Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

حکومت کے گھر جانے کا وقت

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

2018ءکے الیکشن سے پہلے راتوں رات بننے والی بلوچستان عوامی پارٹی اپنے پہلے ہی الیکشن کے ذریعے بلوچستان اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ باچا خان، ولی خان اور اسفند یار ولی کیLegacy کی اہم سیاسی پارٹی کے اراکین نے بھی اس پارٹی کی مخلوط حکومت کی حمایت کی اور وزارتیں حاصل کیں اسی طرح ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی BAPپارٹی کی حمایت کی اور وزارت حاصل کی اورپاکستان تحریک انصاف، بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) اور جمہوری وطن پارٹی نے بھی اس مخلوط حکومت میں شرکت کی۔ مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان اپنے دادا جام میر غلام قادر اور والد جام میرمحمد یوسف کے بعد صوبہ بلوچستان میں اس قبیلے اور نسل کے تیسرے وزیراعلیٰ ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ وہ سیاستدان بنتا ہے جس کے سر پر پرندہ بیٹھ جائے اور پھر وہ کام کرے یا نہ کرے ان کو غیبی قوت ملنے کی وجہ سے حکومت جاری رکھنے میں آسانی رہتی ہے۔اس حکومت کو اب ڈھائی سال سے زیادہ کا عرصہ ہونے کو ہے لیکن اس دور میں کہیں بھی بڑے عوامی منصوبے نظر نہیں آرہے ہیں جس کو دیکھ کر صوبے کی عوام اطمینان محسوس کرے کہ یہ حکومت ہماری حکومت ہے۔ نہ اس حکومت نے صوبے میں سڑکوں کا جال بچھایا ، نہ ہی شہریوں کو صاف پانی فراہم ہوا،نہ ہی سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات ہےں، نہ ہی پٹواری ، سیکریٹریٹ اور صوبے کے دیگر محکموں کے دفاترمیںعوامی خدمت کا دور دورہ ہے، نہ ہی نچلی سطح پر انصاف دیا جارہا ہے، نہ ہی لوگوں کو روزگار مل رہا ہے، نہ ہی اشیاءکی قیمتوں کو مانیٹر کیا جارہا ہے، نہ ہی مہنگائی کو روکنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کی سطح پر مانیٹرنگ ہونے سے عوام کو سستی اشیاءمیسر آرہی ہیں،نہ ہی صوبے میں عوام دوست منصوبے بن رہے ہیں ، نہ ہی صنعتیں لگائی جارہی ہیں، نہ ہی زراعت کو ترقی دی جارہی ہے، نہ ہی عام لوگوں کو روزگار مل رہا، نہ ہی سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی کرپشن اور کمیشن کو لگام دیا جارہا ہے،نہ ہی شہری بلا خوف و خطرگھوم سکتے ہےں اورنہ ہی پہلے زمانے کی طرح لیڈر جناح روڈاور قندھاری بازار میںدو درجن گارڈ کے بغیر چل سکتے ہیں۔ ان تمام عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں سے موجودہ حکومت نے کوئی کام سرانجام نہیں دیا ہے بلکہ کرپشن عام ہے،وزراءاور ایم پی اے کھلے عام کمیشن لے رہے ہیں، بیوروکریسی کے تبادلوں پر نرخ مقرر ہےں اورآئے روز کے تبادلوں سے کرپشن میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے، عام شہری خوف کی وجہ سے سرکاری دفتروں میں نہیں جاسکتے اور اگر کسی کام کیلئے جانا پڑے تو ان کے کام بغیر رشوت کے نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کی کوئی داد رسی ہو رہی ہے۔ یہ حکومت نااہلیت کا ایک شاہکار ہے اب حالیہ دنوں میں 29 مارچ سے آفیسروں، کلرکوں، پیرا میڈیکل اسٹاف، ٹیچرز اور کچھ ادھر ادھر کی یونینز نے مل کر 25%الاﺅنس اور دیگر مطالبات کیلئے دھرنا دیاہوا ہے لیکن حکومت بلوچستان کو یہ معلوم نہیں کہ ایسوسی ایشن اوریونین میں فرق کیا ہے اور انہیں یہ بھی معلوم نہیںہے کہ جس ایسوسی ایشن کو محکمہ انڈسٹریز یا ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے ویلفیئرکے کاموں کیلئے رجسٹریشن دی ہے کیاوہ ایسوسی ایشن قانون اور رولز کے مطابق دفتروں کو تالے لگا سکتی ہے؟ سڑکیں بند کر سکتی ہے؟ آفیسران احتجاج کیلئے اپنے ماتحتوں کو جمع کر سکتے ہےں؟ اور وہ یونینز جو آئی آر اے 2012-ءاور بلوچستان انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2010-ءکے تحت رجسٹرڈ ہےں کیا وہ یونینز ان آفیسروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ٹیچرز کی ایسوسی ایشنز کے ساتھ اس طرح کے دھرنوں، تالہ بندی اور سڑکوں کی بندش میں شریک ہو سکتی ہیں؟ ان سب سوالوںکا جواب نفی میں ہے۔