Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی محاصرے کے 365 روز

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

5 اگست 2019 کو بھارت کی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے مسلمان اکثریتی ریاست کشمیر کی جداگانہ حیثیت آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا تھا جسے آج ایک برس مکمل ہوگیا جس کے بعد سے ساڑھے 12 لاکھ کشمیری ایک محاصرے میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اس ایک برس کے عرصے میں عالمی دباؤ کے باعث بھارتی حکام نے کچھ پابندیاں ہٹانے کا دعویٰ کیا جن میں کچھ موبائل سروسز کی بحالی اور سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانا شامل ہے تاہم 5 اگست سے قبل ہی بھارتی حکام نے مقبوضہ وادی میں پھر کرفیو نافذ کردیا تھا۔

تاہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے زندگی انتہائی مشکلات کا شکار رہی ہے جہاں سیکڑوں چیک پوائنٹس موجود ہیں، انٹرنیٹ کی بندش ہے اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

اس ایک سال کے عرصے میں کشمیریوں کے خلاف سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئی اور 2020 کچھ عرصے کے لیے خونی سال ثابت ہوا۔

رواں برس جولائی میں جموں اینڈ کشمیر سول سوسائٹی اتحاد کی رپورٹ کے مطانق مقبوضہ کشمیر میں جنوری سے جولائی تک 229 کشمیریوں سے جینے کا حق چھینا گیا اور 100 ملٹری آپریشنز ہوئے، 55 انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز ہوئے اور 48 عمارتوں کا تباہ کیا گیا۔

علاوہ ازیں اس ایک سال کے عرصے میں بھارت نے ہزاروں افراد کو مقبوضہ کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت بھی دی ہے جسے ناقدین اور رہائشیوں کی جانب سے خطے کی اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا جاتا ہے۔

5 اگست 2019 سے لے کر ان 365 دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر کیا مظالم ڈھائے گئے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

اگست 2019

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے قبل 2 اگست کو بھارتی حکومت نے مبینہ طور پر دہشت گردی کے خطرے کے پیشِ نظر مقبوضہ کشمیر میں آئے سیاحوں کو واپس جانے کی ہدایت کی تھی جبکہ اضافی نفری کے ساتھ سیکیورٹی کے دیگر اقدامات کے باعث کشمیری عوام میں خوف اور تشویش کی لہر بھی پیدا ہوگئی تھئ۔

5 اگست 2019 کو بھارتی صدر رام ناتھ کووِند نے آئین میں موجود مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کیے تھے اور مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا اور لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا گیا تھا۔

8 اگست تک مقبوضہ کشمیر نے 5 اگست سے لے کر صرف 3 روز میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے 500 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا تھا جس کے اگلے روز بھارتی پولیس نے سری نگر میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف مظاہرے کرنے والے 10 ہزار کشمیریوں پر آنسو گیس اور پیلیٹ گنز برسائی تھیں۔

14 اگست کو پاکستان نے اپنا 73واں یومِ آزادی ‘یومِ یکجہتی کشمیر’ کے طور پر منایا تھا اور اسے کشمیریوں کے نام کیا تھاجبکہ 15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی کو پاکستان میں ملک گیر سطح پریومِ سیاہ طور پر منایا گیا تھا بھارتی اقدام کے خلاف اور کشمیر سے یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے گئے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.