Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بادگیر: وہ طرزِ تعمیر جو بجلی کا خرچ 90 فیصد تک کم کر سکتا ہے

0

آج کے دور میں گرم ہوائیں، ایندھن کی آسمان کو چھونے والے قیمتیں، آپ چاہے دنیا میں کہیں بھی ہوں گھر کو گرم کرنا یا ٹھنڈا کرنا بے انتہا مہنگا ہوتا جا رہا ہے اور یہ ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

گُزشتہ چند دہائیوں سے زمین کے وہ حصے جہاں عموماً آب و ہوا معتدل ہوتی تھی، اب وہ حصے بہت زیادہ شدید موسماتی تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔

جتنی زیادہ گرمی، اتنی ہی زیادہ ایئر کنڈیشنگ، جس کے نتیجے میں زیادہ بجلی کا استعمال ہو گا، جو عالمی حدت میں اضافے کی ایک سبب بھی بنے گا اور پھر اس سے گرمی میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ ایک ایسا شیطانی دائرہ ہے جس کا ہم پہلے ہی سے شکار ہو چکے ہیں۔ اور جو ہمیں تباہی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

تاہم ایسے متبادل تعمیراتی نمونے موجود ہیں جن کی مدد سے ایسی عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں جو ماحول پر کوئی برا اثر نہیں ڈالتی۔

اس میں ایک تو یہ طریقہ تھا کہ ان متبادل تعمیرات میں ری سائیکل کرنے کے قابل قدرتی مواد، جیسے لکڑی یا گارے کا استعمال کیا جاتا، یا یہ کہ وہ ایسے رہنما اصولوں کے ایک سلسلے پر عمل کرتے جو توانائی (بجلی یا گیس) کے استعمال کو بہت حد تک کم کر دیتے ہیں۔

موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر

سردی میں گرم، گرمی میں ٹھنڈا

مؤخر الذکر ایک ایسا تصور ہے جسے ‘موسمیات سے موافقت رکھنے والے مکانات’ کے نام سے جانا جاتا ہے، جنھیں سینٹرل ایشیا اور ایران وغیرہ میں ‘بادگیر’ عمارت کہتے ہیں، جو عمارت کے اپنے فن تعمیر کا استعمال کرتے ہوئے انہیں سرد مہینوں میں گرم رکھنے اور گرم مہینوں میں ٹھنڈا رکھنے کے قابل بنا دیتے ہیں، اور جو بجلی کے خرچے کو 90 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔

سینئر سائنسدان برتھولڈ کافمین بتاتے ہیں کہ ‘(ایسی تعمیرات کے پسِ پشت) آئیڈیا یہ ہے کہ توانائی (بجلی یا گیس) کی بچت صرف صارف کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے ایک تکنیکی معاملہ سمجھتے ہوئے فن تعمیر کے اجزاء اور تکنیکی علم کے ذریعے اس کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔’

‘پاسیو ہاؤس انسٹی ٹیوٹ’ (Passivhaus Institut)، ایک جرمن ادارہ ہے جس نے ‘بادگیر’ یا ‘موسمیات سے موافقت رکھنے والے’ تعمیراتی معیار قائم کیے ہیں جو اب پوری دنیا میں مقبول ہو رہے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں توانائی کے استعمال کو کم کرنے کا انحصار صرف تھرموسٹیٹ کو کم کرنے، سردیوں میں گرم لباس پہننے یا گرمیوں میں گرم رہنے کی عادت پر نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس مقصد میں فن تعمیر کو مدد کرنی چاہیے اور یہ کر سکتی ہے۔

بنیادی اصولوں کی ایک سیریز پر عمل کرتے ہوئے، جیسے اچھی موصولیت (اِنسولیشن) اور شمسی واقفیت اور ارد گرد کے موسمی حالات کے مطالعے سے ‘بادگیر’ یا موسمیات سے موافقت رکھنے والے مکانات’ توانائی کے اثرات کو کم سے کم سطح تک لا سکتے ہیں۔

