Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ہندوستان کا سیکولرازم

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نعیمہ احمد مہجور

ہندوستان کی سیکولر شبیہ متاثر کرنے کا الزام اکثر بھارتیہ جنتا پارٹی پر عائد کیا جاتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے فوراً بعد ان کی پارٹی نے مذہبی منافرت پھیلا کر ایک اچھے بھلے جمہوری اور سیکولر ملک کی عالمی شبیہ مسخ کر دی۔اس کے مقابلے میں اپوزیشن پارٹی کانگریس یا اس سے منسلک رہنماو¿ں نے بھارت کو دنیا کی بڑی جمہوریت کا درجہ دلایا اور آزادی کے بعد آئین تشکیل دیتے وقت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مذہب کی آزادی اور ہر شعبے میں یکساں مواقع فراہم کرنے کے عہد سے دنیا کی پذیرائی بھی حاصل کرتے رہے۔اقلیتوں سے متعلق کئی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کو کبھی پنپنے کا موقع نہیں دیا اور پس پردہ ایسی پالیسیاں اپنائیں کہ جن سے نہ تو ان کو تعلیم یا روزگار کے مواقع ملے اور نہ اپنی قیادت تیار کرنے کی آزادی نصیب ہوئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی یہی سب کچھ دہرا رہی ہے لیکن وہ کانگریس کے مقابلے میں اپنی پالیسی کی کھل کر تشہیر کرتی آرہی ہے۔ گجرات فسادات ہوں یا مظفر نگر کے، دہلی کے فسادات ہوں یا مسلمانوں کو سرعام زدوکوب کرنے کے بڑھتے واقعات ہوں ہندوتوا کے کارکن یہ سب دن دھاڑے کرتے ہیں، سرکاری تحفظ کیساتھ کرتے ہیں اور عدالتوں سے بری بھی ہوتے ہیں۔ جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے ساتھ نہ ہوں تو مسلمانوں سے اس طرح نفرت کا اظہار کرنے کے ہزاروں واقعات نہیں ہوتے۔1980کے دوران بھارتی سیاست میں نئی روش دیکھ کر کانگریس کو احساس ہوگیا کہ آر ایس ایس پر کافی دیر تک عائد پابندی کے باوجود متوسط طبقے کے ہندوو¿ں میں اس کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں بلکہ اس نے بعض اہم مرکزوں پر اپنے کارکنوں کی عسکری تربیت بھی شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے اس کا دائرہ اثر کافی وسیع ہوتا جا رہا تھا۔مورخ بریوس گراہم نے کانگریسیوں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ روایت پسند ہندو ہیں جو ہندو ثقافت، گاوکشی کی مخالفت اور ہندی زبان کو عزیز سمجھتے ہیں مگر وہ ہندو قوم پرستوں سے مختلف ہیں جو مسلمان مخالف ہیں، مسلم دور کو جابر قرار دیتے ہیں، اکثریت کو اہم سمجھتے ہیں جن میں سردار پٹیل سرفہرست رہے ہیں۔ہندوستانی سیکولرازم کو اس وقت دھچکا لگا جب1984 میں اندرا گاندھی کی سکھو محافظوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ہندوں نے سکھوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جن میں کانگریس کے بعض رہنماو¿ں کو موردالزام ٹھہرایا گیا ہے اور ہندوتوا کے کارکنوں نے اندرونی طور پر اس کا ساتھ دیا تھا۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار تک پہنچنے کیلئے سخت گیر مو¿قف کو بالائے طاق رکھ کر سماجی تحریک چلانے کی پالیسی اپنائی جس کا مقصد بقول پارٹی کے اکثریتی آبادی کی بہبود اور ان کے حقوق کی پاسداری ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ سیکولرازم کی آڑ میں ہندوں کا کافی استحصال کیا گیا ہے البتہ اعتدال پسندی کا سیاسی لبادہ اوڑھ کر سن نوے میں سیکولر پارٹیوں کیساتھ اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی۔اٹل بہاری واجپائی کو بظاہر اعتدال پسند ہندو رہنما تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن وہ آزاد بھارت کے پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے ہندو قوم پرستی کا پہلا پیغام دیا جب ایک بھاری مجمعے سے تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہندوں کو ملک کے اہم اداروں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی جمہوریت کی دوبارہ تشریح کرنی پڑیگی۔سکھوں کیخلاف تشدد کے بارے میں یہ انکشافات بھی ہوئے کہ آر ایس ایس کے کارکنوں نے نہ صرف جم کر کانگریس کا ساتھ دیا تھا بلکہ اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں راجیو گاندھی کو شاندار کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔پہلی بار آر ایس ایس کے سربراہ نے کھل کر اعلان کیا تھا کہ کانگریس ملک کی سالمیت کے لیے انتہائی اہم پارٹی ہے جو بظاہر کانگریس کو ہندوتوا پالیسی کی جانب مبذول کرانے کی ایک پہل تصور کی جاتی ہے۔مسلمان رہنما اسد الدین اویسی نے کئی بار کہا کہ مودی کے جے شری رام کہنے پر اعتراض کیوں نہیں ہوتا جبکہ میرے اللہ اکبر کہنے پر واویلا ہوتا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں مغربی بنگال میں انتخابی ریلی سے ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے راہول گاندھی، اروند کیجریوال یا ممتا بینرجی اب کبھی چندی پاٹھ یا ہنومان چالیسا پڑھتے ہیں یا مندر میں جا کر بھجن کیرتن کرتے ہیں تاکہ مودی کا مقابلہ کرسکیں اور ہندوں کو اس بات کا یقین دلائیں کہ وہ بھی ہندو مذہب کو ماننے والے ہیں لیکن اگر میں سورہ فاتح پڑھنا چاہتا ہوں تو مجھ پر ملک دشمن کا لیبل چسپاں کیا جاتاہے۔گوکہ اب سیکولر جماعتیں بھی انتخابی ریلیوں میں کھل کر ہندوں کی علامتیں یا نشانات کو استعمال کرنے لگی ہیں مگر ہندوو¿ں کی اکثریت جتنا مودی پر یقین کرتے ہیں اتنا شاید ہنومان کو بھی نہیں مانتے اور اس سے بڑھ کر یہ المیہ کہ دنیا ہندوتوا کی پالیسیوں کے باوجود بھارت کو پھر بھی سیکولر ملک سمجھتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.