Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

موجودہ حکومت یا پھر آنے والی حکومتوں کو تنخواہیں دینے کیلئے قرض لینا ہوگا، وزیراعلیٰ بلوچستان 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

کوئٹہ(آن لائن)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ نہ میری ضد ہے نہ ہی انا 20ارب روپے میں 25ہزار نئی آسامیاں تخلیق کی جاسکتی ہے ،مڈل کلاس طبقہ جنہیں نہ تو پنشن ،صحت ،ہاﺅس الاﺅنسز سرکاری گھر ،گاڑی سمیت کوئی بھی سہولت میسر نہیں ، 25فیصد کچھ بھی نہیں میرے بس میں ہوتاتو100فیصد بڑھا دیتالیکن مالی حالات ایسے نہیں ہے اگر صوبے میں ترقی ہوگی تو ریونیو ،تنخواہیں اور آسامیاں بڑھیںگی لیکن اگر ترقی کیلئے پیسے نہ ہوں پھر سب کچھ رک جائے گا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سوال اٹھایاکہ کیا آپ سب متفق ہیں کہ 20ارب روپے میں بے روزگاروں کیلئے کتنے نئے آسامیوں کی تخلیق ہوسکتی ہے کم از کم 25ہزار آسامیاں تخلیق کی جاسکتی ہے اگر ہم تنخواہوں اور الانسز میں اضافہ کرتے رہے تو پھر ہم نئی ملازمتیں دینے یا پیدا کرنے کا اعلان نہیں کر سکیں گے لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں،ایس او پیز سے متعلق انہوں نے کہاکہ میری بھرپور کوشش ہوگی کہ ایس او پیز پرعملدرآمد کیاجائے ،مڈل کلاس سرکاری نہیں بلکہ وہ طبقہ ہے جو پرائیویٹ کمائی کرتاہے ان کے پاس نہ تو پنشن ،نہ صحت نہ ہاﺅس الاﺅنس نہ سرکاری گھر ،گاڑی سمیت کوئی بھی سہولت میسر نہیں ہے ،بلوچستان میں اگر مالی حالات بدتر ہوئے تو اس کا سب سے پہلے اثر سرکاری ملازمین پر پڑے گا اور پھر دوسرے اس کی زد میں آئیںگے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی پوری کمائی 30ارب نہیں ایسے فیصلے ایک جھٹکے میں کرکے 15سے 20ارب روپے بوجھ بڑھے گا ،انہوں نے کہاکہ 25فیصد کچھ بھی نہیں میرے بس میں ہوتاتو100فیصد بڑھا دیتالیکن مالی حالات ایسے نہیں ہے اگر صوبے میں ترقی ہوگی تو ریونیو ،تنخواہیں اور آسامیاں بڑھیںگی لیکن اگر ترقی کیلئے پیسے نہ ہوں پھر سب کچھ رک جائے گا،ہر چھ ماہ بعد تنخواہوں میں اضافے پر اضافہ ہوتارہے گا اور یہ سلسلہ جاری رہا تو موجودہ حکومت یا پھر آنے والی حکومتوں کو تنخواہیں دینے کیلئے قرض لینا ہوگا،بات یہاں صرف تنخواہ نہیں بلکہ پنشن ،الاﺅنسز اوردیگر بھی شامل ہیں نہ میری کوئی ضد ہے اور نہ ہی انا کیا کسی اور صوبے نے ابھی تک تنخواہوں میں اضافہ کیاہے کیا صوبے میں سیکرٹریٹ اسٹاف کیلئے الگ قانون اور دیگر بلوچستان کیلئے الگ قانون ہو کیا یہ صرف 25فیصد اضافے کا معاملہ ہے اور کچھ نہیں ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.