Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ریاست کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے ،اداروں کو اپوزیشن کے پیچھے لگادیاہے، غفور حیدری 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

کوئٹہ(آن لائن )پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ (پی ڈی ایم ) کے رہنماﺅں نے کہاہے کہ ملک میں ریاست کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے ،حکومت نے اداروں کو اپوزیشن کے پیچھے لگادیاہے ،وزیراعظم خود کوئٹہ آئیں ملک میں ایک عرصے سے گمنام قتل وغارت گیری کا سلسلہ شروع ہے ، قاتل افغانستان یا کہیں اور سے آئے جن کو بھارت یا افغانستان یا کسی بھی ریاست کی سپورٹ حاصل ہو انہیں بے نقاب ہوناچاہےے پاکستان میں بسنے والا شخص ہر عقیدے ہر نسل کا جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ان خیالات کااظہار پی ڈی ایم کے رہنماﺅں مولاناعبدالغفور حیدری ،احسن اقبال ،سینیٹرپرویز رشید ودیگر نے مچھ واقعہ کے لواحقین اور ہزارہ برادری کی جانب سے مغربی بائی پاس پر جاری دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ (پی ڈی ایم ) کے سربراہ مولانافضل الرحمن کی ہدایت پر پی ڈی ایم کے وفد جس میں مولاناعبدالغفور حیدری ،احسن اقبال ،سینیٹرپرویز رشید،مریم اورنگزیب ودیگر شامل تھے نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے یکجہتی کی اور دھرنے میں شرکت کی ۔اس موقع پر اراکین اسمبلی میریونس عزیز زہری ،اصغر علی ترین ،کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ،صوبائی سرپرست امیر جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ حضرت مولانا عبدالرحمن رفیق صاحب ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی بشیراحمد کاکڑصاحب حافظ خلیل احمد سارنگزئی حافظ شبیراحمدمدنی بھی موجود تھے ۔شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے جمعیت کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولاناعبدالغفور حیدری نے کہاکہ قائد جمعیت ومرکزی صدر پی ڈی ایم مولانافضل الرحمن کی ہدایت پر پی ڈی ایم کے ساتھیوں سمیت ہزارہ برادری سے اظہار یکجہتی کیلئے آیا ہوںاس عظیم سانحہ سے ہم سب کو یکساں صدمہ پہنچاہے ،واقعہ کی نہ صرف آج بلکہ اس سے قبل پریس کانفرنس اور سینیٹ اجلاس میں اس پر بات اور مذمت کی اور مسئلے کو اٹھایا ،انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں ایک عرصے سے گمنام قتل وغارت گیری کا سلسلہ شروع ہے ،ہزارہ برادری پہلے بھی بہت زخم کھائے ہیں اور نقصان برداشت کیاہے ،حال ہی میں مچھ واقعہ سے ہم سب صدمے سے دوچار ہیں ،معلوم نہیں کہ ریاست کی رٹ کہاں ہے ،مولانافضل الرحمن آپ سب کو سلام دے رہے تھے اور ہمیں آپ سے اظہار یکجہتی کیلئے جانے کو کہاہے ،انہوں نے ہزارہ برادری کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح آپ لوگوں نے شہادتیں دی ہے ہم بھی اس لمحے سے گزرے ہیںمجھ پر جب حملہ ہوا تو میرے گاڑی میں 3 ساتھی شہد اور 36 افراد زخمی ہوئے اس طرح کے واقعات کے ماسٹر مائند کا آج تک نہیں پتہ چلامجھ پر بھی حملہ ہوا تو یہی کہا گیا کہ داعش نے حملہ کیا ہے کہا جارہاہے کہ ہزارہ برادری پرحملے کے پیچھے بھارت ہے بھارت کیوں ہزارہ برادری کو مارے گابھارت کا جمعیت علماءاسلام سے کیادشمنی اس کی وجوہات معلوم نہیں ،انہوں نے کہاکہ ریاست سوئی ہوئی ہے اور لوگ مررہے ہیں وزیراعظم کو یہاں آج پہلے روز آنا چاہئے تھا مگر ابھی تک نہیں آئے انہوں نے وزیراعظم عمران خان کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان آپ آئیں خود بیٹھے ماسٹر مائند کو گرفتار کروائیںماسٹر مائنڈ جہاں کہیں بھی ہو اسے بے نکاب ہونا چاہئے فرض کیاجائے کہ قاتل افغانستان یا کہیں اور سے آئے جن کو بھارت یا افغانستان یا کسی بھی ریاست کی سپورٹ حاصل ہو انہیں بے نقاب ہوناچاہےے ،بھارتی ایجنٹ یہاں تخریب کاری کیلئے موجود رہتے ہیں لیکن کبھی پکڑے نہیں جاتے ، انہوں نے کہاکہ ہماری اور عوام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاکہ میں آج آپ لوگوں کو صبر کا درس دینے نہیں آیا ہوںآج میں یہاں شرمندگی محسوس کررہا ہے میرا پارٹی محسوس کررہاہے پاکستان میں بسنے والا شخص ہر عقیدے ہر نسل کا جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے2018 جب آپ لوگوں نے دھرنا دیا تو میں کوئٹہ آیاآپ کا احسان ہے کہ آپ نے میرے بات سنی اور دھرنا ختم کیااس کے بعد آرمی چیف نے اداروںکو ہدایت کی کہ مزید ایسے واقعات نہیں ہونا چاہئے لیکن آج دہشتگردی دوبارہ اٹھ رہی ہیںوہ سیکورٹی کے ادارے جن لوگوں نے ہمارے دور میں شاندار کام کیا آج موجودہ سلیکٹڈ حکومت نے انہیں اپوزیشن کے پیچھے لگا دیااداروںکو اپوزیشن کے پیچھے لگانے سے آج ایسے واقعات ہورہے ہیںانہوں نے کہاکہ حکومت کو کہتا ہوں جو ہم نے کامیابیاں حاصل کی آج دوبارہ دہشتگردی سر اٹھا رہی ہیںہمیں یہ بات سمجھنا چاہئے جب تک پاکستان میں ایک شخص محفوظ نہیں ہوگا تو کوئی محفوظ نہیں ہوگامجھے بھی انتہا پسندی کی گولی لگی ہے تو میں خود اس صورتحال سے گزر گیا ہوں

Leave A Reply

Your email address will not be published.