Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ :پی ڈی ایم کے جلسے اور پس پردہ مذاکرات

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ایک طرف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم بھرپور پاور شو کا مظاہرہ کر رہا ہے اور دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پس پردہ مذاکرات کی بات کافی آگے تک چلی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بات ضمانت دینے ت پہنچ چکی ہے تاہم ایک بڑی پارٹی کے سربراہ نے انا کا مسئلہ بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی ہے۔ یقینا اپوزیشن اتحاد نے حکومت کو انڈر پریشر کیا ہے اور اس کا اندازہ خود کابینہ اراکین کی گفتگو سے بخوبی ہو رہا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم صاحب کو اس حد تک فرما رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن کو کسی نے این آر او دینے کی کوشش کی تو یہ ملک کے ساتھ غداری ہوگی یعنی کوئی تو ایسی طاقت ہے جو حکومت کو بائی پاس کر کے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت یا مستقبل کا لاحیہ عمل ترتیب دے رہی ہے۔ ہماری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسا ہوتا رہا ہے مذاکرات کسی خاص اشارے یا ادارے سے کیے جاتے رہے ہیں اور فیصلہ حکومتوں پر تھونپ دیا جاتا تھا۔ یہ روش یقینا نا قابل فہم ہے تاہم پاکستانی سیاست میں اسے خاصی اہمیت حاصل ہے۔ اس بار بھی جب اپوزیشن تحریک نے زرو پکڑا اور عوام نکلے تو اپوزیشن نے حکومت سے بات کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا ۔ اپوزیزن کا کہنا تھا کہ ہم بات کریں گے تو اس طاقت سے کریں گے جس کے پاس اختیار ہے ۔ اپوزیشن کے نذدیک حکومت کٹھ پتلہ ہے اس کی کوئی اہمیت ہی سرے سے نہیں ہے تو بات چیت کیسی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ماغی کی حکومتیں اور بالخصوص نواز حکومتیں عوامی مینڈیٹ سے آئی تھیں۔ موجودہ اپوزیشن بھی پیپلز پارٹی کے علاوہ ہمیشہ سلیکٹڈ تھی۔ کون بھول سکتا ہے آئی جے آئی اور نو ستاروں والے پرچم کو یہ پاکستا کی سیاسی تاریخ پر بد ترین دھبہ ہے اور اس کی ذمہ داری موجودہ اپوزیشن کے سرخیل نواز شریف پر عائد ہوتی ہے۔ بہرحال یہ سیاسی کھیل ہے چلتا رہا ہے اور شاید آئندہ بھی اسی طرز پر چلے کیونکہ ہمارے سیاست دان بدلنا نہیں چاہتے۔ یہ اس وقت جمہوریت کاراگ الاپتے ہیں جب ان کی گردن پر تلوار لٹکتی ہے ۔ ان حالات میں یقنا سیاسی انتشار ہے اور عدم استحکام بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ اپوزیشن تمام تر الزامات اور گرفتاریوں کے باوجود پاور شو کر رہی ہے اور کامیاب کر رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے بہاولپور میں حکومت مخالف ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت سربراہ جے یو آئی(ف) مولانا فضل الرحمن، نائب صدر مسلم لیگ(ن) مریم نواز، پیپلزپارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی، اے این پی کے میاں افتخار و دیگر نے کی۔ قبل ازیں ملتان سے رہنما ریلیوں کی قیادت کرتے ہوئے چنڑہاﺅس بہاولپور پہنچے جہاں استقبالیہ کیمپ لگایا گیا تھا۔سرائیکی چوک میں قائدین نے ریلی سے خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا پی ڈی ایم کے اتحاد سے حکومتی وزرا کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی، عمران خان کہتے ہیں کہ فوج ان کی پشت پر ہے، فوج اپنی پوزیشن واضح کرے، پی ٹی آئی کو سب سے بڑی فنڈنگ اسرائیل سے کی گئی، عمران خان کو ہم پر مسلط کیا گیا جو مزید برداشت نہیں کریں گے، موجودہ حکومت کیخلاف تحریک کو شرعی جہاد سمجھتا ہوں،اب پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا موجودہ حکمران کشمیر فروش ہیں، 5 فروری کو پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرے گی۔انہوں نے کہا اسلام آباد میں 22 گولیاں مار کر نوجوان کو کیوں قتل کیا گیا، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لیں۔