Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

 کرپشن میں اضافہ کیوں نہ ہو (آخری حصہ )

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

عطاءالرحمان

حکومت کے ایک ترجمان نے فوری ردعمل میں کہا کہ انگریزی زبان سے مکمل واقفیت نہ ہونے کے سبب میڈیا اور حزب مخالف والوں نے اس سے غلط معنی اخذ کئے ہیں۔ اس میں جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں وہ نواز عہد کے ہیں۔ وہ تو خیر ٹرانسپیرنسی والوں کی جانب سے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں واضح کر دیا گیا جس انگریزی میں رپورٹ پیش کی گئی ہے اسے سمجھنا اتنا مشکل نہیں۔ اعداد و شمار واقعی عمران دور کے ہیں نہ کہ اس سے پچھلے سالوں کے۔ اس کے بعد جب وزیراعظم بہادر سے رپورٹ کے بارے میں براہ راست سوال کیا گیا تو فرمایا انہوں نے اسے پڑھنے کا تکلف ہی گوارا نہیں کیا۔ اس کے ساتھ لاہور اور دوسرے شہروں میں مسلم لیگ (ن) کے جن جن لیڈروں کی تعمیر شدہ جائیدادوں پر ہاتھ پڑا انہیں حکومتی مشینری کو بروئے لا کر انہدام کا عمل تیز تر کر دیا گیا تاکہ قوم کو تاثر دیا جائے اصل کرپٹ تو یہ لوگ ہیں مفت میں ہم کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں سوال اٹھا ان میں سے کئی جائیدادوں پر حکم امتناع ہے جبکہ آپ نے بنی گالہ کا محل محض 12 لاکھ روپے ادا کر کے اس پر قانونی اعتراضات رفع کرا لئے ہیں اور کیا پورے ملک کے اندر غیرقانونی تعمیرات یا قبضے صرف ن لیگ کے قائدین نے کر رکھے ہیں مگر اس سوال کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے حکومتی عملے نے اپنا کام جاری رکھا۔ چنانچہ پوری کی پوری کارروائی پر سیاسی انتقام کا رنگ غالب آگیا۔ اس سب کے باوجود جو داغ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کے دامن پر لگا دیا ہے کہ ان کے قدوم میمنت لزوم کی برکت سے پاکستان میں کرپشن ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی بلکہ پہلے کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ وہ مٹائے مٹ نہیں رہا۔ عمران حکومت اور اس کے اعیان تمام تر جوابی الزامات اور وضاحتیں دینے کے باوجود اس کا مسکت جواب دینے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔وجہ ظاہر ہے کرپشن کے خاتمے کے موجودہ عمل کا آغاز حقیقت میں چوتھے قومی ڈکٹیٹر اور آئین کو دو مرتبہ غصب کرنے کے مجرم جنرل (ر) پرویز مشرف کے ہاتھوں اس وقت ہوا جب نیب جیسے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت واضح کر دیا گیا یہ ادارہ ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کے علاوہ سب کو احتساب کے کٹہرے میں لاکھڑا کرے گا۔ یوں نیب کی پہلی اینٹ رکھتے ہی اس بارے میں ابہام باقی نہیں رہنے دیا گیا کہ اس کی تمام تر کارروائی کا نشانہ سیاستدان ہوں گے۔ دوسروں کو استثنیٰ کا درجہ حاصل ہو گا۔ یہ وہ امتیازی سوچ اور اپروچ تھی جو آج تک نیب پر چھائی ہوئی ہے۔ یہ خیال یقین کا درجہ حاصل کر چکا ہے کہ کرپشن میں اگر سیاستدان ملوث پایا جائے تو مجرم۔ دوسرے یعنی ریاست کے حقیقی طاقتور حلقے اس کے مرتکب نظر آ جائیں تو ہر قسم کے عوامی یا کھلی عدالتوں میں مواخذے سے باہر ہوںگے۔ کوئی کارروائی اگر بہ امر مجبوری کی بھی گئی تو بند کمرے کی خصوصی عدالتوں میں ہو گی۔ مقدس گائے کا تصور مزید مستحکم ہو گیا۔ یوں اس خیال کو اہل قوم کے دلوں اور اذہان کے اندر پیوست ہونے میں دیر نہیں لگی اصل جرم سیاستدان ہونا ہے وہ بھی حکومت وقت کا مخالف نہ کہ حقیقی معنی میں کرپٹ۔ جج یا جرنیلوں اور جرنلسٹوں میں کوئی ملوث پایا بھی جائے نظرانداز کر دینے کے قابل ہو گا بظاہر اس سے بدعنوانی کا گراف اوپر کی طرف جانا تھا خواہ آپ اس کے خلاف جتنا پروپیگنڈا کر لیں۔ اس پر متزادیہ کہ مشرف کے زمانے میں یعنی نیب کے حرکت میں آجانے کے فوراً بعد جس جس سیاستدان نے وفاداری تبدیل کر لی ڈکٹیٹر اور غاصب کی اطاعت کا عہد کیا اس کی فائلیں سردخانے کی نذر کر دی گئیں۔ گجرات کے چودھریوں کی مثال اس حوالے سے نمایاں ہے۔ وہ نہ صرف معاف کر دیئے گئے بلکہ مشرف آمریت کا سب سے ممتاز سویلین چہرہ بن گئے۔ ان کے ساتھ یہ سلوک عمران کے موجودہ دور تک جاری ہے۔ فائلوں کو تھوڑی سی دن کی روشنی دکھائی گئی۔ چودھریوں نے عمران کو بھی اپنے تمام تر تعاون کا یقین دلا دیا۔ فائلیں ایک مرتبہ پھر ٹھپ سے بند۔ یہ واحد مثال نہیں ایسے میں آپ کرپشن کے خاتمے کی جانب جو بھی قدم اٹھائیں گے نہ صرف کھوکھلا اور بے معنی ثابت ہو گا بلکہ اس میں اضافے کا باعث بنے گا۔ نہلے پر دھلا یہ ہوا کہ نواز شریف جو اس وقت بھی آج کی مانند اصل ہدف تھا اس کی بیرون ملک دولت کا سراغ لگانے کیلئے براڈشیٹ جیسے آنکھوں میں جھول ڈالنے والے تفتیشی ادارے کے ساتھ کروڑوں ڈالروں کا معاہدہ کیا گیا۔ یہ ادارہ الزامات کے مطابق شریف خاندان کے چھپا کر رکھے ایک ڈالر کا پتا تو نہیں لگا سکا مگر ہمارے حکمرانوں نے انتقام کے جذبے سے مغلوب ہو کر اس حد تک ناقص معاہدہ کر رکھا تھا کہ آج کروڑوں ڈالر جرمانے کی شکل میں ادا کرنا پڑے ہیں۔ اسی پر اکتفا نہیں عمران بہادر کے اڑھائی برسوں میں ملک کی معیشت کو بدترین قسم کے چینی اور آٹا چوری کے سکینڈلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قیمتیں آسمان کو چھو گئیں۔ ذمہ داران کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ماسوائے اس کے نہ نظر آنے والے مافیا کو مجرم قرار دے کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔سب سے بڑھ کر خود خان موصوف اور ان کی جماعت پر فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے سنگین الزامات ہیں جن پر مقدمے کی کارروائی کو سرکاری رسوخ کی وجہ سے آگے نہیں بڑھنے دے رہے۔ اس سے بھی ایک قدم بڑھ کر اس حقیقت کی طرف نگاہ ڈالئے کہ عمران خان نے اپنی وزارت عظمیٰ کے پہلے دن سے آج تک صبح شام یہ وظیفہ پڑھے بغیر دم نہیں کیا کہ موصوف جلد نواز کی لوٹی ہوئی دولت واپس لے آنے والے ہیں۔ان کے دور اقتدار کی آدھی آئینی مدت ختم ہو گئی ہے ایک پیسے کی کرپشن کا ثبوت ملا ہے نہ اسے لانے کا سامان پیدا ہوا ہے۔ اس سے نواز لیگ کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے ہمارے خلاف سب کچھ جھوٹے الزامات وضع کئے گئے اور پرلے درجے کی انتقامی کارروائی کے طور پروان چڑھاگئے ہیں ایسے میں لامحالہ کرپشن پروان چڑھے گی اس کے باوجود جنہیں اس کے کم ہونے کی توقع یا امید ہے ان کا ٹھکانہ احمقوں کی جنت کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.