ہسپانوی ماہر تعمیرات، ناچو کورڈیرو، جسے ‘ پاسیو ہاؤس’ (passivhaus) کے آئیڈیا کے مطابق تربیت دی گئی ہے، وہ اس کی وضاحت کے لیے ایک تشبیہ استعمال کرتا ہے: ‘تصور کریں کہ آپ ایک کشتی بنانے جا رہے ہیں، اور اسے ڈیزائن کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک جہاز کا پیندا بنایا جائے جس کی وجہ سے یہ ڈوبتا نہیں ہے۔ بادگیر یا موسمیات سے موافقت رکھنے والی تعمیر اس کے برعکس ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ جہاز کو پیندے کی ضرورت نہ ہو یا اس کے پاس یہ صرف ہنگامی صورتحال کے لیے ہو۔’

بنیادی طور پر وہ بتاتے ہیں کہ یہ آئیڈیا بہت سادہ ہے، ‘یہ چیزوں کو درست طریقے سے کرنے کی ایک کوشش ہے’۔

اگرچہ ہم عام طور پر ماحولیات دوست گھروں کو شاندار اور پرتعیش تعمیرات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، یا جو بہت رومانوی خوابیدہ جگہوں پر واقع ہیں۔ حقیقت میں کوئی بھی گھر، یہاں تک کہ ایک ہلکا مضافاتی اپارٹمنٹ بلاک، ایک ‘بادگیر’ یا ‘موسمیات سے موافقت رکھنے’ والا گھر ہو سکتا ہے۔

بلاشبہ آئس لینڈ یا اسپین یا کیوبا میں ان کے معیار پر پورا اترنے والی عمارتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوں گی۔

مثال کے طور پر ایسا تصور اور تعمیرات کی خصوصیات جن کی بنیاد پر ایسی عمارتیں بنائی جاتی ہیں، وہ ایک سرد ملک میں ایسی ہوں گی جہاں سورج کی حدت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ ایک ایسے خطے جہاں گرمیوں میں جھلسانے والی گرمی ہوتی ہے، وہاں سایہ دار جگہیں بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر

توانائی کے استعمال کو کم سے کم رکھنا

تاہم ان سب کا مقصد ایک ہی ہے، توانائی کے استعمال کو کم سے کم رکھنا۔

کافمین کہتے ہیں کہ ‘نئی رہائش کے لیے بادگیر یا موسمیات سے موافقت رکھنے والے مکانات کا مقصد یہ ہے کہ وہ ہر سال زیادہ سے زیادہ 15 کلو واٹ فی مرابع میٹر بجلی استعمال کرتے ہیں، اور 25 ان کے لیے جن کی ان معیارات کے ساتھ تزئین و آرائش کی گئی ہے۔’

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ایک روایتی گھر ہر سال 150 سے 300 کلو واٹ فی مربع میٹر کے درمیان بجلی استعمال کر سکتا ہے، توانائی کے استعمال میں بچت ہر حال میں اہم ہونی چاہیے ہے۔

بادگیر فن تعمیر کہاں سے آتا ہے؟

بنیادی طور پر، بادگیر یا موسمیات سے موافقت رکھنے والا فن تعمیر، جسے ایک عمارت کو اُس کے گردونواح کے موسمی حالات کے مطابق ڈھالنے والے کے طور پر سمجھا جاتا ہے، یہ زمانہ قدیم سے موجود ہے۔

پوری تاریخ میں مختلف لوگوں نے اپنے ماحول میں دستیاب وسائل کو استعمال کرنے اور جغرافیہ اور موسم کے مطابق ایسے مکانات بنانے کی کوشش کی ہے جو انہیں ایک قابل قبول سطح کا آرام فراہم کرتے ہیں۔

