Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بائیڈن کے وائٹ ہاؤس کی طرف بڑھتے قدموں کے ساتھ ڈالر قدر کھونے لگا

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

امریکا میں جو بائیڈن صدارتی انتخاب میں فتح کے حصول کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں اور ایسے میں امریکی ڈالر یوآن سمیت دیگر ایشیائی ممالک کی کرنسی کے مقابلے میں دو سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔

فنانشل مارکیٹس غیریقینی صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ موجودہ ریپبلیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد ریاستوں میں دھاندلی اور ووٹوں کی غلطی میں دھوکا دہی کے الزامات عائد کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

ماہرین اور تاجروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحا سے وقتی طور پر ڈالر گر سکتا ہے اور اس کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پاؤنڈ اور یورو کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں قدر میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک آف انگلینڈ نے منفی شرح سود کے حوالے سے غور شروع کردیا ہے۔

فیڈرل ریزرو کی جانب سے پالیسی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے کیونکہ تاجر اور معاشی ماہرین صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس اعصاب شکن صدارتی انتخاب میں یوآن میکسیکو کی کرنسی کی مالیت ڈالر کے مقابلے میں قدرے بڑھ گئی ہے۔

بائیڈن نے وکونسن اور مشیگن میں فتح کا دعویٰ کیا جبکہ رپورٹس کے مطابق سابق نائب صدر نیواڈا اور ایریزونا میں برتری حاصل کر چکے ہیں البتہ جیورجیا اور پنسل وینیا میں ٹرمپ کو برتری حاصل ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نرمی تجارتی پالیسیاں اپنائے گی جس سے دنیا کی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہو گی جہاں ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ان ممالک کو ٹیرف کے خطرات کا سامنا رہتا تھا۔

ٹوکیو کی میزوہو سیکیورٹیز کے چیف کرنسی اسٹریٹیجسٹ مسافومی یماماتو نے کہا کہ یوآن اور پیسو کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں اضافے سے پتہ چلتا ہے کہ بائیڈن کی فتح پر مارکیٹ ردعمل دے رہی ہے، کچھ دیگر وجوہات کی وجہ سے ہم ڈالر کے مقابلے میں یورو کی قدر میں بھی اضافہ ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔

یوآن دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں ایک ڈالر 6.6381 یوآن کا ہو گیا ہے جہاں بائیڈن کی فتح کی صورت میں تجارتی مارکیٹ میں چین کی کرنسی میں بھی اضافے کا امکان ہے۔

ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی کرنسیوں جیسے ملائیشین رنگیٹ اور انڈونیین روپے کی قدر میں بھی ڈالر کے مقابلے میں بہتری نظر آئی ہے۔

جمعرات کو ایک یورو 1.1736 ڈالر کا خریدار گیا البتہ برٹش پاؤنڈ 0.25سینٹ کمی کے بعد 1.2960ڈالر پر آ گیا۔

اگر بائیڈن اپنے حریف ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے قانونی چینلنج کو پار کر کے صدر بننے میں کامیاب رہتے ہیں تو بھی ریپبلیکنز ممکنہ طور پر سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیں گے اور اس کو بائیڈن کے ایجنڈا کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو کرننسی کے تاجروں کے لیے ایک اور پیچیدہ پہلو ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ پر ریپبلیکشن کے کنٹرول سے بائیڈن حکومت کارپوریت ٰٹیکسز میں اضافہ نہیں کر سکے گی جو ایکویٹیز کے لیے مثبت پہلو ہے۔

البتہ ان کا کہنا ہے کہ تقسیم شدہ حکومت کے بڑے مالی محرکات ہو سکتے ہیں اور اسے منفی طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.