Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

تبدیلی کیوں ناگزیر؟(حصہ اول) 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

راحت ملک

جولائی2018ءکے ”انتخابات“ کے نتائج سے قائم ہونے والی حکومت کے متعلق عمومی سیاسی تاثر یہی تھا کہ اسے عوامی رائے کے برعکس مسلط کیاگیا ہے ہے۔خود پی ٹی آئی نے بھی دھیمی آواز سے سہی انتخابی دھاندلی کا شور مچایا تھا جبکہ جمعیت علماءاسلام کی قیادت روز اول سے ہی حالیہ اسمبلیوں کو دھاندلی کی پیداوار قرار دے کر مسترد کررہی تھی۔مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے جمعیت کے نقطہ نظر کی مخالفت کئے بغیر اسے قبول نہیں کیا تھا بلکہ جناب فضل الرحمن کو جارحانہ رویے میں قدر ے نرمی لانے میں کامیابی حاصل کی۔یہی وجہ ہے کہ جے یو آئی کے اراکین اسمبلی نے اپنے تحفظات کے ساتھ اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھایا اور جناب مولانا فضل الرحمن اپوزیشن کے صدارتی امیدوار بننے پر بھی رضا مند ہوئے۔مسلم لیگ نواز کے پاس پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے پرامید امکان موجود تھا مگر لیگ نے پنجاب میں اپنی حکومت کی تشکیل کو وفاق میں آزادانہ طور پر حکومت سازی کا موقع مہیا کرنے سے مشروط کیا جس کا عملی طور پر نتیجہ وہی نکلا جس کی پیش گوئی کی گئی تھی نون لیگ پنجاب میں اسی صورت حکومت بنانے پر آمادہ تھی جب وفاقی حکومت بنانے میں اس کی نادیدہ مخالفت نہ ہو نیز اقتدار اختیارات سمت منتقل ہو شراکت اقتدار اب مسلم لیگ کے قابل قبول نہیں رھا تھا وہ مکمل انتقال ٍ اقتدار ( اختیارات سمیت ) چاھتی تھی۔ اور دوسری صورت میں نواز لیگ کی نپلی تلی رائے تھی کہ پی ٹی آئی کو حکومت سازی کا موقع دیا جائے تو وہ عوام کے ساتھ اپنے وعدوں پر پیرائی میں ناکام ہوگی یوں اس کی عوامی ساکھ اور لوگوں میں پائی جانے والی خوش فہم وابستگی ختم ہوجائے گی لیگ اپنے عمیق حکومتی تجربے سے یہ نتیجہ اخذ کر چکی تھی کہ عمران خان ناکام حکمران ثابت ہونگے

کم وبیش یہی رائے اس عاجز کی بھی تھی جس کا اظہار نومبر2012ءمیں ہی اپنے مطبوعہ مضمون”تیسری انقلابی لہر کے مابعد“ میں واشگاف طور پر کیا تھا۔میرے استد لال کی بنیاد پی ٹی آئی کے سیاسی نعروں میں موجود سطحی جوشی تو ھے لیکن نظری اور فکری انخلاءانتہائی بلند سطح کو چھو رھا ہے۔ انہوں نے انقلاب کو ” سونامی “کہا جو قطعی طور پر منفی اور تباہ کن عمل کا مظہر تھا۔تبدیلی کی بات اگر چہ متوجہ کررہی تھی مگر اس میں مستقبل کی نئی حکومت اس کی پالیسیوں کے خدوخال اور نئے پاکستان کا کوئی سیاسی معاشی نقشہ یا متبادل پروگرام موجود نہیں تھا۔دوسری طرف ملک کے آئینی پارلیمانی ڈھانچے کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچاتھا کہ اگر(2013)کے انتخابات میں پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں مکمل برتری بھی حاصل کرلے تو سینٹ میں اس کی عدم موجودگی اسکے تمام عزائم یا پروگرام (اگر کوئی ہے) مزاحم ثابت ہوگی۔آئینی وقانونی اصلاحات کے بغیر پی ٹی آئی اپنے مہم جوہانہ نعروں پر کسی صورت عمل نہیں کرپائے گی۔یہ دلیل2012 کو دی گئی تھی۔2018 میں بھی سینٹ کی صورتحال پی ٹی آئی کے حق میں نہ تھی مگر اس کی قیادت اس اہم خلائ کا ادراک کرنے سے صاف قاصر تھی چنانچہ مجھے اس کی سیاسی بلوغت پر شک کرنے کے لئے مباسب گنجاش ملی تو اس کے سیاسی ابھار میں اضافہ کی وجوہات بھی قابل فہم ہوتی گئیں۔سیاسی موسمی پرندوں کا پی ٹی آئی کی چھتری پر اترنا اس بات کا واضح ثبوت تھا اسے نادیدہ قوتوں کی در پردہ حمایت حاصل ہے اور موسمی سیاسی پرندے اس اشارے یا ادراک پر اس کا رخ کررہے ہیں یہ صورتحال پی ٹی آئی کے انقلابی طرز کے مہم جویانہ غیر حقیقی نعروں کا راز افشا کررہی تھی اور بطور حکمران جماعت اس کی کارکردگی کے متعلق قبل از وقت منفی تاثر پیدا کررہی تھی یہ تو واضح تھا کہ یہ جماعت غیر سیاسی غیر نظری اکٹھ ہے اور چند مخصوص اھداف کے لیے ابھارا جارھا جن میں پارلیمانی جمہوریت اور سیاسی قیادت کی بے توقیری اولین حثیت رکھتے ہیں۔ سیاسی نااہلی کے بارے یقین تو تھا لیکن انتظامی طور پر بھی عمران خان اور ان کی ساری جماعت صفر جمع صفر ثابت ہوگی میرے گمان میں نہیں تھا کیونکہ بیرونی ممالک میں موجود مختلف شعبہ ہائے زندگی کے دو سو ماہرین پر مشتمل شیڈوکیبنٹ کی مکمل تیاری کے جھانسے۔ایسے واھمے تھے کہ جو کپتان کی کامیابی کی آثار ہویدا کرتے تھے امکان ابھرتا تھا کہ شاید عمران بہترمنتظم ہونے کے ساتھ بنیادی معاشی تبدیلی لانے بغیر محض لبرل معاشی جمہوریت کے مغربی معاشی ذرائع سے پاکستان میں معاشی سرگرمی اور اقتصادی نموپذیری کے لیے اقدامات کرے گا اد عمل میں اسے طاقتور حلقے کے حاشیے میں نیز سرکاری معاونت سے پنپنے والے پیوستہ معاشی مفادات کی جانب سے مکمل تعاون بھی میسر ہوگا کیونکہ مذکورہ معاشی سرکل ملک میں ابھرتے ہوئے مقامی یا قومی بورڑوا۔(سرمایہ کار) کی مسابقت سے عاجز ہے یہ قیاد ایک متبادل کامیاب حکومتی کارکردگی کا واہمہ پیدا کررہی تھی اس پرمستزادجناب سہیل وڑائچ جیسے منجھے ہوئے صحافی کے دو کالم کہ جن میں عمران خان کے بر سراقتدار آتے ہی ملک میں دودھ کی نہریں بہہ نکلنے کا پراز یقین تاثر ابھارا گیا تھا عام آدمی سمیت بہت سے حلقوں میں پی ٹی آئی کے لئے خیر خواہانہ رجحانات پروان چڑھانے کا باعث بنے تھے۔راقم نے انہی کالموں کے جواب میں اگلے روز بیرونی ممالک سے آنے والے ماہرین اور منتخب شدہ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی میں تصادم اور مفاداتی ٹکراﺅ کی بنیاد پر آنے والی عمرانی حکومت کی ناکامی پر مبنی استد لال پیش کردیا تھا یہ الگ بات ہے کہ وہ دو سو ماہرین آئے نہ ملکی نظام میں بہتری کے لئے بقول جناب سہیل وڑائچ مکمل ہوچکا ہوم ورک دکھائی دیا ہے البتہ نااہلی اور اٹکل پچو اقدامات کی پھیلائی معاشی تباھی ہر شعبے میں نمایاں نظر آرہی ہے

