستان  ٹوٹ گیا۔  یہ ہماری قومی تاریخ ہے اور اسے نظرانداز کرنے کی بجائے اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔  صدارتی نظام کی ناگزیریت کے حوالے سے کسی جانب سے اگرکوئی خواہش موجود ہے تو اس کا بہترین طریقہ پارلیمنٹ ہے اور اگر آئین کے ذریعے ایسا نہیں کیا جاتا تو اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرا راستہ پاکستان کی تباہی کا راستہ ہے۔ دوسری صورت میں  بہتر طریق کار یہی ہے کہ اس کیلئے نئے انتخابات کروائے جائیں جہاںہماری سیاسی روایات کے مطابق کسی ایسی پارٹی کو کامیاب کروالیا جائے جو پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کا مینڈیٹ لے کر آئے اور پارلیمنٹ میں  آئینی ترامیم کے ذریعے اس میں تبدیلی لائی جا سکے۔ لیکن موجودہ حالات میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے  ، اس کیلئےاٹھارویں ترمیم کو ختم کرنا پڑے گا جو بہت مشکل ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایسا نہیں ہونے دیں گی۔ اس کے علاوہ اگر کسی جماعت یا جماعتوں کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کی طاقت ہو بھی تب بھی ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان کی اعلی ترین عدالت، سپریم کورٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خد و خال طے کر چکی ہےاور وفاقی پارلیمانی نظامِ حکومت اس ڈھانچے کا حصہ ہے۔ سپریم کورٹ محمود خان اچکزئی کے مقدمے میں قرار دے چکی ہے کہ وفاقی، پارلیمانی، آزاد عدلیہ اور اسلامی دفعات پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔  وطن عزیز کو شدید قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت کو بجلی، پانی ، گیس، مہنگائی، بے روزگاری، بجٹ خسارے، بیرونی قرضوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے، اس ملک کا بچاؤ معیشت پر ہے، اور معیشت کا برا حال ہے۔حکومت کو اس طرح کی فضول قسم کی بحثوں میں پڑنے کی بجائے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.