Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

صفحہ ہستی سے مٹنے والے اعمال سے بچنا ہو گا

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسد مفتی

اس دنیامیں کون سا ایسا سخص ہے جوخوشی کی تلاش میں سرگرداں نہ ہو ان لوگوں کو تو جانے ہی دیجئے جن کی نگاہ میں یہ دنیا آنسو کی طرح ٹپک کر بے حقیقت بن چکی ہیں اور وہ دوسری دنیا میں بہنے والی دودھ کی شیریں نہروں اور حور و غلمان بہشتی کی امید میں اسے تج کر ترک دنیا ہو گئے ہیں بات ان لوگوں کی ہے جو اسی مادی دنیا میں خوشحالی کی زندگی بسر کرنے کے متمنی ہیں اپنے دل میں ایسی ہزاروں خواہشوں کو پروان چڑھانے میں ہمہ وقت مصروف ہیں جن کی ہرخواہش پر دم اگر بالکل ہی نہیں نکلتا تو نزع کی سرحد پرپہنچ ضرور جاتا ہے ۔ خوش بختی کی تلاس میں پریشان رہتے ہیں اور ان کے ہی پیروں میں ایک چکر سے رہا کرتا ہے لیکن ایسے افراد میں ان لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو اپنے خوش بخت یا خوش قسمت ہونے کا اعتراف بھی کرتے ہیں ۔
ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ دوسرے اس سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں وہ نعمتیں میسر ہیں جو اگر ان کے پاس ہوتیں تو وہ خوش بخت ہوتا مگر حقیقت یہ ہے کہ خوشی محض ایک اضافی اور وقتی شے ہے وہ چیز جو ایک شخص کے لئے سرمایہ حیات ہو سکتی ہے وہ دوسرے کے لئے باعث بدبختی بھی ہو سکتی ہے مچلاً ایک مخصوص دوا ایک انسان کو قوت بخشتی ہے لیکن دوسرے کے لئے باعث ہلاکت ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح ثروت ، علم و ادب، صفت ، قوت اور ہنر مندی وغیرہ مختلف افراد کے لئے مختلف النواع اضافی اور مشروط نتائج کی حامل ہوسکتی ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ لکھنا اگر کسی ایک کی خوبی ہوسکتی ہے تو نہ لکھنا ایک دوسرے شخص کی خوبی بھی ہو سکتی ہے اس عالم آب و گل کی مخلوق اور خدا کے نائب وخلیفہ کی بہت بڑی بدبختی ہے کہ انسانیت کےبہترین دماغ آج تک خوش بختی کی تعریف کا تعین نہیں کر سکے ۔ مختلف مفکرین نے زندگی کو جس جس زاویے سے دیکھا اور سمجھا ہے اس کی بنیاد پر انہوں نے خوش بختی اور خوش قسمتی کی قدروں کی نساندہی مکتلف انداز اور الفاظ میں کی ہے تو کیا فرماتے ہیں مفکرین بیج اس مسئلے کے ۔
گوتم بدھ نے کہا سکون دماغ سے بڑی کوئی خوش بختی نہیں ہے اس نے زندگی کی جن مخصوص حالات میں دیکھاان کا تقاضہ یہی تھا کہ انسان وہ رتبہ حاصل کر لے جہاں اسے سلسلہ تناسخ سے نجات حاصل ہو جائے ماحول اور پس منظر کی اس روشنی میں بدھ کو یہی بہترین طریقہ معلوم ہو سکا اس نے ذہن کے اس سکون کو خوش بختی کی معراج بتایا جو سلسلہ تناسخ سے امن حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے یہ زاویہ نگگاہ اس کے مخصوص مطالعہ زیست سے الگ ہٹ کر بھی اہم ہے ۔ ظاہر ہے روز زندگی میں ہماری تگ و دو کا حاصل صرف سکون دماغ ہی ہوتا ہے ۔ جرمنی کے مشہور شاعراورفلسفی گوئٹے نے خوش بخت اس شخص کو قرار دیا ہے جو کسی کو دوست رکھتا ہے یا جس کے دوست ہوتے ہےں ۔ البرٹ ہاورڈ کا خیال ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا بہترین خوش بختی ہے ۔ موسیقار ، مغنی، اور مفکار بیتھون کا قول ہے کہ دوسروں کی خوش بختی کیلئے کوشش کرنا ہی اصل خوش بختی ہے اسی قسم کی تشریح ایف ہالم نے بھی پیش کی ہے اس کا خیال ہے کہ دوسروں کے آنسوﺅں کو مسکراہٹ میں تبدیل کر دینا ہی خوش بختیہے ۔ افلاطون نے بتایا ہے کہ بہترین خوش بختی حصول علم میں ہے کہ علم سے جہالت کی تاریکی کا خاتمہ ہوتاہے ۔ حقوق و فرائض کا اندازہ ہوتا ہے اور ذہن کے دریچے کھل جاتے ہہیں ۔ چینی فلاسفر کنفیوشس نے اپنی تعلیمات میں کہا ہے کہ اگر تم خوش بخت ہونا چاہتے ہو تو اپنے ارد گرد کے لوگوں کی حقیقت کو پہنچانو ، رالف ڈبلوامرسن کا قول ہے کہ جب تک ہمارے دل میں خوشی نہ پیداہو گی ہم باہری دنیا میں اس کاتصوربھی نہیں کر سکتے ایک دوسرے یونانی مفکر ایلپکوریس کے نزدیک خوش بختی ہر جگہ، ہر صورت اور ہرماحول میں ہے صرف اسے حاصل کرنا اور اس سے لطف اندوز ہونا انسان کی اپنی صلاحیت پرمنحصر ہے ان تمام تشریحات و تفصیلات میں قدرمشترک انسایت سے محبت کرنے کا جذبہ ہے اگر تمام بنی نوع انسان محبت کا حقدار سمجھا جائے اور انہیں آرام و اطمینان پہنچانے کے موقع پیدا کئے جائیں تو انسان کو ایک سکون کا احساس ہوتا ہے کہ اس سے جذبہ خدمت کی تسکین ہوتی ہے ۔ اس بحث سے ایک بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ہر وہ شخص جو فلسفی ، مفکر ، شاعر یا دانشور کچھ بھی ہو اپنے طریقہ فکر کی بناءپر خوش بختی کا تصور تخلیق کرتا ہے ۔ اس لئے عقل مندوں سے صرف اس حد تک مددلی جا سکتی ہے کہ خوش بختی کے متعلق مختلف نظریات اور تصورات حاصل کر لئے جائیں اور ان کے جدلیاتی مطالعہ سے کسی ایسے نتیجے پر پہنچا جائے جو ہمارے مخصوص حالات و کفیفیات سے مناسبت رکھتا ہو ۔ خوش قسمتی کیلئے کسی حسابی کتابی یا الجبرائی قاعدے کا اخذ کرنا ناممکن ہے ۔ خوش بختی کو اگر ہم کم سے کم الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ خوش بختی اس حالت دماغی کا نام ہے جو ہر تمنا ، حسرت ، خواہش اور آرزو کے پورے ہو جانے کے بعد پیدا ہوتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ مندرجات بالا بحث سے ذہن کچھ نامعلوم سمتوں اور راہوں میں بھٹکنے لگتا ہے اور خوش بختی حاصل کرنے کی ہر کوشش بدبختی پر ختم ہوتی نظر آتی ہے ۔ خوش بختی کیا ہے؟ اور کہاں ہے اس بارے میںکوئی جامع اور آخری فیصلہ کرنا یا کسی آخری نتیجے پر پہنچنا اگر نا ممکن نہیں تو دشوار ترین ضرور ہے ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ چند ایسی راہیں نکالی جائیں جن پر چل کر منزل خوش بختی کا ایک نسبتاً واضح تصور سامنے آسکے کہ اس منزل خوش بختی کا ایک سنگ میل قوت فیصلہ ہے ۔ ایک صاحب ماہر نفیسات کے حوالے سے بتا رہے تھے کہ شور و ہنگامے کی وجہ سے پاکستان کے عوام کی قوت فیصلہ تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔ چنانچہ ہماری حکومت کو چاہئے کہ وہ سیاسی سرگرمیاں ، سیاسی جماعتیں اور جمہوریت بحال کرنے سے پہلے شور و ہنگامہ کو ختم کرنے کی کوشش کرے کہ پاکستان کے عوام کی قوت فیصلہ بحال ہو جائے ۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ اگر پاکستان کے عوام کی قوت فیصلہ کر دی جائے تو پھر کچھ اور بحال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.