Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ہم اگر عرض کرینگے تو شکایت ہوگی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

تحریر: محمد رمضان اچکزئی

آج کے کالم میں ایک بار پھر حکمرانوں ، پالیسی سازوںاور بجلی کے صارفین کے سامنے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو) کا مقدمہ پیش کیا جارہا ہے ۔ جیسا کہ راقم الحروف نے پیشتر ازیں بھی بجلی سے متعلق بعض کالموں میں مسائل اور فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان کی آزادی کے وقت ملک کے مختلف بڑے شہروں کی طرح کوئٹہ میں بھی کیسکو کے نام سے کمپنی موجود تھی اور اس وقت بجلی ملک کے اشرافیہ اور خاص لوگوں کے دسترس میں تھی ۔ عوام کو گھریلو، زراعت ، تجارت اور صنعت کیلئے کنکشن حاصل کرنے میں کئی سالوں تک انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ لیکن واپڈا ایکٹ1958 کے تحت جب واپڈا کے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس اہم قومی ادارے کے ذریعے اسلام آباد ، ملک کے چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور کشمیر تک بجلی بنانے کیلئے ڈیمز اور پاورہاﺅسز بنائے گئے ۔500KV ، 220KV ،132KV ،66KV کے گرڈ اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا گیا، 11KV نیٹ ورک کے ذریعے پورے ملک کے پہاڑی علاقوں، ریگستانوں، ہموار زمینوں، شہروں، دیہاتوںاور قصبوں تک بجلی پہنچائی گئیں۔ ہائیڈرو پاور ہاﺅسز کے ذریعے بجلی کی پیدوار چند پیسوں میں تھی جبکہ تیل سے چلنے والے پاور ہاﺅسز اور دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوارکے نرخ زیادہ تھے ۔ ملک کے کونے کونے میں بجلی پہنچنے کے بعد صنعتی، تجارتی، زرعی، گھریلو اور دیگر صارفین کو بجلی مہیا ہونے سے صنعتیں، اورفیکٹریاں چلنے لگیں، زراعت اور تجارت نے ترقی کی، گھریلو صارفین کے معیار زندگی میں بہتری آنے کے بعد ملک میں عام لوگوں کی زندگی میں انقلاب آیا ۔ جو لوگ جانوروں اور سائیکلوں پر سفر کرتے تھے وہ مرسڈیز، پجارو اور دوسری بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرنے کے قابل ہو گئے۔ کارخانے ،زراعت اور تجارت کی ترقی سے ملک کے نوجوانوں کو روزگار میسر ہوا چونکہ ہمارے ملک میں خاندان سسٹم ہے اس طرح ایک نوجوان کے روزگار سے چھ افراد پر مشتمل خاندان کو دو وقت کی روٹی، کپڑے، جھونپڑی اور چھوٹے سے مکان میں رہنا نصیب ہوا۔ بالخصوص بلوچستان میں لوگ بڑی تعداد میں جھونپڑیوںاور مالداری سے نکل کر ملک کے بڑے بڑے شہروں میں کاروبار کرنے کے قابل ہوئے اور زراعت کی ترقی سے ان کی آمدن میںاضافہ ہوا۔ جس سے صوبہ بلوچستان کے زرعی صارفین کے معیار زندگی اور ان کا اسٹیٹس بڑھا۔ آج پوری بلوچستان اسمبلی، سینٹ اور قومی اسمبلی کے منتخب نمائندوں پر نظر دوڑائی جائے تو ان میں 80 فیصد سے زیادہ یہی جاگیر دار اور زمیندار منتخب نمائندوں کی حیثیت سے تشریف فرما ہیں اور انہی نمائندگان کی موجودگی میں 1994 سے اس وقت کے حکمرانوں نے واپڈا کو تقسیم درتقسیم کرکے مختلف کمپنیوں میں بانٹ دیا۔ واپڈا کی بجلی کی پیداواری صلاحیت پر آئی ایم ایف اور بین الاقوامی اداروں نے معاشی وار کرتے ہوئے بجلی کو مہنگے داموں آئی پی پیز اور آر پی پیز سے خریدنے کا بندوبست کرنے کی اصلاحاتی تجاویز دے کر ملک کی سلامتی پر حملہ کیا ۔ یہی مالیاتی ادارے اس وقت ملک کی معیشت کو کھوکھلا کرنے کے درپے ہیں۔موجودہ ریاست مدینہ کے علمبردارحکومت کے وزیر اعظم عمران خان اور اس کی پارٹی نے اپنے منشور میں کئے گئے وعدوں کے برعکس آئی ایم ایف اور اس کے بین الاقوامی اداروں کے دروازوں پر سرنگوں ہو کر دستک دے کر آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کرکے پہلے سے لئے گئے قرضوں کی ادائیگی شروع کی۔ آئی ایم ایف نے نئے قرضے ان شرائد پر دیئے ہیں کہ حکومت پاور سیکٹر کی تمام کمپنیوں کی نجکاری کرے ۔ اس وقت واپڈا کے ذریعے سستی بجلی کی پیداوار ختم ہونے کی وجہ سے بجلی 30 روپے فی یونٹ تک مہنگی ہو چکی ہیں اور آنے والے بجٹ میں بجلی مزید 05 سے 06 روپے مہنگی ہو جائے گی۔ سابقہ حکومتوں کی آئی ایم ایف کی ایماءپر آئی پی پیز کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں میں 51 کھرب روپے گھپلے پاور انکوائری کمیٹی کے ذریعے ظاہر ہو چکے ہیں لیکن حکومت نے بجلی کے نرخ کچھ کم کروا کر ان پاور کمپنیوں کے ساتھ معاہدے میں کچھ ریلیف حاصل کیا۔ حکومت نے ان پاور کمپنیوں کے مالکان اور لٹیرے حکمرانوں کو قوم کے سامنے بے نقاب کرنے کی کوئی سعی نہیں کی ہے۔ اس وقت آئی پی پیز بجلی دیئے بغیر60 فیصد کیپسٹی چارجز اور ایکویٹی پر 12 فیصدمنافع صارفین سے وصول کر رہے ہیں ۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ معاہدے حکومت کرے ، لوٹ مار حکومت اور اس کے حواری کرے اورسزا پورے ملک کے عوام ، اداروں میں کام کرنے والے انجینئر ، آفیسر اور مزدور کو ملے جبکہ مزدور سالانہ کام کرتے ہوئے 100 اور 200 کی تعداد میں شہید ہو رہے ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں معذور بھی ہو رہے ہیں۔ ملک میں ایک ایسا نظام ہے جس میں طاقتور جوابدہ نہیں اور مظلوم کو انصاف نہیں مل رہی۔ اسلامی روایات ، قبائلی روایات اور اخلاقی روایات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ملک میں نظام عدل ، نظام حکومت، نظام احتساب، نظام الیکشن اورنظام جمہوریت صرف طاقتور طبقے کے گھر کی لونڈی ہے جبکہ 90 فیصد عام لوگ اور مزدور طبقہ طاقتوروں کے درمیان فٹبال بنا ہوا ہے جس کو ہر طرف سے ٹھوکر ہی لگتی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں کیسکو واحد ڈسٹری بیوشن پاور کمپنی ہے یہ کمپنی سنٹرل پاور پرچیز کمپنی (سی پی پی اے)سے ہر ماہ 08 ارب روپے کی بجلی خریدتی ہے اور اس کی ٹیکنیکل لائنوں پر لائن لاسز 1.5 ارب روپے ہے جبکہ 6.5 ارب روپے بجلی بیچنے کے بعد کیسکو کو بجلی کے بلوں کی مد میں ماہانہ 1.5 ارب کی ادائیگی کی جاتی ہے یعنی ہر ماہ 6 ارب روپے تک کیسکو کے بلوں کی ادائیگی نہیں ہو رہی ہے۔ صوبائی حکومت کے ذمے 24.5 ارب روپے ، وفاقی حکومت کے ذمے 1.3 ارب روپے اور زرعی صارفین کے ذمے 3.28 ارب روپے واجب الادا ہیں ۔ کیسکوکے قانون کے مطابق اگر صارف ایک ماہ بجلی کے بل کی ادائیگی نہ کرے تو اس کی بجلی منقطع کی جاتی ہے لیکن اس وقت کیسکو انتظامیہ صرف ان لوگوں کی بجلی منقطع کرتے ہیں جس پر 100 روپے سے 1000 یا 5000 ہزار تک بل واجب الادا ہو یا صارف کمزور ہو اور جب کیسکو حکومت یا عدالت کی بجلی کاٹتی ہے تو کیسکو کے آفیسر اور عملے کو تھانے میں بند کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا اور اگر کیسکو زمیندار کی بجلی کاٹتی ہے تو زمیندار جو خود صوبے کے حکمران ہیں اور وفاق میں بھی بطور وزیر ، ایم این اے اور سنیٹر موجود ہیں وہ سڑکوں کو بند کرنے کیلئے میدان میں نکل آتے ہیں اور اس طرح زمینداروں کی حکومت زمینداروں سے مذاکرات اپنے چیف سیکریٹری کے ذریعے کر لیتے ہیں اور حکومت کیسکو انتظامیہ کو آنکھیں دکھا کر خوفزدہ کرکے انھیں بجلی کاٹنے سے منع کرتے ہیں۔ یہی صورتحال ہم گزشتہ کئی سالوں اوراب کئی دنوں سے دیکھ رہے ہیں یعنی کیسکو کے 400 ارب روپے حکومت اور زمینداروں پر واجب الادا ہیں لیکن بل نہ دینے کے باوجود وہ بلا تعطل بجلی مانگ رہے ہیں اور دھمکیاں بھی دے رہے ہیں ۔ اب کیسکو انتظامیہ اور مزدوروں کے پاس کوئی چارہ نہیں اس لئے وفاقی وزارت پاور ڈویژن کے سیکریٹری اور اس کے ایڈیشنل سیکریٹری /ایم ڈی بھی دھمکیاں دے کر کیسکو انتظامیہ اور مزدوروں سے کہتی ہے کہ وہ ریکوری حاصل کرے ۔ دوسری طرف حکومت بلوچستان اور زمیندار بجلی کے بل نہیں دیتے اور بجلی فراہم کرنے کیلئے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اگر اپریل کے مہینے میں پورے بلوچستان میں بجلی بند ہو تو کیسکو کے تمام انجینئر، آفیسران اور مزدوروں کو بڑھائی گئی 25 فیصد تنخواہوں کے ساتھ 33 کروڑ روپے ماہانہ نقصان ہوگا اور اگر کیسکو بجلی فراہم کرے تو ایک ماہ میں 06 ارب روپے مزید نقصان ہوگا اور اس طرح اس ادارے کو بد انتظامی کی وجہ سے نجکاری کی طرف یا کچھ عرصے کے بعد حکومت بلوچستان کی جھولی میں ڈال دیا جائے گا اور حکومت بلوچستان سے کہا جائے گا کہ کیسکو کو آپ خود سنبھالیں۔ صوبائی اسمبلی بلوچستان کے قابل احترام اسپیکر صاحب کی رولنگ بھی کیسکو انتظامیہ کو آئی ہے کہ بجلی بند کرنے سے دریغ کیا جائے۔ اب کوئی قانون دان پوچھے کہ کس قانون اور رولز کے تحت صوبائی اسمبلی کا اسپیکر ایک خود مختار کمپنی کو بجلی کا بل ادائیگی کئے بغیر بجلی کی فراہمی کیلئے رولنگ دے سکتا ہے لیکن یہ صوبہ بلوچستان ہے اور اس میں ہر ادارہ ا، شخص وزیراور مشیر سب قانون سے بالا تر ہیں۔ اس لئے صوبائی حکومت کے تمام ادارے ، محکموں کے آفیسران اور ملازمین کی کارکردگی کو دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے کہ تمام اداروں اور محکموں میں چند ایماندار اور مخلص لوگوں کے علاوہ سب نے لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم کیا ہواہے بلکہ اگر ایک ہی مثال کو دیکھا جائے تو پتہ چلے گا ۔ یہ معلوم کیا جائے کہ حب کا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کون لگاتا ہے ، کس طرح لگاتا ہے اور اس سے ماہانہ کس شخصیت کے پاس حاضری دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح سیکریٹریٹ میں آئے روز کے تبادلوں پر جس قسم کے سودے بازیاں ہو رہی ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس صوبے میں لاقانونیت کی انتہا ہے، شفافیت اور میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے۔ صوبے کے نئے چیف سیکریٹری سے امید تھی کہ وہ سابقہ چیف سیکریٹری کے گندے نقوش مٹا دیں گے لیکن حالات جوں کے توں ہےں بلکہ ان کے فیصلوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے ماتحت اداروں کی بجائے کیسکو کو دو کمپنیوں میں تقسیم کرنے کے نقصان دہ عمل کی راہ پر چل نکلے ہیں ۔ ایک کمپنی کی بجائے دوسری کمپنی بنانے سے اخراجات بڑھ جائیں گے ، اعلیٰ آفیسروں کی سطح پر تعیناتیاں دوگنی ہو جائے گی اور اس طرح کے مزید اخراجات سے بجلی کے نرخ میں مزید اضافہ ہو گا۔ ضروری ہے کہ کیسکو کی موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نظر ثانی ہو اور اوپر کی سطح پر بڑھائی گئی انجینئر وں اور آفیسروں کی تعداد کو کم سے کم کرکے صوبوں کے تمام ضلعوں اور تحصیلوں میں بجلی کے خدمت کے دفتر بنائے جائیں تاکہ صارفین کی فیلڈ کی سطح پر خدمات میں اضافہ ہو ۔ کالم میں ان تفصیلات کا ذکر کر کے وفاقی حکومت،صوبائی حکومت اور پالیسی سازوں کی توجہ مبذول کرانا مقصود ہے ۔بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بجلی کی فراہمی ناممکن ہے اور اگر صوبائی حکومت لا اینڈ آرڈر کے فیصلوں کے پیش نظر صوبے میں بجلی فراہم کرانا چاہتی ہے تووہ نادھندہ بجلی صارفین بشمول حکومت اور زمینداروں کے بجلی کے بلوںکی ادا کرےں تاکہ انھیں 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی میں مشکلات نہ ہو۔اس وقت صوبے میں 11KV کے 654 فیڈر ز ہیں۔ ان فیڈروں کو بجلی کی فراہمی بلوں کی ادائیگی کے بغیر ہو رہی ہیں اور اگر بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے تو ممکن نہیں کہ آئندہ صارفین کوبجلی مہیا ہو سکے۔ یعنی واضح ہے کہ صارفین بجلی کے بل ادا کرے اور کیسکو بجلی فراہم کرے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.