Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ: فوج ہمہ وقت تیار، سب کو چیلنجزسے نمٹنے کیلئے کرداراداکرناہوگا!

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

 

اس میں دو رائے نہیں کہ ملک کو اس وقت بے شمار مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ اندرونی طور پر جہاں بے روزگاری ، معاشی مسائل، فرقہ وارانہ تصادم ، سیاسی طور پر عدم استحکام اور دہشت گردی کا سامنا ہے وہیں بیرونی طور پر لا تعداد مسائل پھن پھیلائے کھڑے ہیں۔ بالخصوص بھارت تین اطراف سے پاکستان کے خلاف باقاعدہ پلاننگ کے تحت اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کارووائیاں کر رہا ہے۔ خارجہ میدان میں بھی ہماری پوزیشن کوئی بہت زیادہ اچھی نہیں ہے۔ بھارتی لابی کے مقابلے میں ہمارے دفتر خارجہ کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔ بھارت جو کہ خود ایک دہشت گرد ملک ہے جہاں انسانیت سوز واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔ اقلیتوں کے لیے بھارت موت کا نام ہے، اس کی متعدد ریاستیں آزادی کے لیے برسر پیکار ہیں۔ بھارت اپنے اندرونی مسائل کو حل کرنے کی بجائے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ بالخصوص سی پیک اور گوارد کے بعد سے بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔ خاص طور پر ایسے لوگ جو پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہیں انہیں ہر طرح سے سہولت دی جا رہی ہے، ان کی فنڈنگ کی جاتی ہے اور اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بھارت ایسے لوگوں کو ٹریننگ بھی دیتا ہے۔ پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیو نے ایسے انکشافات کیے ہیں کہ جن کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں براہ راست ملوث بھی ہے اور ایسی دہشت گرد تنظیموں کی مالی اور تیکنیکی مدد بھی کر رہا ہے جو پاکستان میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔ بھارت اپنی مضبوط لابنگ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے خلاف پراپوگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔ اس کی سفارت کاری میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اولین درجے پر ہے اور وہ اپنے سفارت کاروں کو اس حوالے سے ٹریننگ بھی کرواتا ہے۔ اس لیے بھارتی سفارت کار دنیا میں لاببنگ کرنے میں کامیاب ہیں کہ ان کا مشن ہی یہی ہے ساتھ ہی ساتھ دنیا کے دیگر ممالک جن کی آنکھ میں پاکستان کھٹکتا ہے وہ بھی بھارت کے ہم نوا ہیں۔ یقینا پاکستان ایک حقیقت ہے اور اسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا تاہم پاکستان کے خلاف وار کر کے وہ ہماری ترقی کی راہ مکیکں رکاوٹ ضرور ڈال رہا ہے۔ جس سے ملک میں وقتی ہی سہی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ سی پیک کے حوالے سے تو بھارت اس قدر پریشان ہے کہ اس نے ایک فوج ترتیب دے دی ہے جس کا کام ہی سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاک فوج اور اس کی قیادت بھاری عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔ فوج نے ہمیشہ ملکی دفاع اور استحکام کے لیے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں۔ فوج ہی فرنٹ لائن پر بھارت اور اس کے ہمنواﺅں کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں پاک فوج کے سیکڑوں جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیشکر چکے ہیں۔ اور آج بھی تمام تر نا مسائد حالات کے باوجود ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنون سے ملک کی سیاسی صورت حال ابتر ہے۔ عدم استحکام بڑھ چکا ہے، عدم اعتمادی کی فضاءمیں جلست جلوس ہو رہے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم جہاں حکومت وقت کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے وہیں اپوزیشن اتحاد کے پلیٹ فارم سے فوج دشمنی اور بالخصوص فوجی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فوج ایک پروفیشنل ادارہ ہے ۔ سیاست کیا ہو رہی ہے اس کا فوج پر کوئی اثر نہیں پڑتا تاہم جس قسم کی گفتگو ہو رہی ہے اس سے فوجی جوان نالاں ضرور ہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ ایک طرف روزانہ ان کے ساتھی ملک و ملت پر جان نچھاور کر رہے ہیں۔ اپنی اولادوں کو یتیم چھڑو کر عوام کے بچوں کی حفاظت کی خاطر جان قربان پر رہے ہیں اور دوسری جانب ان کے خلاف اس قسم کی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو کہ یقینا کوئی بھی پاکستانی نہیں کر سکتا تو اس سے ان کا غم و غصہ بڑھتا ہے۔ اس بات میں بھی دو رائے نہیں ہے کہ اس قسم کی زبان کے استعمال کرنے سے کچھ لوگ اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتے ہیں ۔ بھارت پی ڈی ایم کے جلسوں کے کلپ بار بار اپنے ٹی وی پر چلا کر اسے پاکستان اور بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ غم و غصہ تو فوجی جوان میں پایا جا رہا ہے تاہم کمال صطر کا مظاہرہ فوجی قیادت نے بھی کیا ہے۔ بالخصوص جنرل باجوہ کی اعلیٰ ظرفی کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے صبر کیا ہے اور حوصلے کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کیا ہے۔ ماضی میں اس قسم کی مثال نہیں ملتی ۔ فوجی قیادت نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ فوج ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے ۔ اور اگر دشمن نے کوئی مہم جوئی کرنے کی کوشش کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہاہے کہ قومی اداروں کودرپیش چیلنجزسے نمٹنے کیلئے کرداراداکرناہوگا،ہرسطح پر بہترین صلاحیت سے تمام چیلنجز سے نمٹا جاسکتاہے۔ جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کی زیر صدارت 238ویں کور کمانڈرزکانفرنس ہوئی،کور کمانڈرزکانفرنس میں علاقائی سکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیاگیا،شرکانے علاقائی اورداخلی سلامتی کی صورتحال کاتفصیلی جائزہ لیا،سرحدی صورتحال،داخلی سلامتی اوربری فوج کے پیشہ ورانہ امورپرغورکیاگیا، کورکمانڈرز کانفرنس میں شرکاکی طرف سے اظہارخیال میں کہاگیاکہ قومی کوششوں سے خطرات کومکمل شکست دی جاسکتی ہے،آپریشنل تیاریوں کیلئے تربیت اور پیشہ ورانہ جدوجہد ہمارا محور ہوناچاہئے،کور کمانڈرزکانفرنس میں کشمیریوں سے مکمل اظہاریکجہتی کیاگیا،یوم حق خودارادیت پرفورم نے بہادرکشمیری بھائیوں کیساتھ مکمل اظہاریکجہتی کیا،مسئلہ کشمیرکے کشمیریوں کے امنگوں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حل پرزوردیاگیا، کورکمانڈرز کانفرنس میں اظہارخیا ل میں کہاگیاکہ بھارتی فوج کا دہائیوں کاظلم بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کودبانے میں ناکام رہا،کانفرنس کے شرکا نے کشمیرکے یوم حق خودارادیت کی مکمل حمایت کااعادہ کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی،پرعزم کشمیری اپنی جدوجہدمیں کامیاب ہوں گے،آئی ایس پی آرکے مطابق کانفرنس کا افغان امن عمل میں مثبت پیشرفت پراظہاراطمینان کیاگیا،کورکمانڈرزکانفرنس کی جانب علاقائی امن و استحکام کیلئے کی گئی کوششوں پربھی اظہار اطمینان کیاگیا۔کانفرنس میں کورونا کیخلاف جنگ میں اپنی زندگیاں دا¶پرلگانے والوں کوخراج تحسین پیش کیاگیا،کانفرنس کے شرکا نے بلوچستان میں حالیہ واقعات میں شہید ہونیوالوں اورانکے اہلخانہ کوبھی خراج تحسین پیش کیااوراس عزم کااظہارکیاکہ دہشتگردوں اوران کے سہولت کاروں کوہرقیمت پرشکست دینگے۔کورکمانڈرزکانفرنس میں کہاگیاکہ قومی کوشش میں معاشرے کا ہر طبقہ اپنا منصفانہ کردار ادا کرتاہے،کانفرنس کے شرکا نے امن و استحکام کیلئے قربانیاں والے تمام شہدااورانکے خاندانوں کوخراج تحسین پیش کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے لب و لہجے پر غور کریں ۔ اپنی سیاست میں اداروں اور بالخصوص فوج کو نہ گھسیٹیں۔ اس قسم کی گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے جس سے کشیدگی بڑھنے کے امکانات ہوں۔ فوج پاکستان کی سلامتی اور بقا کی ضامن ہے۔ کسی ایک فرد واحد کے عمل کا ادارے کو قصوروار ٹھہرانا نا انصافی ہے۔ یقینا ماضی میں اقتدار کی ہوس میں مبتلا آمراں نے جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں ، دستور کو پامال کیا جاتا رہا ہے مگر اس کی ذمہ داری سیاست دانوں پر بھی عائد ہوتی ہے سیاست دانوں نے ہی ایسی طاقتوں کو خوش آمدید کہا اور اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے آمروں کا ساتھ دیا۔ اب حالات و واقعات کچھ اور ہیں عصر حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصل کرنا ہوگا۔ عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.