مالی کے کچے گھر، صحارا کی سخت دھوپ میں اندر سے ٹھنڈے مکانات یا قطب شمالی کے علاقوں کے مقامی لوگوں کے ایگلو، پائیدار اور موسمیات سے موافقت رکھنے والی رہائش گاہیں ہیں۔

موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر

تاہم 20 ویں صدی میں جدید ایئر کنڈیشنگ اور ہیٹنگ نظام کی ایجاد کے ساتھ فن تعمیر بڑی حد تک اپنے ارد گرد کی آب و ہوا کے مطابق تعمیرات کے تصور سے سے الگ ہو گیا۔

مثال کے طور پر دھوپ والے علاقے میں شیشے سے بنی عمارت کو ایئر کنڈیشنر سے ٹھنڈا رکھا جا سکتا ہے۔ ہیٹنگ بوائلر، چاہے گیس ہو یا تیل، گھروں کو گرم رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسی کھڑکیوں پر بھی انحصار کرنا پڑتا ہے جو مکمل طور پر بند بھی نہیں ہوتی ہیں۔

مقبول ہوتا فن تعمیر

سنہ 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران نے توانائی کی کارکردگی کے تصور کو ہماری منصوبہ بندیوں میں اہم بنا دیا، جو کہ موسمیاتی حالات کے خراب ہونے کی وجہ سے ایک ترجیح بن گیا ہے۔

تب سے عمارتوں میں توانائی کے اثرات کو کم کرنے کے مقصد کے ساتھ فن تعمیر کے سکولوں میں’بادگیر یا موسمیات سے موافقت رکھنے والی رہائش’ کا تصور مقبول ہو گیا ہے۔

اگرچہ امریکہ، اٹلی، یا سوئٹزرلینڈ میں مختلف سکیمیں وجود میں آتی ہیں، لیکن ایک اہم سکیم سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں جرمنی کے وولف گینگ فیسٹ اور سویڈن کے بو ایڈمسن نے قائم کی تھی۔

اس کا پہلا ‘ پاسیو ہاؤس’ (passivhaus) سنہ 1991 میں بنایا گیا تھا۔ آج دنیا بھر میں ہزاروں عمارتیں اس طرزِ تعمیر کے مطابق کھڑی کی جا چکی ہیں۔

موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر

،تصویر کا ذریعہBBC URDU

ایسی تعمیر کے اصول کیا ہیں؟

پانچ بنیادی اصول بادگیر یا موسمیات سے موافقت رکھنے والے گھر کے معیار کا تعین کرتے ہیں۔

حرارتی موصلیت (تھرمل انسولیشن)

بادگیر گھروں میں بہترین تھرمل انسولیشن ہوتی ہے، جو روایتی عمارتوں سے تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

کافمین بتاتے ہیں کہ ‘سرد موسم میں آپ کو انسولیشن کی 20 یا 30 سینٹی میٹر کی تہوں کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے، حالانکہ معتدل موسموں میں اس کا اتنا موٹا ہونا ضروری نہیں ہے۔’

یہ حفاظتی تہہ جو گھر کے چاروں طرف ہے سردی یا گرمی کے داخلے اور اس کے نقصان دونوں کو روکے گی۔

ہوا بند جگہ (ائر ٹائیٹ)

اگر ایک گھر میں معیاری انسولیشن نصب کی گئی ہے لیکن اسے اچھی طرح سے ہوا بند یا سِیل نہیں کیا گیا ہے تو گرمی ان سوراخوں یا خلا سے نکل جائے گی اور غیر آرام دہ راستے بن جائیں گے جن سے توانائی کی کارکردگی ختم ہو جائے گی۔

‘پاسیو ہاؤس’ (passivhaus) عمارتوں میں ہوا کے آنے جانے کے رستوں کو مکمل بند کرنے کے اصول کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور اس کے لیے یہ اچھی طرح ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں ہوا کو گھروں میں دباؤ سے چھوڑا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کہاں سے لیک ہوتی ہے اور پھر ان جگہوں کو مزید ٹائیٹ کیا جاتا ہے۔

