Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

صدر ٹرمپ نے پاکستان کا ذکر کب کب اور کہاں کہاں کیا؟(حصہ اول)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ثقلین امام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں نو ایسی ٹویٹس پوسٹ کی ہیں جن میں پاکستان کا ذکر ہے، اور ان میں سے ایک ایسی ہے جو پوسٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کردی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے پچاس بار مختلف موقعوں پر پاکستان کا ذکر کیا ہے۔’فیکٹ بیس’ ویب سائٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں سب سے پہلا بیان اکتوبر سنہ 1999 میں جاری ہوا تھا جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کے حوالے سے پاکستان کا نام لیا تھا۔ اس کے بعد اسی برس نومبر میں انھوں نے شمالی کوریا، چین اور انڈیا کے ساتھ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا ذکر کیا۔تاہم اپنے دورہ صدارت سے قبل کے عرصے میں بھی انھوں نے پاکستان کے بارے میں کئی مرتبہ ٹویٹس پوسٹ کیں جن میں سب سے پہلی ٹویٹ انھوں نے سنہ 2011 میں پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ‘سیدھے ہو جاو¿: پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے۔’ان کی آخری ٹویٹ جس میں پاکستان کا ذکر تھا وہ انھوں نے اِس برس 22 جنوری کو پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے ڈیموکریٹ پارٹی پر یوکرین اور پاکستان کے علاوہ کئی ملکوں کی امریکی امداد بد عنوانی کی نیت سے روکنے کا الزام عائد کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں اپنا آخری بیان پاکستان وزیرِ اعظم عمران خان سے کورونا وائرس میں امریکی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور انہوں نے وینٹیلیٹرز دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے ایسا کوئی موقع نہیں بنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کا ذکر کیا ہو۔
ری پبلکن پارٹی کے امیدوار بننے سے پہلے انھوں نے سنہ 2011 اور سنہ 2012 میں دونوں مرتبہ یہی کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کا دوست نہیں ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے کہا کہ ‘ہمیں اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کے لیے ہم نے سیل بھیجے’ اور دوسری ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ‘امریکہ نے پاکستان کو اربوں ڈالرز دیے، انھوں نے کچھ نہیں کیا۔’اس سے پہلے مسٹر ٹرمپ نے سنہ 2012 میں جولائی میں ایک اور ٹویٹ پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے سوال کیا تھا کہ ‘اسامہ بن لادن کو 6 برس تک محفوظ پناہ گاہ دینے پر پاکستان ہم سے معافی کب مانگے گا۔’ اس کے بعد جون سنہ 2014 ہیں میں انھوں نے امریکہ کی عراق، افغانستان اور پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے تھے۔اس کے بعد جولائی سنہ 2014 میں مسٹر ٹرمپ نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ایران، شمالی کوریا اور پاکستان کی جوہری صلاحیتوں پر استفسار کیا تھا: ‘ کیا آپ کو معلوم ہے کہ شمالی کوریا، ایران اور پاکستان کے پاس ممالک جوہری ہتھیار موجود ہیں؟’سنہ 2016 میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے انھوں نے پاکستان کا ذکر کیلیفورنیا کے ایک شہر سینٹ برنارڈینو میں ایک پاکستانی نڑاد جوڑے کے مقامی شہریوں پر دہشت گردی کے حملے کا بعد کیا تھا۔ دسمبر سنہ 2015 میں یہ حملہ ہوا تھا جس میں 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔مارچ سنہ 2016 نے پاکستان میں مسیحی عورتوں اور بچوں پر دہشت گردی کے حملے کا ذکر کیا تھا جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 400 افراد زخمی ہوئے تھے۔ انھوں نے اسی ٹویٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ‘صرف میں (اسے مسئلے کو) حل کر سکتا ہوں۔’
