Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کیاطالبان جنگ بندی سے انکاری ہیں؟؟ : حسین حقانی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

رہاہونے والوں نے دوبارہ ہتھیاراٹھالئے

محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لئے طالبان سے مذاکرات کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی اور امریکی انخلا کے نظام الاوقات پر عمل پیرا ہونے کے باوجود بھی طالبان جنگ بندی سے انکار کر رہے ہیں۔حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے بہت سے طالبان نے دوبارہ ہتھیار اٹھا لئے ہیں اور وہ میدان جنگ میں واپس آ گئے ہیں۔ امریکی حکومت کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طالبان نے ابھی تک القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات نہیں توڑے اور امریکیوں کے ساتھ ساتھ افغانوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

طالبان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ہوسکتا ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت معطل کرنے کا وقت آن پہنچا ہو۔مذاکرات کی معطلی سے یہ تاثر ختم ہوجائے گا کہ امریکی افغانستان سے دستبرداری کے لئے اس قدر بے چین ہیں کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ ان کے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار میں واپس آتے ہیں یا نہیں۔مذاکرات معطل کرنے کی حکمت عملی طالبان کو اپنے وعدے پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اس سے پاکستان کو بھی یہ اشارہ ملے گا کہ اسے لڑائی ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طالبان کو پناہ گاہ سے محروم ہونے کی دھمکی دینا ہوگی۔

کسی مشکل سودا بازی کے بغیر طالبان کے تمام مطالبات تسلیم کر کے مذاکرات کی امریکی حکمت عملی نے انہیں مزید شہہ دی ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ امن کے بارے میں امریکہ اور طالبان کے نکتہ ہائے نظر بہت مختلف ہیں۔ امریکی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں خونریزی ختم ہو، جبکہ طالبان اپنی فتح کو امن کا آغاز سمجھتے ہیں۔طالبان نیٹو افواج کے انخلا کی حوصلہ افزائی کے لئے ان مذاکرات میں شامل ہوئے تھے جب وہ نائن الیون کے بعد ختم ہونے والے اپنے اسلامی امارت کی بحالی کی آ س لگائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ مذاکرات اس امکان کو یقینی بنانے کا راستہ تھا کہ اس کے طفیلی طالبان کابل پر قبضہ کر لیں تاکہ ہمسایہ ملک میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں اسے مزید نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بین ثبوتوں کے باوجود پاکستان برسوں سے اس حقیقت سے انکار کرتا چلا آ رہا ہے کہ اس نے طالبان کی حمایت کی یا اس کی قیادت کو پناہ دی ۔ صدر ٹرمپ کی طالبان سے بات چیت کے لئے آمادگی نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ افغانستان میں اس کے “ڈبل گیم” کے الزامات سے بالاتر ہوکر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے۔انتظامیہ کا طالبان کے آمرانہ نظریات کو نظرانداز کر کے ان کے ساتھ معاہدہ کرنا عملی حقائق پر مبنی فیصلہ تھا ۔اس کے علاوہ اس جنگ کو طوالت دینے ،امریکی جانوں اور خزانوں کونقصان پہنچانے میں پاکستان کے کردار کو معاف کرنے کی بھی ضرورت تھی۔

اگر یہ مذاکرات امن قائم کرنے قائم کرنے کا باعث بنتے ہیں تو ان کی یہ قیمت چکانا ایک اچھا سودا ہو سکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان جنگ کے خاتمے اورافغانستان کے اقتدارکے ڈھانچے میں شامل ہونے پر راضی نہیں ۔ وہ مطلق طاقت چاہتے ہیں اور اپنی تشریح کے مطابق اسلامی قانون افغان عوام پر مسلط کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے کے صرف پانچ دن بعد طالبان نے 5 مارچ کو ایک فتویٰ جاری کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ، افغانستان کے جائز حکمران اور اس کی “اسلامی حکومت” کے سربراہ ہیں۔

اس طرح کے بیانات سے افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کے جمہوری آئین کے پابند دیگر افراد کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔طالبان کا موقف سخت ہونے کی وجہ ان کا یہ اندازہ ہے کہ امریکی صدر کا افغانستان سے دستبرداری کا فیصلہ ناقابل واپسی ہے۔ وہ کابل میں سیاسی تقسیم کو بھی اپنے لئے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ ایک بار امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کو توقع ہے کہ وہ اپنے نظریہ کے خلاف کسی بھی مزاحمت کا بے رحمی سے صفایا کردیں گے۔

دوسری طرف امریکہ اورطالبان کے رہنماو¿ں کے مابین براہ راست مذاکرات کی سہولت کے بعد پاکستان کو لگتا ہے کہ اب اس کے اپنے ماضی کے طرز عمل کو بھلا دیا گیا ہے۔ پاکستان چاہے گا کہ امریکہ مذاکرات کو جاری رکھے چاہے ان کا کوئی بھی نتیجہ نہ نکل رہا ہو اور پاکستان خود طالبان قیادت پر سمجھوتے کے لئے دباو¿ ڈالنے سے انکار کرتا رہے۔ پاکستانی عہدے دار یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ ختم ہو گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ طالبان رہنما دوحہ میں مذاکرات کے لئے پاکستان سے سفر کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے خاندان قطر یا پاکستان میں رہتے ہیں۔ امریکہ اس بات پر اصرار کرسکتا ہے کہ پاکستان (اور قطر) کو صرف اچھا میزبان ہونے سے آگے بڑھ کر طالبان سے بات کرنا چاہئے اور اگر وہ مذاکرات کے حل کے لئے شرائط کو قبول نہیں کرتے تو طالبان رہنماو¿ں کو ملک بدر کرنے کے دھمکی کا استعمال کرنا چاہئے۔

امریکہ کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کی لامتناہی جنگ سے نکلنے کی خواہش، اس ملک کی مایوسی اور اپنی افواج کے انخلا کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے پر آمادگی کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔ افغانستان کو طالبان کے زیر اقتدار چھوڑنا ، خاص طور پر جب چین خطے میں اپنی سرمایہ کاری کو بڑھا رہا ہے اور خطے کی غالب طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے، امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

جب تک کہ طالبان زیادہ لچک نہ دکھائیں تب تک مذاکرات کی معطلی سے پاکستان کو طالبان کا بازو مروڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ افغانستان سے انخلا کے لئے زیادہ بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے تو چین (جس کی طالبان کے اقتدار میں واپسی کے خوف کی اپنی وجوہات ہوسکتی ہیں) بھی افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات کو زیادہ سنجیدگی سے لے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.