Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اسلامی عدل یا حمورابی کا قانون

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اکرام سہگل

قائداعظم مسلمانوں کے لیے پاکستان کے ایک ’اسلامی‘ ملک اور معاشرے کی تشکیل کا تصور رکھتے تھے۔ لیکن پاکستانی حکمرانو ں نے جمہوریت اور کاروبار حکومت کو جس طرح چلایا ہے اس سے نہ تو ہم ایک قوم بن سکے اور نہ ہی معاشرے کی تشکیل ہوپائی۔ اپنی تحریروں میں جون رالز نے سماجی اداروں کے استحکام کے لیے معاشرتی نظم کے لیے اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ مساوی انصاف کی فراہم میں ناکامی سے کسی بھی ملک کے شہری نسلی، معاشی و سماجی طبقات میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ہماری ریاست کے لیے مساوی انصاف کی فراہمی کی بنیاد مغربی سیاسی نظریات کے بجائے اسلامی اصول ہونے چاہییں۔
اسلام سے قبل قانون میں مساوی انصاف کا تصور نہیں تھا کیوں کہ یہ قوانین خدائی ہدایت کی روشنی میں نہیں بنائے گئے تھے۔ حمورابی کے بنائے گئے ضابطے اس کی ایک مثال ہیں۔ بابل کے چھٹے بادشاہ کے نام سے موسوم یہ ضابطے قانون سازی کی اولین مثال سمجھے جاتے ہیں۔ اس میں 282قوانین اور سزائیں بیان کی گئی ہیں جس میں ”آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت“ جیسے اصول بیان ہوئے ہیں۔ اس قانون میں سزاوجزا کو سماجی حیثیت کی بنیاد پر متعین کیا گیا ہے جس میں مردوزن اور آقاو غلام کی تفریق ہے جب کہ دیگر حصوں میں معاہدات، کاروباری معاملات، عائلی قوانین اورحکومتی ضوابط بیان ہوئے ہیں۔ یہ انسانوں کی قانون سازی کی اولین مثال ہے۔ نظری طور پر حمورابی کے قوانین مساوات کی حصول کی جانب پہلا قدم تھے تاہم اس میں سماجی اونچ نیچ کی تفریق پوری طرح ختم نہیں کی گئی۔ عدل کی بنیاد انسانی مساوات پر نہیں تھی بلکہ مختلف قواعد میں سماج کےتین طبقات ؛ زمین جائیداد کے مالک(یا اشرافیہ)، آزاد اور غلاموں کے لیے عدل کے مختلف پیمانے تھے۔ مثلاً اگر کوئی ڈاکٹر کسی امیر مریض کو ماردے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا لیکن اگر مرنے والا مریض غلام ہو تا اس کی سزا مالی جرمانہ تھا۔
اسی طرح مردوزن کے لیے بھی عدل کے اصول الگ الگ تھے۔ مَردوں کو غیر ازدواجی تعلقات کی اجازت دی گئی تھی لیکن عورتوں کو اس کے لیے سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ مرد کو اپنے غلام وکنیز سے تعلقات قائم کرنے کی اجازت تھی تاہم عورتوں کے لیے بدکاری کی سخت سزائیں تجویز کی گئی تھیں۔ حمورابی کے قوانین سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل بادشاہ کے عدالتی فیصلوں پر مبنی تھے اور انہیں یاد رکھنے کا مقصد جدید قانون یا آئین کا تصور قائم کرنے کے بجائے حمورابی کی عظمت کا اظہار تھا۔
اگرچہ حمورابی اور اسلامی قانون کے مابین کوئی براہ راست تعلق نہیں، اس میں بھی شک نہیں کہ قرآن عہد نبویﷺ کے عرب قانون سے بنیادی ربط رکھتا تھا۔ اگر اسلام قوانین کا تعلق اس عہد سے کاٹ دیتا تو اس کی ترویج ممکن نہیں ہوتی۔
خدا، دنیا اور مقصد حیات کے بارے میں انسان کا ارتقائی سفر واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ وحی اور انبیا کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں خدا کی ہدایت اس عہد کے انسانوں کی سمجھ بوجھ کے مطابق تھی۔ اﷲ کے آخری پیغمبر ﷺ کی آمد کے بعد انسانوں پر حق واضح ہوگیا اور زندگی گزارنے کے اصول بھی مکمل کردیے گئے۔
اسلام کا تصور عدل ’امن‘ اور ’امانة‘ یعنی امانت داری کے اصولوں پر قائم ہے۔ اس لیے جو تحفظ اور اعتبار قائم کرے اسے امین کہا جاتا ہے۔ نظام عدل کے لیے پہلی شرط اس کا قابل اعتبار ہونا ہے۔ اسلامی سماج میں امن اور انصاف قائم کرنے کے لیے صرف قوانین ضروری نہیں ہوتے بلکہ ایسے عادل لوگ بھی درکار ہوتے ہیں جو ہر کسی سے یکساں سلوک کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔ عدل صرف عدالتوں کا کام نہیں بلکہ ہر مسلمان پر بھی فرض ہے۔ عدل کے مغربی و اسلامی دونوں تصورات میں مساوات کو مرکزیت حاصل ہے۔ ہر کسی کو مذہب ، رنگ ونسل اور سماجی حیثیت کی تفریق کے بغیر اپنے اور دوسروں کے لیے انصاف پسند ہونا ضروری ہے اور سب کو انصاف تک یکساں رسائی ہونی چاہیے۔ بنیادی طور پر یہ ریاست کی ذمے داری ہے تاہم اس کے ساتھ عدل و مساوات کا تصور افراد کی شخصیت کا لازمی جز ہونے چاہییں۔