جناب عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد ملک میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی قومی اضطراب اور اختلافات کو حل کرنے کی بجائے اپنی ساری توانائی سیاسی حریفوں کو رگیدنے پر صرف کی جو ان کو دیا گیا مشروط ہدف تھا چنانچہ وہ عوام واقوام کے ریاست کے ساتھ کمزور پڑتے بندھن کی از سر نو تعمیر کرنے کی بجائے اس خلیج میں جارحانہ بیانات اور انتقامی سیاست کے ذریعے گہرائی و فاصلہ بڑھاتے چلے گئے۔بیورو کرسی کے ساتھ لڑائی اور نیب کے اقدامات نے انتظامیہ کے اس اہم ستون کو مضطرب کیا اور پھر غیر فعال کردیا۔پنجاب میں چیف سیکرٹریز اور آئی جیز پولیس کی بار بار تبدیلیاں افسران میں بددلی پیدا کرتی رہیں مگر عمران خان ملک کے بڑے صوبے کی صوبائی خود مختاری روندتے ہوئے اسے وفاق کے ذریعے چلانے پر ہنوز، کار بند و آمادہ ہیں کل تک وہ اپنی جماعت کے وزراءکو جناب فیاض حسن چوھان کی طرح اپوزیشن کے خلاف جارحانہ پن اپنانے کی تلقین کررہے تھے مگر آج فیاض چوہان سے پنجاب کی وزرات اطلاعات واپس، لے لی گئی ہے اور سسابقہ وفاقی مشیر اطلاعات محترمہ فردوس اعوان کو وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی مع انچارج محکمہ اطلاعات پنجاب بنا دیا گیا ہے اسے بہتر تبدیلی کہا جایے یا مزید انحطاط؟خیر اب موجودہ صورتحال میں وہ سیاسی اختلاف رائے میں خلیج کو وسعت دینے اور مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کے آمرانہ طرز حکمرانی پر چل نکلے ہیں جس میڈیا کے کندھوں پہ سوار ہوکر ایوان اقتدار تک پہنچنے میں سہولت پائی اسی میڈیا کا گلہ گھونٹنے پرکمربستہ ہیں۔ صوبوں میں بڑھتی بے چینی کے سدباب کی ایک مگر ناکام کوشش یعنی بی این پی کے ساتھ اشتراک وتعاون کے چھ نکاتی معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونا ہے لہٰذا جناب اختر جان مینگل نے معاہدے کی مدت گزرنے پر حکومتی اتحاد سے علیحدگی میں ہی اپنی سیاسی عافیت جانی یہ بدترین سیاسی ناکامی تھی جسکے محض حکومتی سطح پر نہیں بلکہ وفاقیت پر برے اثرات پڑیں گے۔ (جاری ہے)

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.