Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

خالصتان کیوں نہیں؟ 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

اکرام سہگل

 

سکھ مت ایک توحید پرست مذہب جس نے 15ویں صدی عیسوی میں برصغیر میں جنم لیا۔ تاریخی پس منظر کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ حقیقیت واضح ہوجاتی ہے کہ اس خطے میں رسوم و رواج کی گرد میں دب جانے والی سچائی کی باز یافت کے لیے سکھ مت کی صورت میں ایک نئے تصور مذہب کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ سکھ مذہب کے بنیادی متون ”ادی گرنتھ“ اور ”دسم گرنتھ“ میں ہندو اور مسلمانوں کے حوالے بھی ملتے ہیں اور یہ پیغام دیا گیا ہے خدا کی بندگی کو انسانوں کی وحدت کی بنیاد بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس پہلو پر بات کی گئی ہے کہ انسانوں کی مصنوعی تقسیم اور بے معنی و لغو رسم و رواج نے اس بنیادی سچ کو مقید کردیا ہے۔

اس تصور کی بڑی واضح مثال دسم گرنتھ کے اس معروف اقتباس میں دیکھی جاسکتی ہے؛ ” بعض خود کو ہندو کہلاتے ہیں اور دوسرے مسلمان، کسی فرقہ سنی ہے تو کسی کا شیعہ۔ جان لو، انسان سب ایک ہیں اور انسانیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ خدا بھی ایک ہے، ہندوو¿ں اور مسلمانوں نے اسے جدا جدا نام دیے ہیں۔ گمراہ مت ہونا، خدا ایک ہی ہے، جو اس دھوکے اور وہم کو نہیں مانتا۔“ یہ

خیرہ کُن سچائی خود سکھ مت میں کئی صدیوں پر رسوم و رواج میں کھو گئی اور سکھوں نے بھی خود کو برصغیر میں سب سے الگ ایک کمیونٹی بنا لیا۔

اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں سکھوں نے پنجاب اور شمال مغربی ہندوستان پر حکمرانی کی اور ان خطوں میں سکھوں کی بڑی آبادی پائی جاتی ہے ، اسی طرح دنیا کے دیگر خطوں میں بھی سکھ خاصی تعداد میں آباد ہیں۔ 1920میں تارا سنگھ کی زیر قیادت سکھوں کی سیاسی نمائندگی کے لیے اکالی دَل کی بنیاد رکھی گئی۔ 1947 میں جوں جوں ہندوستان کی تقسیم قریب آرہی تھی نہرو کی قیادت میں کانگریس اور قائد اعظم کی سربراہی میں مسلم لیگ کے مابین سکھ برادری کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسابقت سخت ہوتی گئی۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ نہرو نے سکھوں سے تقسیم کے مذاکرات میں حمایت کے بدلے انڈین فیڈریشن کے تحت ایک آزاد سکھ ملک بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

مسلم لیگ کی جانب سے قائد اعظم نے سکھ قائدین تارا سنگھ، مہاراجا پٹیالہ وغیرہ کے سامنے بہت فراخ دلانہ شرائط رکھی تھیں اور انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ ہندوستان کی تقسیم میں وہ پنجاب کی تقسیم نہ ہونے دیں۔ قائد اعظم نے یہ پیش کش کی تھی کہ سکھوں کو ایک آزاد ریاست حاصل ہوگی اور جو ایک دو اضلاع کے علاوہ غیر منقسم پنجاب پر قائم کی جائے گی۔ روایتی طور پر کانگریس سے قریب رکھنے والی سکھ قیادت نے یہ پیش کش تسیلم نہیں کی، اس کا ایک محرک یہ بھی تھا کہ انہیں خدشات لاحق تھے کے قائد اعظم کے بعد پاکستان اس وعدے کو براقرار رکھے گا یا نہیں۔ اس پیش کش سے تقسیم ہند اور برصغیر کے مستقبل سے متعلق قائد اعظم کے تصور و بصیرت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 1947میں تقسیم ہند کے اعلان سے چند ماہ قبل وہ مولوی فضل حق اور حسین شہید سہروردی کی جانب سے غیر منقسم بنگال اور آسام پر مشتمل علیحدہ اور آزاد ملک کی تجویز پر رضا مند ہوگئے تھے۔ 17جون، 11اور 30جولائی 1947کو قائد اعظم نے بطور صدر آل انڈیا مسلم لیگ پالیسی بیان جاری کیا کہ رجواڑوں اور نوابی ریاستوں کو آزادی اور بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک سے الحاق کی مکمل آزادی دی جائے۔ اس کی بنیاد پر کشمیر کی آزادانہ ریاست کا آپشن کھلا رہا۔ تصور کیجیے کہ پاکستان، کشمیر، پنجاب اور بنگال سمیت ناگا لینڈ اور شمال مشرقی 7ریاستیں ناگا لینڈ وغیرہ آزاد ہوتیں تو آج اس خطے کا کیا منظر ہوتا۔قائد اعظم اپنے عہدے سے بہت آگے دیکھ رہے تھے۔ سکھ آج بھی وہ تاریخی موقعہ ضائع کرنے کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ 1960میں سکھوں کی جانب سے دیگر ریاستوں(صوبوں) کی طرح لسانی بنیادوں پر پنجابی ریاست کے قیام مطالبے کے بعد ہندو اور سکھوں کے درمیان مخاصمت بڑھنا شروع ہوگئی۔ سکھوں کے مطالبے کو جزوی طور پر پورا کرنے کے لیے چندی گڑھ کو 1966میں وفاقی علاقہ قرار دے کے پنجاب اور ہریانہ کا مشترکہ دارالحکومت بنادیاگیا۔ اس اقدام سے سکھ مطمئن نہیں ہوئے۔