بدقسمتی سے پاکستانی حکمرانوں نے اس اپنی ترجیحات میں شامل نہیں رکھا اور اس کا نتیجہ ہے کہ سماج اور ریاست مغربی یا اسلامی کسی بھی تصور عدل سے تہی دامن نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں کسی مستحکم نظام عدل کے بجائے اسلام سے دوہزار قبل تشکیل پانے والے حمورابی کے قوانین یاد آتے ہیں۔ ہمارے ملک میں امیروں کو اپنے دولت کے بل پر عدالتوں اور وکیلوں تک رسائی حاصل ہے اور وہ اپنے اثر و رسوخ سے بھی قانون کو اپنے مقاصد کے تحت استعمال کرتے ہیں۔ متوسط طبقے کے لیے قانونی کارروائیوں پر آنے والے اخراجات اور تاخیری حربوں کی وجہ سے انصاف ایک خواب ہے۔ اگر اس طبقے سے کوئی اپنے حق میں فیصلہ حاصل کر بھی لے تو اس پر عمل درآمد کرنے والا کوئی نہیںملتا۔ رہے غریب تو وسائل نہ ہونے کے باعث برسوں انصاف کی تلاش میں رہتے ہیں، حمورابی کے دورکی طرح۔ کسی بھی اعتبار سے پاکستان کا نظام عدل اسلامی نہیں۔
نیب کا کام بدعنوان کاروباری افراد، سیاست دانوں اور سرکاری ملازمین وغیرہ کا احتساب کرکے ان سے قومی دولت کے لوٹے گئے اربوں روپے بازیاب کروانا ہے لیکن آج ان میں سے اکثر مجرم آزاد ہیں ،اپنی گردن بچانے کے لیے فوج سمیت ریاستی اداروں کے خلاف زہر پھیلا رہے ہیں۔ احتساب سے بچنے کے لیے یہ عناصر سیاسی انتقام کا واویلا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ برسوں سست روی سے چلنے والے مقدمات کی وجہ سے احتساب کا عمل ہی مشکوک ہوجاتا ہے۔ انصاف میں تاخیر بھی ناانصافی ہے ، اسلامی نظام میں اس تاخیر کی کوئی گنجایش نہیں۔ ڈینیئل پرل کیس میں انصاف کا یہی بنیادی اصول نظر انداز ہوا ہے۔ الزامات سے قطع نظر ملزمان کی ضمانت کے لیے ہائیکورٹ کی مداخلت بھی احتساب کے عمل کو کمزور کرتی ہے۔ نواز شریف کا نیا جنم دیکھیے جس میں وہ کافی کی چسکیاں لیتے اور ہائیڈ پارک میں ٹہلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب ہمارے ہاں ثبوت اور شواہد کے حوالے سے قوانین میں کئی سقم پائے جاتے ہیں۔ ڈینیئل پرل کیس کی مثال ہمارے سامنے ہیں جس میں جرم 2002 میں ہوا اور فیصلہ حال ہی میں آیا۔ عمر شیخ کی بریت عدم ثبوت یا کمزور شواہد کی بنا پر ہوئی ہوگی تاہم فیصلے میں ملزم کے اعتراف جرم کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔ عمر شیخ نے ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کا اقبال جرم کیا تھا۔ ہمارے قانون میں جھوٹی گواہی پر سزائیں نہ ہونا بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ عدالت کو گمراہ کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں ملنی چاہییں۔
فرد کا قوم اور ریاست سے رشتہ انصاف کی فراہمی سے مشروط ہے۔ اس کے لیے تقریر نہیں بلکہ عمل کی اہمیت ہے۔ اس لیے انصاف کے پرچار کے ساتھ اس کی اہمیت ہر بچے کی تربیت میں بھی شامل ہونی چاہیے۔ اس کا آغاز گھر اور درس گاہوں سے ہونا چاہیے۔ جب بڑے اپنے عمل سے انصاف اور اخلاقی قدروں کی نفی کریں تو چھوٹوں میں بے چینی اور جرم سے رغبت پیدا ہوتی ہے۔ اسی اخلاقی دیوالیہ پن میں پرورش پانے والی نسل جب وکیل ، جج، بزنس مین یا استاد بنتے ہیں تو ان سے پیشہ ورانہ دیانت کی کتنی توقع رکھی جاسکتی ہے؟ کسی بھی علم کے وہی اصول کارآمد ہوتے ہیں جن پر عمل بھی کیا جاتا ہو اور ان کے لیے متعین اخلاقی حدود عملی سطح پر بھی وجود رکھتی ہوں۔
پاکستان کے نظام حکومت اور معاشرت میں عدل کا فقدان عدم استحکام کا بنیادی سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ستر سال کی کوششوں کے باجود ہم اس ملک کو ایک اسلامی معاشرے میں تبدیل نہیں کرسکے اور ہم مذہب ، سماجی طبقات اور فرقوں کی بنیاد پر تفریق کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔ ریاست اور اس کے ادارے اپنا اعتبار کھو رہے ہیں اور ان میں نااہلی اور کرپشن سرائیت کرچکی ہے۔ بیوروکریٹ، سیاست دان حتی کہ استاد بھی یہ سوچتے ہیں کہ جب انھیں قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا اور ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا تو وہ کیوں ریاست سے وفا دار رہیں۔ کسی بھی معاشرے میں عدل ہی نظم و ضبط کا ضامن ہوتا ہے۔ جب تک انصاف ترجیح نہ ہو تو اس کی فراہمی کے لیے بنائے گئے قوانین ہی اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اور جب تک یہ حالات نہیں بدلتے پاکستان اپنی منزل سے دور رہے گا۔ حمورابی کے ضابطوں پر عمل کرکے اور اسلام کو صرف تصورات اور نظریوں تک محدود کرکے ہم زیادہ دیر اس نظام کو قائم نہیں رکھ سکتے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.