معیاری گھر اور دروازے

توانائی کا ایک بہت اہم حصہ جو ہم گھر کو گرم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ گرمی کھڑکیوں سے لیک ہوتی ہے۔

موسمیات سے موافقت رکھنے والے مکانات نہ صرف زیادہ سے زیادہ شمسی توانائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے گھر کے کھلنے کی سمت کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھتے ہیں بلکہ گرمی کے نقصان سے حتی الامکان بچنے کے لیے ٹرپل گلیزڈ کھڑکیاں بھی استعمال کرتے ہیں۔

تھرمل برجز کی کمی

یہ وہ پوائنٹس ہیں جہاں انسولیشن (موصل) کی سطح کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ ٹوٹ جاتی ہے (مثال کے طور پر، کیل یا ایلومینیم کی کھڑکی کے فریم) اور اس کی وجہ سے گرمی عمارت میں داخل ہوسکتی ہے۔

گرمی کی بحالی کے ساتھ وینٹیلیشن کا نظام

سردیوں میں ہوا کے لیے کھڑکیوں کو کھولتے وقت اندر کی گرمی ختم ہو جاتی ہے اور اسی طرح گرمیوں میں ٹھنڈک ختم ہو جاتی ہے۔

موسمیات سے موافقت رکھنے گھروں میں ایک مکینیکل وینٹیلیشن سسٹم نصب ہوتا ہے جو ہوا کو فلٹر کرتا ہے اور داخل ہونے والی ہوا کو گرم کرنے کے لیے گھر کی اپنی حرارت کو بحال کرتا ہے۔

اگر کسی گھر میں یہ سسٹم نصب ہو تو وہاں کھڑکیوں کا کھولنا ضروری نہیں ہے۔

موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر

سرکاری قوائد و ضوابط

یہ معیار دنیا کے ان خطوں میں تیزی سے عام ہو رہے ہیں (جیسے یورپی یونین) جہاں اداروں کا تقاضہ ہے کہ نئی تعمیرات میں ہر ممکن حد تک تقریباً صفر توانائی کا استعمال ہو اور اس کے لیے ایسے رہنما اصول وضع کیے جا رہے ہیں جو ہر ملک میں اس کے اپنے ریگیولیٹرز نافذ کرتے ہیں۔

لیکن عام طور پر زیادہ سے زیادہ ممالک نئی عمارتوں کے کاربن گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بعض اوقات حیران کن اقدامات کے ساتھ بھی، جیسا کہ نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو کی طرف سے عائد کرنے کی کوشش کی گئی، جس نے ‘کلاسک شیشے اور سٹیل کی فلک بوس عمارتوں کی تعمیر پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی، یہ عمارتیں ناقابل یقین حد تک ناکارہ ہیں۔’

موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر

موسمیاتی موافقت کے مطابق تعمیرات کا یہ اعلیٰ پیمانہ آگے نہیں بڑھ سکا، لیکن اس نے بہت سے لوگوں کو فن تعمیر اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تعلق کے بارے میں آگاہی دی۔

کافمین کے لیے، ڈی بلاسیو کی تجویز بہت معنی رکھتی ہے جو نہ صرف (تعمیراتی پیمانہ) زیادہ ماحولیاتی ہے، بلکہ یہ سستی بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’30 سے 50 فیصد شیشے کا رقبہ آپ کی ضرورت سے زیادہ روشنی حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔ مثال کے طور پر دفتر کی عمارت میں میزوں کے اوپر صرف کھڑکی کا حصہ مفید ہے، اس کے نیچے کی ہر چیز ہماری ضرورت نہیں ہے، گرمیوں میں بہت زیادہ گرمی ہوگی اور سردیوں میں وہاں گرمی ختم ہو جائے گی۔‘

