Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پنج شیر : ملیشیا کے 3 اہم کمانڈر، ترجمان ہلاک، احمد مسعود جنگ بندی پر تیار

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کابل ، واشنگٹن :  طالبان اوراحمد مسعود کی حامی فورسز کے درمیان وادی پنج شیر میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے ، طالبان نے صوبائی دارالحکومت بازارک سمیت 7میں سے 4اضلاع کنٹرول میں لے لئے ہیں،جبکہ جھڑپو ں میں مقامی ملیشیا کے 3کمانڈراور ایک ترجمان ہلاک ہوگیا ، احمد مسعود نے طالبان کو جنگ بندی کی مشر وط پیشکش کردی، ادھر کابل ایئرپورٹ جزوی بحال ،ہوائی فائرنگ پر پابندی لگادی گئی، طالبان نے تعلیمی ادارے آج سے کھولنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے طالبات کونقاب کیساتھ تعلیم جاری رکھنے کا حکم جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پنج شیر سے آنے والی اطلاعات کے مطابق لڑائی کے دوران مقامی ملیشیا کے اہم کمانڈر جنرل عبدالودودزہرہ،کمانڈرگل حیدرخان، کمانڈر منیب امیری اورترجمان فہیم دشتی ہلاک ہوگئے ۔افغان میڈیا کے مطابق فہیم دشتی ، احمد شاہ مسعود کا قریبی ساتھی تھا،2001میں احمدشاہ مسعودپرقاتلانہ حملے میں فہیم دشتی شدیدزخمی ہوا تھا ۔ 20روز سے مزاحمتی فورس کی ترجمانی کررہے تھے ۔ ادھر وادی پنج شیر میں طالبان کے ساتھ بر سر پیکار شمالی اتحاد کی مزاحمتی فورس کے سربراہ احمد مسعود نے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ العربیہ نیوز کے مطابق احمد مسعود نے کہا کہ اگر طالبان پنج شیر اور اندراب میں فوجی حملے روک دیتے ہیں توقومی مزاحمتی فورس امن و استحکام کے لیے جنگ کو فوری روکنے کے لیے تیار ہے ۔ جب کہ افغانستان کے متعدد مذہبی رہنماؤں نے بھی طالبان اور شمالی اتحاد میں جاری لڑائی کو ‘بلاجواز جنگ’ قرار دیتے ہوئے دونوں فریقین سے اسے ختم کرنے کی درخواست کی ہے ۔ ٹولو نیوز سے گفتگو میں ایک مذہبی لیڈر عبد القادر قانیت نے کہا کہ اگر صورت حال اسی طرح جاری رہی تو پھر ملک میں نسلی اور مذہبی بنیاد پر تصادم کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ایک اور مذہبی رہنما مولوی محمد امین کا کہنا ہے کہ آپ نے امریکا سے دو سال مذاکرات کیے ، مختلف ممالک کے دورے کیے ۔ لیکن آپ اپنے مسلمان بھائیوں سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ قبل ازیں غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق طالبان کے مقامی ترجمان بلال کریمی نے بتایا کہ طالبان افواج نے پریان کے بعد خنج اور انابا کے اضلاع پربھی قبضہ کر لیا ہے ، جس سے طالبان کو صوبے کے 7 میں سے 4 اضلاع کا کنٹرول مل گیا۔طالبان نے دعویٰ کیا کہ امراللہ صالح کے ٹھکانے کا محاصرہ کرلیا، کچھ علاقوں میں لڑائی ہو رہی ہے ، جلد فتح حاصل کر لیں گے ۔انہوں نے بڑی تعداد میں مزاحمتی فورس کا اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے ۔ طالبان کمانڈر نے کہا کہ ہم لوگوں کو تحفظ کا یقین دلاتے ہیں،کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ عام شہری پہاڑوں پر نہ جائیں، اپنے گھروں پر رہیں، لڑائی ختم کر دیں۔ ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا۔ ادھر اطالوی امدادی ایجنسی کا کہنا ہے کہ طالبان پنج شیر سے آگے بڑھ کر انابا کے علاقے تک پہنچ گئے ہیں ، لڑائی میں زخمی ہونے والے کچھ افراد کو انابا میں ہمارے طبی مرکز لایا گیا۔ دوسری جانب ایڈیٹر امریکی لانگ وار جرنل کے مطابق پنج شیر میں کئی اضلاع پر طالبان کے قبضے کی اطلاعات ہیں تاہم یہ تصدیق شدہ نہیں۔ ادھراحمد مسعود کی حامی فورسز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے خاک پاس میں پہاڑ پر دھماکے کی وجہ سے ہزارو ں طالبان جنگجوؤں کو گھیر ے میں لے لیا ہے ۔ ادھر طالبان نے کابل اور دیگر شہروں میں ہوائی فائرنگ سے متعلق واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان کیمطابق کابل اور دیگر صوبوں کے تمام عہدیداران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو فوری گرفتار کریں اور انہیں غیر مسلح کریں، ایسے افراد کو شہروں سے بھی باہر نکالیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان طالبان جرمنی کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جرمنی اور دیگر ممالک افغانستان کی مالی مدد کرنے کے علاوہ اسے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر بھی امداد فراہم کریں گے ۔