سکھ رہنما جرنیل سکھ بھنڈرا نوالہ نے، جنھیں ابتدا میں سنجے گاندھی کی حمایت حاصل تھی، خود مختار اور آزاد پنجاب کے لیے مسلح جدوجہد شروع کردی۔ 1982میں سویت یونین کے لیڈر اور کے جی بی کے سابق سربراہ یوری آندرپوف نے ایسی جعلی دستاویزات تیار کرنے کی منظوری دی جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ پاکستان آئی ایس آئی کے ذریعے سکھ ریاست کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس گمراہ کن مہم میں یہ بات بھی شامل تھی کہ امریکی سی آئی اے سکھوں کی مدد کررہی ہے جس کی وجہ سے اندرا گاندھی نے اس تحریک کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھنا شروع کردیا۔ جب سکھ قیادت سے مذاکرات ناکام ہوگئے تو وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ”آپریشن بلیو اسٹار“ کی منظوری دی اور گولڈن ٹیمپل میں محصور جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ، امرت سنگھ اور میجر جنرل ریٹائرڈ شاہ بیگ سنگھ کو راستے سے ہٹانے کے احکامات جاری کی۔ اس کے علاوہ پنجاب کے دیگر گردواروں سے بھی سکھ عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔ یکم جون سے شروع ہونے والے آپریشن 10جون 1984تک جاری رہا۔ اصل کارروائی تین جون کو شروع ہوئی۔ سکھوں نے بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا اور بھارتی فوج 40گھنٹے کے محاصرے کے بعد گوردوارے کا کنٹرول حاصل کرنے میں کام یاب ہوئی۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس آپریشن میں 83فوجی مارے گئے اور 249زخمی ہوئے۔ ستمبر 1984میں راجیو گاندھی نے انکشاف کیا کہ اس کارروائی میں 700فوجی مارے گئے۔ یہ آج تک معما ہے کہ بھارتی حکومت نے ہرمیندر صاحب کے بانی گرو ارجن کی برسی کے دن 3000سکھ زائرین کو گولڈن ٹیمپل میں داخلے کی اجازت کیوں دی اور بعد میں انہیں وہاں محصور کردیا گیا۔ سیکڑوں جانیں ضائع ہوئیں اور سکھ آج تک شبہہ کرتے ہیں کہ ان سکھوں میں بھارتی فوج زیاد سے زیادہ شہریوں کی موت چاہتی تھی تاکہ سکھوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس آپریشن کے نتیجے میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ اس کے بعد دہلی میں ہونے والی سکھوں کی قتل و غارت میں اندازا تین ہزار سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس کے علاوہ تین ہزار سکھ فوجیوں کا کورٹ مارشل کیا گیا۔ درجنوں سکھ افسران نے بھارت کی مسلح افواج سے استعفی دے دیا۔

بھارتی حکومت نے 1985میں سکھوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے راجیو لونگووال ایکارڈ کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں سکھوں کی ایسے مذہبی، علاقائی اور اقتصادی مطالبات کو تسلیم کیا گیا جن پر اندرا گاندھی کے دور میں بات بھی نہیں کی جاتی تھی۔ معاہدے میں چندی گڑھ اور دریا کے تنازعات ختم کرنے کے لیے کمیشن اور ٹرائیبیونل بنائے گئے جس نے اگلے انتخابات میں اکالی دل کی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ تاہم سبھی سکھوں نے اس معاہدے کو تسلیم نہیں کیا۔

