Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

72سالوں سے اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے والوں سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عبدالمالک

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان میں 72سالوں سے اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے والوں سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے،پی ڈی ایم ٹوٹانہیں ہے البتہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے موجود ہیں،بلوچستان کی پسماندگی اور غربت کے خاتمے کیلئے معاشی طورپرانسانی ریسورسز بڑھانے کی ضرورت ہے،موجودہ حکومت کے دور میں تعلیم کا بجٹ کم جبکہ صحت کی حالت یہ ہے کہ عالمی وباء میں ڈسٹرکٹ اور ریجنل سطح پر بنیادی ضروریات میسر نہیں تھیں،ناراض بلوچوں سے جاری مذاکرات کا سلسلہ روک گیاہے،سیاسی کارکن کی حیثیت سے تبدیلی کاقائل ہوں 2018ء کے الیکشن میں حصہ نہ لینے کامقصد نئی قیادت کو موقع دیناتھا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ پی ڈی ایم نہیں ٹوٹاالبتہ اختلاف رائے موجود ہیں یہ تحریک جن مقاصد کیلئے بنایاگیاہے وہ اب تک حاصل نہیں ہوئے ہیں ہماری کوشش ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درمیان پائی جانے والی اختلاف رائے کو سیاسی انداز میں تحریک کے پلیٹ فارم سے حل کیاجائے جہاں تک یہ کوشش ہوسکے ہم کرینگے انہوں نے کہاکہ تحریک کے مقاصد کے حصول تک سفر جاری رکھیں گے،بلوچستان ایمپلائزاینڈ ورکرز گرینڈ الائنس میں شامل مختلف محکموں کے ملازمین کے جائز مطالبات فوری حل ہونے چاہئیں گزشتہ 3سالوں میں ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھی جبکہ تین سالوں میں مہنگائی میں اضافہ ہواہے ملازمین کے ساتھ مذاکرات اب تک جو ناکام ہوئے ہیں اس سلسلے میں حکومت سے اپیل ہے کہ وہ مذاکرات کوسنجیدہ لیں انہوں نے کہاکہ بحیثیت وزیراعلیٰ اپنے دور وزارت اعلیٰ میں لاء اینڈآرڈر کامسئلہ گھمبیر تھا جس کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے،بلوچ میلٹنٹس سب سے بڑا مسئلہ تھا جن سے مذاکرات کئے محکمہ تعلیم کیلئے فنڈز 4فیصد سے بڑھا کر 24فیصد کردیاتین میڈیکل کالجز اور6یونیورسٹیاں بنائیں،ہیلتھ اور ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کو امپرو کیا،ڈھائی سال میں کچھ نہیں ہوسکتا تھا ایک سال میں ہم نے مشکلات کاسامنا کیا کبھی کابینہ نہیں بن رہا تو کبھی اسمبلی کااجلاس نہیں ہورہا یہ مشکلات تھیں لیکن دن رات کام کرکے ہم نے ڈھائی سال بہت کچھ کیابلوچ مسلح تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کاجو سلسلہ شروع کیاتھا وہ رک گیاہے جبکہ محکمہ تعلیم کیلئے جو اقدامات کئے وہ اپنے پرانے حال پرا ٓگئے ہیں صحت کے شعبے کا یہ عالم ہے کہ ڈسٹرکٹ اور ریجنل ہیڈکوارٹرز میں عالمی وباء ک ے دوران بنیادی ضروریات بھی مہیانہیں کئے جاسکے ہیں نفسا نفسی کا عمل ہے،حکمرانوں کا خیال ہے کہ ہمیں تو عوام نے منتخب نہیں کیا جن لوگوں نے منتخب کیاہے ہم ان کے خوش آمد کرینگے انہوں نے کہاکہ جب سے پاکستان بنا ہے پسماندگی ہمارے ساتھ ہے اس کے خاتمے کیلئے معاشی پہلو کے تحت ایگریکلچر،لائیواسٹاک،مائنز،فشریز سمیت ریسورسز کو فروغ دیناہوگا، دنیا کی اکانومی انسانی ہنرہے ہمیں انسانوں کو ہنربند بنانے اور انہیں تربیت دینے کی ضرورت ہے ان چیزوں کے ذریعے بلوچستان میں پسماندگی،غربت،جہالت کا خاتمہ کیاجاسکتاہے لیکن یہ باتوں کی حد تک نہیں ہونی چاہئیں انہوں نے کہاکہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں اور تبدیلی کا قائل ہوں اور کوشش ہے کہ نئے خون آئے 2018ء کے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا مقصد نئے لوگوں کو آگے لانا تھا عوام سے اپیل ہے کہ وہ ایماندار اور حقیقی لوگوں کو ووٹ دیں 72سالوں سے بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی طاقت سے اقتدار میں رہنے والوں سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے اور عام سیاسی کارکن جو عوام غریب،کسان استاد کا درد رکھتاہوں بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتاہے،انہوں نے کہاکہ بلوچ پشتون رشتہ صدیوں سے چلا آرہاہے ہم اپنی تاریخ سے واقف ہیں،نیشنل پارٹی اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کی حتی امکان کوشش ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرینگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.