Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

امیدیں او رتوقعات

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ڈاکٹر ابراہیم مغل
کو ئی سا ل کیا منحو س ہو تا ہے، یا مبارک، ہم بنی نو ع انسا ن اس کا فیصلہ کر نے وا لے کو ئی نہیں ہو تے۔ اب اگر حالیہ گز شتہ سا ل 2020 کی ہی با ت کر لیں تو کر ونا کے چھا ئے با دلوں کی بنا پر اسے ایک برا سا ل قرا ر دیا جا رہا ہے۔ مگر اسی سا ل کے اواخر میں ہمیں یہ نو ید بھی تو سنا ئی گئی کہ بنی نو ع انسا ن نے کینسر کا حتمی علا ج در یا فت کر لیا ہے۔ اور اگر خدا نے چا ہا تو مو جو دہ سال ہی اس پہ عمل شرو ع ہو جا ئے گا۔ علا وہ از یں دنیا بھر کے سا ئنسدانوں کی دن را ت کی محنت نے کرونا کی ویکسین بھی تیا ر کر لی ہیں۔کر ونا نے جہا ں ہم سب سے ان کے بہت سے پیا روں کو چھین لیا ہے، وہیں ہمیں زند گی کے اصل مطلب کا ادرا ک بھی بخشا ہے۔ انسا ن نے ایک دو سرے کے مل کر زند ہ رہنے کی قد رو قیمت کو پہچا ن لیا ہے۔ Leave me alone کہنے وا لا انسا ن اب تنہا ئی سے نفر ت کر نے لگا ہے۔ بہر حا ل اگر ہم ملکی لیو ل پہ نئے بر س کی بات کر یں تو نیا سال سیاسی، معاشی اور سماجی شعبوں میں بہتری، ترقی اور خوشحالی کی ا±میدوں کے ساتھ شروع ہورہا ہے۔ سیاسی ا±فق پر اگرچہ بے یقینی کے گہرے بادل ہیں، مگر حالات و واقعات میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وقت کے ساتھ سیاسی طوفان بھی دھیمے پڑ جائیں گے او رجماعتیں کھینچا تانی سے نکل کر سینیٹ کے انتخابات کی طرف توجہ کریں گی جو فروری یا مارچ میں متوقع ہیں۔ سیاسی دور اندیشی اور دانش مندی کا مظاہرہ حزب اختلاف اور حکمران جماعت، دونوں کی طرف سے کیا جانا ضروری ہے مگر حکومت پہ چونکہ زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لیے ہر مثبت قدم میں پہل بھی اسی کی جانب سے ہو تو زیادہ مناسب ہے۔ حکومت اگر توجہ دے تو بزرگ سیاست دان اور حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کا یہ مشورہ اس کے بڑے کام آسکتا ہے کہ حزب اختلاف کی تجاویز کا جواب بیان بازی سے نہ دیا جائے بلکہ سنجیدگی اختیار کی جائے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ حکومت کو اپنی ابلاغی حکمت عملی پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ قومی سیاست میں ہر بات کا ترکی بہ ترکی جواب ہر بار ضروری نہیں ہوتا ،بلکہ ہمیشہ ایک ایسا معتبر چینل موجود رہنا چاہیے جو رہنماﺅں کے درمیان رسمی یا غیررسمی بات چیت سے معاملات کو سلجھانے میں مدد کرتا ہو۔ ملک پہلے ہی کم مسائل کا سامنا نہیں کر رہا کہ اوپر سے سیاسی بحرانوں کو بھی دعوت دی جائے۔ چودھری شجاعت حسین کا یہ کہنا قابلِ غور ہے .کہ حکومت اور اپوزیشن کو ملکی مفاد میں اکٹھا ہونا چاہیے اور معاملات کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بزرگ سیاسی رہنما کا یہ بیان، جس میں نئی پہل کی تجویز او رماضی سے سبق سیکھنے کی مشاورت شامل ہے، سیاسی حلقوں کے لیے نئے سال کی قرارداد ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو ترقی کی جانب گامزن کرنے کے لیے حکومت کو جس قسم کے ماحول کی ضرورت ہے، قومی یکجہتی اور ہم آہنگی اس کی بنیادی شرط ہے۔ سیاسی توپوں کی گولہ باری رکے گی تو حکومت ان عوامی مسائل کا جائزہ لے سکے گی جو گزشتہ برس عوام کے لیے بے پناہ اذیتوں کا سبب بنے رہے۔ کورونا کی وبا سے بے شک کاروبارِ زندگی متاثر ہوا مگر عوام کے لیے بے قابو مہنگائی بھی کم اذیت ناک نہ تھی۔ مہنگائی کے پچھلی ایک، ڈیڑھ دہائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور آٹے، گندم،چینی وغیرہ کے جو بحران پیدا ہوئے وہ سونے پر سہاگہ۔ اشیائے خور ونوش کی قیمتوں کے حوالے سے 2021ئ کس طرح مختلف ثابت ہوسکتا ہے، یہ حکومتی کارکردگی کا بڑا امتحان ہے۔ گزشتہ برس بہت سے معاشی مسائل کا ذمہ عالمگیر وبا کورونا پر ڈالا جاسکتا تھا، مگر رواں برس اس سلسلے میں عملی طور پر بہت کچھ کرنا پڑے گا اور برآمدات میں اضافے کا جو سلسلہ 2020ئ کے دوران شروع ہوا، اسے جاری رکھنے او ربڑھانے کی ضرورت ہوگی۔ بعض برآمدی شعبوں کی جانب حکومت کی نظرِ کرم کے درست نتائج کا سامنے آنا او رکئی سال سے بند صنعتوں میں حرکت پیدا ہونا قومی معیشت کے لیے بڑی کامیابی ہے۔ ٹیکسٹائل کا شعبہ، جو ہمارے لیے برآمدی صنعتوں کا سرخیل ہے، حالیہ کئی سال کا بہترین دور دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ کوشش کی جانی چاہیے کہ یہ خوش آئند رجحان برقرار رہے اور پھلے پھولے۔ حکومت کو پاکستانی برآمدی صنعت کو اس قابل بنانا ہے کہ عالمی منڈی میں یہ اپنے حریفوں کا سامنا کرنے کے قابل ہوسکے۔ ماضی میں پاکستانی مصنوعات کی پیداواری لاگت برآمدات میں بڑی رکاوٹ بنی رہی ہے، اگرچہ موجودہ حکومت کی جانب سے صنعتی شعبوں کو کچھ ایسی رعایتیں اور سہولتیں دی گئی ہیں جن سے لاگت میں کمی آئے، جیسا کہ توانائی کی قیمتوں میں رعایت اور ٹیکسوں کی سہولیات۔ چونکہ ان اقدامات کے درست نتائج برآمد ہوئے اس لیے آنے والے وقت میں ان درست فیصلوں کو زیادہ اعتماد کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا۔ اس تناظر میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تعمیراتی شعبے کے لیے فکس ٹیکس رجیم میں 31دسمبر 2021ئ تک جبکہ منصوبوں کے اختتام کی مدت میں 30 ستمبر 2023ئ تک توسیع کی گئی ہے۔ تعمیراتی شعبے کے لیے فکسڈ ٹیکس، گھروں کی تعمیر کے لیے سستے اور باسہولت قرضے، نئے تعمیراتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور حکومتی سطح پر تعمیراتی معاملات میں دور اندیشی اور منصوبہ بندی ترقی کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ صنعتوں اور دیگر شعبوں کے لیے بھی پہلے سے جاری سہولیات میں توسیع کی جانی چاہیے۔ مراعاتی پیکیج صنعتی ترقی کا بیج ثابت ہوسکتے ہیں، مگر اس بیج کی مناسب نگہداشت اور نشوونما کے لیے معتدل ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ گزشتہ برس کے دوران صنعتوں کے لیے جو اقدامات کیے گئے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں حساس واقع ہوئی ہے اور اپنے منصوبوں کو ٹھوس بنیادوں پر کھڑا کرنا اور آگے بڑھانا چاہتی ہے، مگر اس سلسلے میں ابھی مزید درست اور بروقت فیصلے ضروری ہیں اور معاشی بہتری کا جو عمل شروع کیا گیا ہے، اسے مستحکم صورت دینے کے لیے رواں سال بہت اہم ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.