بے نظیر دور میں راجیو گاندھی کی پاکستان آمد کے بعد انٹیلی جینس کے حلقوں میں یہ افواہ گرم رہی کہ اس وقت کے وزیر داخلہ نے خالصتان تحریک کے مسلح سکھ کارکنان کی فہرستیں بھارت کے حوالے کیں۔ اعتزاز احسن کی تردید کے بعد یہ خبر گردش میں رہی۔ 1990کی ابتدا میں بھارت نے اس مزاحمت کو کچلنے کے لیے بے رحمانہ کارروائیوں کا آغاز کیا جس میں کئی شہریوں کی جانیں گئیں۔ پنجاب میں ریل گاڑیوں کی پٹڑی سے اترنے اور دہلی اور پنجاب کی مارکیٹوں اور ریستورانوں میں دھماکے کے واقعات بڑھنے لگے۔ مسلح گروہوں نے اپنے مخالف معتدل سکھ رہنماو¿ں کو قتل کیا اور ان کی باہمی چپقلش میں بھی جانیں گئیں۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں ہندوو¿ں نے پنجاب سے نقل مکانی کی۔ آج تک خالصتان کا مطالبہ زندہ ہے۔ حالیہ دور میں بالخصوص بھارت سے باہر بسنے والے سکھوں میں خالصتان تحریک کی جانب جھکاو¿ بڑھا ہے اور علیحدگی پسندی کا از سر نو احیا ہورہا ہے۔ 2019کے ورلڈ کپ میں خالصتان کی حمایت سے متعلق کی گئی جرسیاں تماشائیوں میں دیکھی گئیں تاہم بعدا ازاں ان افراد کو اسٹیڈیم سے نکال دیا گیا۔

2019کے دسہرے کے موقعے پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت ہندو ملک ہے۔ اس بیان پر اکال تخت کے جتھے دار گیانی ہرپریت سنگھ اور گوبند سنگھ لونگوال جیسے سکھ قائدین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ گیانی ہرپریت سنگھ نے کہا کہ جب ہم آر ایس ایس کی مخالفت کرتے ہیں تو اسے ہندو¿ں کی مخالفت نہ سمجھا جائے ، ہمیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن انہیں سکھ مذہب کو تشریح سے باز رہنا چاہیے۔ سکھ اپنی شناخت کا فیصلہ خود کرسکتے ہیں۔ کوئی باہر کا آدمی ہمیں ہماری شناخت بتائے ، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیںہم آر ایس ایس کی ہندو قوم میں شامل نہیں۔“

پاکستان میں سکھ ایک چھوٹی اقلیت ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ انہیں مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اس کا تعلق تقسیم پنجاب کی ہولناک یادوں سے بھی ہے کیوں کہ پاکستان قائداعظم کے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے پختہ عزم کے باوجود سکھوں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سکھوں اور مسلمانوں کے تعلقات میں بہتری آئی۔ آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی اور مذہبی خیالات رکھنے والے لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید ناصر کو جب چیئرمین متروکہ املاک بنایا گیا تو انہوں پاکستان میں سکھ عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کا اچھا اہتمام کیا۔ بعد کی حکومتوں نے بھی بھارتی سکھوں کو ان کے مختلف تہواروں کے موقعے پر پاکستان میں ان کے مقدس مقامات پر آسان رسائی دی۔

کرتار پور راہدی کے آغاز کے بعد پاکستان نے بھارتی سکھوں کے حوالے سے اپنے رویے میں کئی بڑی اور مثبت تبدیلیاں کیں تاہم بھارت کی جانب سے اس کا یکساں جواب نہیں ملا۔ پاکستانی سکھوں کو آج بھی سرحد پار کرکے بھارتی حدود میں ڈیرہ بابا نانک جانے کی اجازت نہیں، اس کے لیے ویزا کی کڑی شرائط رکھی گئی ہیں۔ بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دیوول اور فتنہ پرور بھارتی اینکر بلوچستان کے حالات کو بہت ہوا دیتے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں خالصتان کی تحریک مکمل جواز بھی رکھتی ہے اور بھارت کے اندر اور باہر اس کی قبولیت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان کو سکھوں کی اپنا وطن حاصل کرنے کی جدوجہد کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔ تاریخ کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ سوال بالکل جائز ہوگا کہ خالصتان کیوں نہیں؟

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.