کیا میں اپنے گھر کو موسمیاتی موافقت والا بنا سکتا ہوں؟

کوئی بھی گھر ایک ‘موسمیات سے موافقت رکھنے والا گھر’ بن سکتا ہے۔

سب سے زیادہ کارآمد وہ ہو گا جو پہلے ہی ان معیارات کے ساتھ بنائے گئے ہوں، لیکن کافمین کہتے ہیں کہ ‘گھروں کی تزئین و آرائش پاسیو ہاؤس (passivhaus) تصور کے بعد کی جا سکتی ہے۔‘

کورڈیرو بتاتے ہیں کہ ‘یہ پوری عمارتوں یا واحد خاندانی گھروں کی بحالی میں زیادہ عام ہے’، حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی اپارٹمنٹ کو ‘پاسیو ہاؤس’ کے معیار کے زیادہ سے زیادہ قریب جانے کے لیے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر

موسمیات سے موافقت رکھنے والے ایک گھر کی قیمت کتنی ہو گی؟

ظاہر ہے کہ معیاری میٹیریل میں اخراجات سے تعمیراتی عمل زیادہ مہنگا ہو جاتا ہے۔

‘یہ سچ ہے کہ یہ کچھ زیادہ مہنگا ہے، لیکن بہت زیادہ مہنگا نہیں ہے،’ کافمین تسلیم کرتے ہیں۔

دیگر عناصر جیسے اعلیٰ معیار کی کھڑکیاں، بھی حتمی قیمت میں اضافہ کرتی ہیں۔

ماہرین کے خیال میں’مطلق تعداد میں ہم ایک نئی تعمیر کے لیے ایک اضافی 100 ڈالر فی مربع میٹر کا حساب لگاتے ہیں۔ اور تزئین و آرائش کے لیے تھوڑا سا زیادہ، تقریباً 150 ڈالر سے لے کر 200 ڈالر فی مربع میٹر خرچا آتا ہے۔’

آرکیٹیکٹ کورڈیرو تسلیم کرتا ہے کہ اس قسم کی تعمیر مکانات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے، خاص طور پر اگر آپ ‘پاسیو ہاؤس انسٹیٹیوٹ’ (Passivhaus Institute) کی طرف سے پیش کردہ سرٹیفیکیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ عمل طویل ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ لازمی نہیں ہے، لیکن آخر میں یہ معیار کی سند ہے۔’

موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر

مکمل طور پر ہوا بند گھر ہو یا اس کے برعکس، مقصد ایک ہی ہے: توانائی بچائیں۔

‘کلائنٹ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ ایک ایسا گھر چاہتے ہیں جس کی دیکھ بھال میں توانائی ضائع نہ ہو۔ آخر میں یہ عام فہم ہے: اگر آپ گھر بنانے جیسی بڑی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں، تو بہتر ہے کہ اس کی تعمیر پر تھوڑا زیادہ خرچ کریں۔ تاکہ پھر یہ مہینہ بہ مہینہ خرچ زیادہ قابل برداشت ہو۔‘

بادگیر گھر کی دیکھ بھال

وینٹیلیشن سسٹم کے علاوہ، جس کے لیے وقتاً فوقتاً فلٹرز تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، باقی دیکھ بھال وہی ہے جو روایتی عمارتوں میں ہوتی ہے۔

آخر میں کاف مین بتاتے ہیں، یہ آگے کی سوچ کے بارے میں ہے۔ موسمیاتی موافقت والا فن تعمیر کے لیے اتنی کم توانائی کی کھپت کی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے صرف قابل تجدید (رینیو ایبل) توانائیوں سے فراہم کیا جا سکتا ہے، جو فی الحال روایتی عمارتوں کے لیے ناممکن ہے۔

‘اس لیے ہمیں ان کی توانائی کی طلب کو کم کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مستقبل میں ہمارے پاس گیس یا توانائی کے دیگر فوسل ذرائع نہیں ہوں گے۔’

ایک ایسا مستقبل جو شاید اتنا بھی دور نہیں ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.