Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پھانسی کے پھندے سے بیانیے تک

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

اویس توحید

 

 

”غدار وطن“،”غدار وطن“۔ ”میر جعفر“ اور ”میر صادق“ کے القابات سے نوازا جا رہا ہے۔ بینرز اور پوسٹرز سے کچھ فاصلے پر وہ چوراہا ہے، جسے تاریخ اور جنگ آزادی کے ہیروز کی قدر کرنے والے باسی اس چوک کا نام بھگت سنگھ رکھنا چاہتے تھے لیکن قدامت پسندوں نے ایسے نہ ہونا دیا۔تھوڑی ہی دور کیمپ جیل ہے، جہاں بھگت سنگھ کو برطانوی راج نے غدار قرار دیا، پھانسی پر لٹکایا۔ لیکن لوک کہانیوں میں آزادی کے ہیرو اور تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔بھگت سنگھ کی شخصیت کے ذکر سے ایاز صادق یا کسی موجودہ سیاسی کردار کے ساتھ مماثلت یا موازنہ مقصود نہیں بلکہ صدیوں کے غداری کے سفر کو ماضی کے حالات و واقعات سے پرونا ہے۔ عمران خان کے ساتھ وقت ایچی سن میں گزارا، یہیں ان کے ساتھ دوستی ہوئی۔ اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز تحریک انصاف کی سیاست سے کیا۔ اختلافات کے باعث عمران خان کی سیاست کو ترک کیا۔ میاں نواز شریف کی سیاست کو گلے لگایا اور لاہور میں ن لیگ کے ٹکٹ پر انتخابات جیتتے رہے۔ گزشتہ دور میں قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے۔اب نواز شریف کافی عرصے سے سویلین بالادستی کے نعرے لگاتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی حدودو قیود کا تعین چاہتے ہیں، للکارتے ہیں۔ان دنوں ان کی شناخت ملک کے تین مرتبہ منتخب وزیر اعظم کے بجائے ”مودی کے یار“ اور”غدار“ کے طور پر ہو رہی ہے۔بغاوت کا مقدمہ درج ہے۔ تاریخ جہاں حالت و واقعات رقم کرتی ہے، وہاں تضادات بھی لکھے جاتے ہیں۔کیا ایاز صادق کو کبھی گمان ہو سکتا تھا کہ وہی اشرافیہ، جس کا وہ حصہ رہے ہیں، ان ہی کو ہدف بنا سکتی ہے۔ایاز صادق کا بیان ”غیر ذمہ دارانہ“ تو قرار دیا جا سکتا ہے۔ بطور پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر نیشنل سکیورٹی معاملات پر ان کیمرہ بریفنگ کی اخلاقیات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ مضمرات کا بھی اندازہ ہو گا۔ابھی نندن کی رہائی بابت لفظوں کا چناو¿ یعنی ”وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ماتھے پر پسینہ آنا، ٹانگوں کا کا نپنا“ غلط ہو سکتا ہے۔ لیکن غداری کے زمرے میں لانا، چوراہوں پر، ٹی وی اسکرینز کے جمعہ بازار میں غداری اور محب وطن کے سرٹیفیکیٹس کے اسٹال سجانا کس کو سج سکتا ہے۔

