Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سائنسدانوں نے دنیا کی سب سے چھوٹی ’چھپکلی‘ دریافت کر لی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کرہ ارض پر سب سے چھوٹے رینگنے والے جانور کو دریافت کر لیا ہے جو کیمیلیون کی نسل سے ہے اور اس کا حجم صرف ایک بیج جتنا ہے۔ مڈغاسکر کی مہم پر جانے والی جرمنی اور مڈغاسکر کی مشترکہ ٹیم کو دو چھوٹے چھپکلی نما جانور ملے ہیں۔ اس نر بروکسیا نانا یا نانو کیمیلیون کے جسم کی لمبائی محض 13.5 ملی میٹر ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق میونخ میں قائم بیویریئن سٹیٹ کولیکشن آف زویولوجی کے مطابق یہ اب تک چھپکلیوں کی دریافت شدہ 11,500 اقسام میں سب سے چھوٹی قسم ہے۔ سر سے لے کر دم تک اس کا حجم 22 ملی میٹر تک ہے جو 0.86 انچ بنتا ہے۔

تاہم اس کی مادہ کا حجم قدرے بڑا 29 ملی میٹر تک ہے۔ ادارے کے مطابق اگرچہ یہ دریافت ایک عظیم کوشش ہے تاہم اب بھی اس چھپکلی کی مزید آبادی کی تلاش باقی ہے۔ سائنٹیفک رپورٹ نامی جریدے کے مطابق یہ نئی کیمیلیون نسل شمال کے جنگلوں میں پائی جاتی ہے اور اس کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔

سینٹر آف نیچرل ہسٹری ہمبرگ کے ایک سائنسدان اولیور ہاؤلیشک کا کہنا ہے کہ نینو کیمیلیون کے ٹھکانے بدقسمتی سے جنگلات کی کٹائی کے باعث خطرات کا شکار ہیں تاہم ان علاقوں کو حال ہی میں تحفظ میں لے لیا گیا ہے تاکہ ان جانداروں کو بچایا جا سکے۔

محققین کے مطابق یہ چھپکلیاں برساتی جنگلوں میں زمین پر رینگنے والے چھوٹے حشرات کا شکار کرتی ہیں اور رات کے وقت حملہ آوروں سے بچنے کے لیے گھاس میں چھپ جاتی ہیں۔ اس دریافت میں شامل محققین میں سے ایک ڈاکٹر مارک شیرز نے اپنے ایک بلاگ میں لکھا کہ یہ کسی جاندار کے چھوٹے سے چھوٹے حجم کے حوالے سے ایک شاندار کیس ہے۔

وہ جنگلات جہاں بروکسیا واقع ہے اب بھی اس جزیرے کے شمال میں موجود دیگر جنگلات سے جڑے ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا اس لیے کیمیلیون کی یہ نئی قسم کسی بھی چھوٹے جزیرے پر پائے جانے والی جانداروں کی چھوٹی ترین اقسام کے نمونوں کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے حجم کے چھوٹے رہ جانے میں کوئی اور چیز بھی کار فرما ہے۔

سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ کیمیلیون ناپید ہونے کے خطرے کا شکار ہے اور اس لیے اس کے ٹھکانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مدد کی جانی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.