قانون کے مطابق تمام ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور ممبران ڈیوٹی کے پابند ہیں اور انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سڑکوں کو بند کرےں اور عام شہریوں کے حقوق کو متاثر کر کے اپوزیشن پارٹیوں یا حکومت کے اندر سازشیوں کے ذریعے مطالبات منوائےں۔ یہ طریقہ کار آئین اور قانون کے خلاف ہے اور آئین اور قانون کے مطابق ہر شہری کو جلسہ کرنے اور اپنی اظہار رائے کا حق حاصل ہے اور یہ حق ان ایسوسی ایشنز کو بھی حاصل ہیں لیکن وہ اپنی ڈیوٹی کرنے کے بعد کسی پارک یا اجتماع کی جگہ پر اظہار رائے کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت کو پہنچائیں اور جمہوری حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسی ایسوسی ایشنز جو قانونی مطالبہ کر رہی ہے ان سے مذاکرات کرے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرے جبکہ یونین چارٹر آف ڈیمانڈ دیتی ہے اور اگر حکومت اور ادارے مسائل حل نہیں کرتے تو وہ Conciliation and Arbitration کے پروسس کے بعد ہڑتال کا حق استعمال کر سکتی ہے اور یونین سڑکوں اور راستوں کو بند کرکے عام شہریوں کو تکلیف دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتی ان اقدامات کی وجہ سے ان کے ساتھ عوامی ہمدردیاںبھی ختم ہو سکتی ہےں۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا گزشتہ دنوںکا بیان بڑے مزے کا تھا ان کے بقول اگر وہ ملازمین کی تنخواہیں 25 فیصد بڑھائیں گے تو تقریباً 25 ہزار نئے نوجوانوں کو روزگار نہیں دیا جاسکتا وہ یہ سب اس لئے کہہ رہے ہیں کہ نئی ملازمتوں میں چپڑاسی کی نوکری بھی منتخب نمائندے اور بیوروکریٹس پانچ لاکھ روپے میں فروخت کرتے ہیں اور اسی طرح بڑی بڑی نوکریاں بیوروکریسی اور منتخب نمائندے فروخت کرکے کوئی شرمساری محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اس وقت صوبے کے تمام اضلاع میں کیے جانے والے ٹینڈر پر منتخب نمائندے اور بیوروکریٹس کیلئے پہلے دن 10،10 فیصد رقم ٹھیکے کی منظوری پر مقرر ہے اور بعد میں 15 سے 20 فیصد تک کمیشن باقی ماندہ آفیسران اور اہلکاران وصول کرتے ہیں اس طرح کے بوسیدہ نظام کے خلاف عوام کے شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ کئی دن سے عذاب کی زندگی گزارنے کے خلاف آواز بلند کرےں تاکہ عدلیہ شہریوں کے اس بنیادی حق کو متاثر کرنے کے خلاف حکومت اور ایسوسی ایشنزں اور یونینز کو قانون کے دائرے میں لائیں۔ حکومت کو یہ معلوم ہے کہ وہ اپنے چیف سیکریٹری کو 02 لاکھ روپے الاﺅنس ، سیکریٹریوں کو ڈیڑھ ، ڈیڑھ لاکھ روپے الاﺅنس ، سیکریٹریٹ الاﺅنس، یوٹیلیٹی الاﺅنس اور کئی کئی محکموں اور بالخصوص عدالتوں کے ججز اور ان کے اہلکاروں کو بے تحاشہ مراعات دے رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ گھوسٹ ملازمین کا کھوج لگائے،تمام محکموں میں بائیومیٹرک سسٹم لگائے اور غیرترقیاتی و غیر پیدواری اخراجات میں کمی کرکے سرکار کیلئے کام کرنے والے اہلکاروں کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے50فیصد اضافہ کرے اوراس کے بعد ہر قسم کی کرپشن اور کمیشن پر سخت سے سخت سزا دینے کے قانون پر بھی عملدرآمد کرے۔نئے آئی جی پولیس طاہر رائے نے بلوچستان بھر میں سڑکوں پر چیک پوسٹیں ختم کرنے اور تھانے کے ایس ایچ اوز کو ماہانہ بھتہ دینے اور ہر قسم کی رشوت خوری کے خاتمے کے کیلئے اچھے اقدامات اٹھائے ہیں اور اسی طرح کا اقدامات موجودہ چیف سیکریٹری مطہر نیاز رانا کو بھی اٹھانے چاہیےںانہیں بھی کرپشن، کمیشن اور بلا جواز تبادلوں کی روک تھام کرکے صوبے کے تمام دفاتر کو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کھلے رکھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیےں تاکہ عوام کا جمہوریت اور جمہوری اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے ۔ موجودہ تنازعے کو جلد سے جلد آئین اور قانون کے مطابق حل کرکے عوام کی پریشانیوں کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھایا جائے بصورت دیگر نااہلیت پر مبنی اس حکومت کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہیے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.