میرے بچپن کے قصہ کہانیوں میں آباو اجداد کی کہانی۔ روایت یوں ہے کہ میرے والد کے پردادا محمد فاروق، جنہیں خاندان والے ”بڑے ابو“ اور اتر پردیش کے ان کے آبائی قصبے کے لوگ ”بڑے صاحب“ کے نام سے پکارتے تھے۔انگریزوں سے متاثر، رہن سہن پر وہی ولایتی چھاپ، اچھے عہدے پر فائز لیکن اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے دنوں میں تن من سے مجاہدین کے قافلہ میں شامل ہو گئے اور لڑتے ہوئے مارے گئے۔انگریزوں نے ”دیسیوں“ کی عبرت کے لیے دوسرے مجاہدین کے ساتھ پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا۔تاہم 1947 تک خاندان کی پاکستان ہجرت تک آس پاس کے قصبوں میں ان کی قربانی کو یاد رکھا گیا۔خود میری بیوی نازش بروہی، جو پاکستان کے معروف قانون دان اے کے بروہی کی بھتیجی ہیں، ان کے تایا اور سندھ کے مشہور دانشور علی احمد بروہی کو برطانوی راج کے خلاف بحریہ کی بغاوت کی سازش کے الزام میں کالے پانی کی سزا ہوئی۔غرض یہ کہ برصغیر کی تقسیم سے قبل برطانوی راج کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں شامل قافلے کے مجاہدین ہوں یا تقسیم اور پاکستان کی تشکیل کے بعد دہائیوں پر محیط ہچکولے کھاتے ہوئے جمہوری سفر کے سیاسی کردار، غداری اور وفاداری تاریخ سے جڑی ہے۔غالباً برطانوی تاج میں فائز بیوروکریسی نے، جب نئے ملک کے نظام کو سنبھالا تو انہیں غداری اور وفاداری کے سیاسی ہتھیار ورثے میں حکمرانی کے ٹول باکس میں ملے، جن کا آنے والے وقتوں میں سیاسی حکومتوں اور بالخصوص آمرانہ ادوار میں خطرناک استعمال کیا گیا۔قائد اعظم کی وفات کے بعد لیاقت علی خان کا دور، بنگال میں گہرا اثرو رسوخ رکھنے والے مسلم لیگ کے اہم رہنما حسین شہید سہروردی کو غدار کہا گیا جو کچھ عرصے بعد ملک کے وزیر اعظم بھی بنے۔

پاکستان بننے کے کچھ عرصے بعد ہی ملک کی خارجہ پالیسی کا جھکاو¿ امریکا کی طرف رہا اور ملک کے کمیونسٹ اور بائیں بازو کی جماعتیں عتاب کا شکار رہیں۔ کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائدکر دی گئی۔ کمیونسٹوں کو غدار گردانا گیا۔ ان دنوں رہنماو¿ں کے گھروں کی دیواروں پر اکثر انڈیا اور روس کے ایجنٹ اور غدار کے نعرے لکھے جاتے تھے۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں نے بھی مختلف ادوار میں اس بیانیے کو ایک دوسرے کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا۔نواز شریف نے بینظیر بھٹو پر سکیورٹی رسک کا الزام لگایا کہ انہوں نے اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو سکھ علیحدگی پرست تحریک خالصتان کے رہنماو¿ں کی فہرست دی تھی۔بلاول نے کچھ برس قبل جلسوں میں نواز شریف کو ”مودی کا یار“ قرار دیا۔سیاسی رہنماو¿ں کی یہ روش سراسر غلط ہے۔ ادھر ریاستی اداروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ قوم پرست یا سیاسی نعروں اور تنقید سے ریاست کمزور نہیں ہوتی۔مائنڈ سیٹ ٹائم زون میں منجمد ہو سکتا ہے لیکن گھڑی کی سویاں وقت کو بدل رہی ہیں۔ ماضی، حال اور پھر مستقبل

ان دنوں قومی سیاسی دھارے میں غداری کا بیانیہ سرایت کرتا جا رہا ہے۔ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے رہنما اس مہم جوئی کے خطرناک آگ کے گولے کو اپنی الزام تراشیوں سے ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں ہوں یا اسٹیبلشمنٹ غداری اور محب وطن کے سرٹیفیکیٹس کی تقسیم سے عارضی فوائد تو حاصل ہو سکتے ہوں گے لیکن اس کے مضمرات گہرے اور خطرناک ہیں۔ ریاستی کینوس داغدار ہی ہوتا ہے۔ سیاسی اور سکیورٹی معاملات ایک دوسرے میں الجھتے چلے جاتے ہیں۔

شیخ رشید جنہیں سیاسی جوتشی اور مقتدر حلقوں کا سیاسی ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ ان دنوں جب نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے نظر آتے ہیں، ان کے بیانات کا موسم ہے۔بقول ان کے اگر کوئی سیاسی جماعت ریاست سے لڑائی کرنے کا سوچے گی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.