Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کیا مصالحت کی کوشش الٹا تنازع کا باعث بن گئی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سحر بلوچ

‘لواحقین یہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم آئیں۔’ اور ان کا کہنا تھا کہ جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے، وہ میتوں کو نہیں دفنائیں گے۔بلوچستان کے علاقے مچھ میں دس ہزارہ کان کنوں کے قتل کے بعد کوئٹہ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں جہاں لواحقین میتیں لیے بیٹھے ہیں وہیں وزیرِ اعظم عمران خان کا احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے ملنے کا مطالبہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔کوئٹہ میں جاری اس احتجاجی دھرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مجلسِ وحدتِ المسلمین کے رہنما اور سابق صوبائی وزیرآغا رضا نے ایک روز پہلے کہا تھا کہ ’لواحقین یہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم آئیں۔’ اور ان کا کہنا تھا کہ جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے، وہ میتوں کو نہیں دفنائیں گے۔‘
وفاقی حکومت کی طرف سے بات سنبھالنے کے لیے پہلے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کو کوئٹہ بھیجا گیا اور اب وفاقی حکومت کی طرف سے ذوالفقار بخاری اور علی زیدی کو کوئٹہ بھیجا گیا ہے تاکہ وہ دھرنے کے شرکا اور کان کنوں کے لواحقین سے بات کرکے ان کو دلاسہ دے سکیں لیکن بات سنبھلنے کے بجائے بگڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔اس کی وجہ احتجاجی مظاہرے کے دوران بنے ایک ویڈیو کلپ کا وائرل ہونا ہے جس میں ذوالفقار بخاری اور ہزارہ علما کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی جاسکتی ہے۔اس وقت یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر کی جا رہی ہے اور ذوالفقار بخاری پر کڑی تنقید بھی جاری ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ مظاہرین زلفی بخاری سے کہتے ہیں ’ہمارے شور کا فائدہ پوری پاکستانی قوم کو ہو گا۔۔‘
جواب میں زلفی بخاری کہتے ہیں: ’آپ کیا فائدہ دیں گے ا±ن کے آنے پر۔۔ یعنی آپ کیا ذمہ داری لیں گے اگر عمران خان صاحب آتے ہیں۔۔۔‘مظاہرین کہتے ہیں: ‘ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ آ جائیں گے تو کم از کم شہدا کہ لواحقین کو تسلی تو ملے گی۔‘زلفی بخاری کہتے ہیں: ’لیکن خدا نخواستہ کل کہیں اور پاکستان میں ایسا واقعہ ہو جائے تو وہ کہیں گے ہم ایسا نہیں ایسا چاہتے ہیں۔۔۔ تو بات رکتی نہیں ہے۔‘سوشل میڈیا صارفین ذوالفقار بخاری کے سوال پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِخانہ یا شرکا سے فائدے کی امید کرنا ان کی بے حسی ظاہر کرتی ہے۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ‘شرکا لاشیں دفن کریں، احتجاج ختم کریں، اس کے پانچ سے چھ دن بعد عمران خان صاحب ان سے ضرور ملنے آئیں گے۔اس تمام تر واقعہ کے بارے میں جب زلفی بخاری سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا تمام علما سے بڑا اچھا رشتہ ہے۔’میری ان علما سے بڑی لمبی بات چیت ہوئی تھی لیکن اس سے ایک چھوٹا سا کلپ لے کر سوشل میڈیا پر چلایا جا رہا ہے۔ میں انھیں کہہ رہا تھا کہ ایک الگ سے ہونے والے واقعے کو تین لاکھ کی آبادی سے نہ جوڑیں۔ یعنی آپ کو تین لاکھ لوگوں کا سوچنا ہے نہ کہ صرف گیارہ لوگوں کا۔ حالانکہ وہ عالمِ دین ہیں، میں ان کی اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ وہ لوگوں کو مشورہ دیں کہ لاشیں روڈ پر رکھیں جب تک آپ کے تمام مطالبے پورے نا ہوں۔‘انھوں نے کہا کہ ’ابھی تک صرف ایک ہی مطالبہ رہتا ہے جو ہے وزیرِ اعظم عمران خان کا کوئٹہ دھرنے میں شریک ہونا۔ اور جن سے میں بات کر رہا تھا وہ سوگوار خاندان سے نہیں تھے۔ ان کا ایک بھی رشتہ دار اس واقعہ میں شہید نہیں ہوا تھا، اس لیے میں ان سے ک±ھل کر بات کر رہا تھا۔ یہ ان کے نوجوان علماِ دین سے بات ہو رہی تھی۔ تو یہ جو تاثر ہے کہ شہدا کے خاندان سے ایسے بات کر رہا ہے، ایسی بات بالکل نہیں ہے۔‘زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’شرکا لاشیں دفن کریں، احتجاج ختم کریں، اس کے پانچ سے چھ دن بعد عمران خان صاحب ان سے ضرور ملنے آئیں گے۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے، دشمنوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا ہے۔‘
ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن حمیدہ نے بتایا کہ ’ہمارا پہلا مطالبہ یہی ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان، جو ریاستِ مدینہ کے بانی ہیں، وہ آ کر دیکھیں کہ کس بے رحمی کے ساتھ ان دس نوجوانوں کو مارا گیا ہے۔ اور کوئٹہ کی اس سردی میں انصاف مانگنے کے لیے ان کے خاندان والے بار بیٹھے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ہماری لاشوں پر کوئی سیاست کرے لیکن ساتھ ہی ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا قصور کیا ہے؟ ہمیں کب تک ذبح کیا جائے گا۔‘اس ویڈیو کلپ کے رد عمل میں صارفین نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے وہیں وزیرِ اعظم کی مصروفیات سے منسلک باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’اتنی سردی میں یہ لوگ چار دن سے بیٹھے ہیں۔ وزیرِ اعظم کے آنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیا مسئلہ ہے وزیرِ اعظم کو وہاں جانے میں؟‘ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ ’چلو آخر کار زلفی بخاری نے واضح کر دیا ہے کہ عوام اپنی امیدیں کہاں رکھیں۔ کیونکہ سانحے تو ہوتے رہیں گے۔ اب عمران خان ہر جگہ تو نہیں پہنچ سکتے۔ عوام تو فری ہو جائے گی ایسے۔‘دوسری جانب ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ عمران خان صاحب کو شرکا کے صدمے کا احساس ہے۔ اور وہ پہلے بھی اس پر بات کرتے رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ ’زلفی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ان کو کیا ملے گا وزیرِ اعظم کو جنازے میں شرکت کی دعوت دے کر؟ کیا ان کو ملک کے سب سے خطرناک صوبے میں موجود سکیورٹی خدشات کے بارے میں آگاہی نہیں ہے؟‘جبکہ سعیدہ لیلی جعفری نے لکھا ہے کہ ’ہم کل بھی مارے جا رہے تھے ہم آج بھی مارے جا رہے ہیں۔‘ثاقب بشیر نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایسا بے رحم پاکستان کبھی نہیں دیکھا حتی کہ اس وقت جب دہشت گرد حملے ہو جاتے ہیں۔ لیکن حکومت نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔‘اگر کچھ سال پیچھے جائیں تو ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اگر صرف پچھلے دس برسوں پر نظر دوڑائیں تو سنہ 2011 سے لے کر سنہ 2019 تک کئی مرتبہ اس محنت کش طبقے کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس دوران کئی مرتبہ برادری نے اپنے ہلاک ہونے والے لواحقین کے کفن شاہراہوں پر رکھ کر نہ صرف احتجاج کیا ہے بلکہ حکومت اور ریاست سے اس پے درپے پیش آنے والے واقعات سے متعلق جواب بھی طلب کیا ہے۔اس کے بارے میں اگر موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کی تاریخ دیکھیں تو انھوں نے بطور حزبِ اختلاف کے لیڈر ان مواقعوں پر ہزارہ برادری کا ناصرف ساتھ دیا ہے بلکہ پچھلی حکومتوں پر سوشل میڈیا پر اپنے بیانات کے ذریعے تنقید بھی کی وزیرِ اعظم عمران خان کی 11 جنوری 2013 کا ٹوئٹر پر جاری ایک بیان بھی گردش کررہا ہے جس میں وہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے وہ پوچھ رہے ہیں کہ ریاست کہاں ہے؟اس واقعے کے آٹھ سال بعد ہزارہ برادری آج بھی یہی سوال پوچھ رہی ہے کہ ریاست کہاں ہے؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.