Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ملک کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا، ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے’

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران نیب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں نیب افسران کی نااہلی کی وجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، ہمیں اللہ سے زیادہ ایک آمر کا خوف ہوتا ہے، ملک کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے نیب افسران کے نام پر پیسے لینے والے ملزم محمد ندیم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

اس موقع پر عدالت نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب عرفان نعیم منگی کے تقرر اور اہلیت پر سوال اٹھایا اور سپریم کورٹ نے نیب کے تمام ڈی جیز کے تقرر سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔

عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل برائے پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چیئرمین نیب کے افسران کی بھرتیوں کے اختیار کا نوٹس بھی لے لیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ نیب کا سیکشن 28 آئین کے آرٹیکل 240 سے متصادم ہے، چیئرمین نیب آئین اور قانون کو بائی پاس کرکے کیسے بھرتیاں کرسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ محمد ندیم مڈل پاس ہے اور تفتیش کے مطابق ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم کیسے بہاولپور سے نیب افسر بن کر کال کرتا تھا، محمد ندیم نے ایم ڈی پی اس او کو ڈی جی نیب بن کر کال کی، ملزم کے پاس کیسے بڑے بڑے افسران کے نمبر آگئے؟

اس پر عدالت میں موجود نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی مختلف شکایتیں ملیں اور پی ایس او کے ایم ڈی نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیا۔

پراسیکیوٹر کی بات پر عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ عرفان منگی آپ کی تعلیم اور تنخواہ کیا ہے، جس پر انہوں نے عدالت کو جواب دیا کہ میں انجینئر ہوں اور میری تنخواہ 4 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔

اس پر جسٹس عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا آپ فوجداری معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں،جس پرعرفان منگی نے جواب دیا کہ میرا فوجداری مقدمات کا کوئی تجربہ نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.