صدر ٹرمپ کی تقریروں میں پاکستان کا ذکر جون سنہ 2016 میں پھر سے بڑھا جب سینٹ برنارڈینو کے دہشت گردی کے حملے کا انہیں اپنی انتخابی مہم میں فائدہ نظر آنے لگا۔ اس حملے میں ایک پاکستانی نڑاد جوڑا عام امریکیوں کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ ‘ان میں امیگرنٹ کا بیٹا تھا جو اپنی بیوی کو بھی لے آیا تھا۔’ اس میں پاکستان کا ذکر بھی آیا۔اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کا ذکر غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے حوالے سے کیا۔ غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے سلسلے میں ٹرمپ نے قندیل بلوچ کے قتل کا ذکر اس کا نام لیے بغیر کیا تھا:’حال ہیں میں سوشل میڈیا کی ایک سٹار کو اس کے بھائی نے گلا دبا کر ہلاک کردیا۔’اگست سنہ 2016 کے کئی بیانات میں انھوں نے پاکستان کا ذکر کیا۔ یہ سلسلہ ستمبر میں بھی جاری رہا۔ ‘پیو انٹرنیشنل’ کی ایک ریسرچ رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ‘افغانستان اور پاکستان میں عزت کے نام پر عورتوں کے قتل کو درست سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اپنا مذہب ترک کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔’
پھر اچانک مئی سنہ 2017 میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے ایک امریکی فوجی کے میموریل سروس میں شریک ہو کر وہ پاکستان کا ذکر کرتے ہیں۔ ‘اپنی تعیناتی کے صرف تین ماہ بعد کرِس پاکستانی سرحد کے پاس تھا جہاں وہ ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔’سنہ 2017 میں اگست کی 10 تاریخ کو ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے نجات دلانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار موسمیاتی حدت سے بڑا خطرہ ہے۔ ‘میں روس، چین، پاکستان اور تمام وہ ممالک جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں کہتا ہوں کہ وہ ان سے نجات حاصل کریں۔’اسی برس 21 اگست کو انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان اور اس کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خطرات بہت زیادہ ہیں۔ ‘اس وقت افغانستان اور پاکستان میں 20 دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں جو دنیا کے کسی بھی خطے میں ایک ہی جگہ پر سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔ ‘13 اکتوبر سنہ 2017 میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’پاکستان نے گذشتہ کئی برسوں تک امریکہ کا بہت زیادہ ناجائز فائدہ اٹھایا، ‘لیکن اب ہم پاکستان سے حقیقی تعلقات بنانے کا آغاز کر رہے ہیں۔’ اسی دن انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘ہم از سرِنو تعلقات کا آغاز کر رہے ہیں جس کے لیے میں ان کے لیڈروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔’اسی برس دسمبر کی 17 تاریخ کو قومی سلامتی کی پالیسی کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب ہم اپنی کارروائیوں کے بارے میں دوسروں کو آگاہ نہیں کرتے اس لیے ہمیں بہتر نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ ‘اور ہم نے پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہے لیکن انہیں بتا دیا ہے کہ ہمیں نتائج چاہیے ہیں، ہم بہت بڑی رقم ادا کرتے ہیں۔’دسمبر کی 28 تاریخ کو انھوں نے پاکستان کے ایک نامعلوم شخص کا ذکر کیا جس کا، بقول ان کے، ہیلری کلنٹن کے اس کمپیوٹر میں ذکر تھا جو ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے لیے کام کرتا تھا۔ مسٹر ٹرمپ کا مطالبہ تھا کہ اس نامعلوم پاکستانی کو ایف بی آئی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کرنے کی وجہ سے شامل تفتیش کرے۔
’31 دسمبر کی رات کو ٹویٹ پوسٹ کر کے کہتے ہیں کہ ‘امریکہ نے 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالرز کی امداد احمقانہ انداز میں دی، اور ہمارے لیڈروں کے بے وقوف سمجھتے ہوئے انھوں نے ہمیں چھوٹ اور دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ انھوں نے ان دہشت گردوں کو پناہ دی جنہیں ہم افغانستان میں پکڑنا چاہتے۔’دو جنوری سنہ 2018 کو انھوں نے ایک اور ٹویٹ پوسٹ کی ‘یہ صرف پاکستان ہی نہیں ہے جسے ہم بغیر فائدے کے اربوں ڈالرز دیتے ہیں۔’ انہوں نے فلسطینیوں کو بھی دی جانے والی امداد کا گلہ کیا کہ انہیں امریکہ کروڑوں ڈالرز دیتا ہے لیکن اس کی کوئی قدر نہیں کرتا ہے۔(جاری ہے)

Leave A Reply

Your email address will not be published.