ملتان سے روانگی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم میں کوئی اختلافات نہیں، مضبوط اور پر عزم ہے، جعلی اور سلیکٹڈ حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رکھا، پی ڈی ایم کے پاس استعفوں کا آپشن موجود ہے، استعفے پارٹی قائدین کے پاس جمع ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا شیخ رشید کی باتیں بے بنیاد ہیں، ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔انہوں نے کہا سلیکٹڈ حکومت کو گھر جانا ہوگا، پی ڈی ایم مضبوط اور پرعزم ہے، اختلافات کی تمام افواہیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا عمران خان بھی فوج پر الزامات لگاتے رہے، ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا حکومت نے اسلام آباد پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، ہم عوام کے مینڈیٹ سے یہ قبضہ چھڑانے آئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جو لوگ پارٹی کا حصہ نہیں رہے، ان پر تبصرہ کرنا نہیں چاہتا۔این این آئی کے مطابق فضل الرحمٰن نے کہا اسلام آباد کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، ناجائز قبضہ چھڑانے کے لئے جائز جدوجہد کر رہے ہیں۔ مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا اگر مولانا فضل الرحمان کہیں تو اس عوام کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑ دوں۔ انہوں نے کہا عوام مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے ہیں، اگر عوام کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑ دیا تو جعلی وزیر اعظم کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ مریم نواز نے خطاب کے دوران گو نیازی گو کے نعرے بھی لگوائے اور کہا کہ اس حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ انہوں نے شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام بتائیں کہ ہم جعلی اسمبلیوں میں بیٹھے رہیں یا استعفیٰ دیں؟ جس دن پی ڈی ایم نے استعفے دے دیئے، اس دن اس حکومت کا کام تمام ہو جائے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کی بجلی کی قیمت 25 فیصد بڑھانا پڑے گی، مجھے غریب عوام کا احساس ہے،مہنگائی کی وجہ سے اس نالائق اور جعلی وزیر اعظم کو گھر بھیجنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا پنجاب کو ظلم کے خلاف کھڑا نہ ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا، سن لو! پنجاب اپنے حقوق واپس لینے کے لئے پوری طرح تیار ہے، جب پنجاب کھڑا ہو جاتا ہے تو کس کے پا¶ں کانپتے ہیں، سب کو پتہ ہے، سلیکٹرز بھی دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب کھڑا ہو گیا ہے۔ مریم نواز نے کہا عمران خان کہتا ہے کہ فوج جانتی ہے کہ میں کرپٹ نہیں ہوں، 127 ارب کی میٹرو بناتا ہے اور کہتا ہے فوج جانتی ہے میں کرپٹ نہیں ہوں، فارن فنڈنگ کیس کو آگے کیوں نہیں بڑھنے دیا جا رہا کیونکہ فوج جانتی ہے میں کرپٹ نہیں ہوں، دوائی 500 فیصد مہنگی ہو گئی، پیسہ جیب میں گیا مگر فوج جانتی ہے کہ میں کرپٹ نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا تابعدار خان کہتا ہے کہ میں نے اربوں روپے لوٹنے والے کو فرار کروایا مگر فوج جانتی ہے میں کرپٹ نہیں ہوں۔پیپلزپارٹی کے رہنما، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے حقوق کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں، ہم نے الگ صوبہ مانگا تھا لیکن ہمیں سیکرٹریٹ پر لڑایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کا رویہ اور مﺅقف دن بدن سخت ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ فوج کو سیاسی لڑائی میں نہ گھسیٹا جائے۔ کسی ایک شخص کے کام کی ذمہ داری سارے ادارے پر ڈالنا کہاں کا انصاف ہے۔ پاکستان کو درپیش مسائل میں فوج اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ بالخصوص بیرونی خطرات ، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر مسلسل کشیدگی، افغانستان سے دہشت گردی کے علاوہ بلوچستان میں دہشت گردی جس میں بھی بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ اس حوالے سے فوج فرنٹ لائن پر ملک کی سالمیت کی خاطر جان دے رہی ہے۔ فوجی جوان اپنے ادارے کے متعلق اس قسم کی گفتگو پر نالاں ہے۔ اس لیے ادارے کے ساتھ براہ راست لڑائی کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ایک طرف آپ مذاکرات بھی فوج سے چاہتے ہیں اور دوسری جانب حدف تنقید بھی فوج ہی ہے۔ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ کشیدگی کم ہو۔ اپوزیشن کو سیاسی لڑائی سیاسی انداز میں اپنے سیاسی حریف کے خلاف لڑنی چاہیے۔ فوج کے متعلق اس قسم کی گفتگو سے حاصل تو کچھ نہیں ہونا تاہم کشیدگی میں اضافہ ہو جائے گا جو کہ کسی بھی پارٹی کے حق میں نہیں ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.