علاوہ ازیں ترجمان طالبان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مغرب کو افغانوں پر اپنی ثقافت اور نظریات مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔حکومت خواتین کو اسلامی قانون کے تحت کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق دینے کے لیے پرعزم ہے اور یہ کہ خواتین حجاب پہن کر کام اور تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔بعد ازاں نجی کالجز اوریونیورسٹیز آج (پیر)سے کھولنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا حکم دیدیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ کلاسز یا کم از کم انہیں ایک پردے سے الگ کیا جائے ۔ طالبات کے لیے عبایا اور ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جن سے آنکھوں کے علاوہ ان کا پورا چہرہ چھپ جائے ۔ طالبات کو صرف خواتین ہی پڑھا سکتی ہیں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اچھے کردار کے حامل کسی بوڑھے شخص کو رکھا جائے ۔ نئے احکامات میں طالبات کے لیے خواتین اساتذہ کی بھرتی کے ساتھ مرد و خواتین کے لیے راستے علیحدہ کرنیکی ہدایات دی گئی ہیں۔ خواتین کی چھٹی بھی 5 منٹ قبل کی جائے تاکہ وہ اپنے مرد ہم جماعتوں کے ساتھ باہر نہ مل سکیں۔ ایک یونیورسٹی پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عملی طور پر ایسا کرنا بہت مشکل ہے ، لڑکیوں کو الگ سے تعلیم دینے کے لیے ہمارے پاس خواتین اساتذہ کی تعداد زیادہ نہیں ہے ۔ تاہم طالبان نے بچیوں اور خواتین کو سکول جانیکی اجازت دے دی یہ بھی بہت بڑی بات ہے ۔ علاوہ ازیں کابل ایئرپورٹ جزوی طورپرفعال کردیا گیا۔ آریانا افغان ایئر لائن نے کابل اور تین بڑے صوبائی شہروں ہرات، مزار شریف اورقندھارکے درمیان پروازیں دوبارہ شروع کردی ہیں۔اس سے قبل قطر کے الجزیرہ نیوز چینل نے افغانستان میں قطر کے سفیر کے حوالے سے کہا تھا کہ ایک تکنیکی ٹیم کی مدد سے کابل ایئرپورٹ کو دوبارہ کھولنے کے قابل ہوئے ہیں۔ادھرحزب اسلامی کے سربراہ اور سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار سے کابل میں ترک سفیر جہاد ارگینے کی ملاقات، موجودہ ملکی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ علاوہ ازیں افغانستان میں طالبان پر ایک صوبائی شہر میں خاتون پولیس اہلکار کو گولی مار کر قتل کرنے کا الزام سامنے آیا ہے ۔ خاتون کو وسطی صوبہ غور کے دارالحکومت فیروزکوہ میں رشتہ داروں کے سامنے قتل کیا گیا۔ مقامی جیل میں کام کرنے والی نگار آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آور طالبان عربی بول رہے تھے ۔ دوسری جانب امریکی جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ اگر افغانستان میں ایسی حکومت قائم نہ ہوسکی جس میں تمام اقوام اور طبقات کی نمائندگی ہو تو اس سے ملک میں خانہ جنگی پیدا ہوجائے گی اور شدت پسند جماعتیں منظم ہوجائیں گی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے کہا کہ طالبان افغانستان میں مختلف الخیال مقتدر حلقوں اور تمام اقوام کے نمائندوں کو یکجا کر کے حکومت بنانے میں ناکام رہے تو ملک میں خانہ جنگی ہونے کا خدشہ ہے جو کسی کے بھی قابو میں نہیں آئے گی۔امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر طالبان قومی حکومت بنانے میں ناکام ہوتے ہیں تو اگلے 3 برسوں میں القاعدہ اور داعش جیسی جماعتیں دوبارہ منظم ہوکر ایک نئے اور زیادہ خطرناک روپ میں سامنے آسکتی ہیں۔امریکی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ طالبان اندرون اور بیرون ملک سب کے لیے قابل قبول ایک قومی حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے یا نہیں، اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل میں ناکامی سے تباہی کا سلسلہ پھر سے شروع ہوجائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.