Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پابندی بری یا بھلی ؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اس کا اطلاق سابق وزیر اعظم نواز شریف پر ہوگا، جو حزب اختلاف کی احتجاجی تحریک کی لندن سے قیادت کر رہے ہیں اور اپنے کارکنان کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔جمعرات کو جاری کردہ اس حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز عدالت میں زیر التوا مقدمات پر بحث نشر کرنے سے اجتناب برتیں اور ممکنہ فیصلوں پر بھی بات چیت نشر نہ کریں۔یہ پابندی نواز شریف کے حالیہ خطابات اور میڈیا سے ہونے والی گفتگو کے بعد لگائی گئی ہے، جس میں ن لیگ کے قائد نے ملک کی طاقتور فوج اور اسکے اداروں پر سخت تنقید کی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن بھی کسی شہری کی طرف سے دائر کی گئی ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کے خطابات اور میڈیا ٹاک پر پابندی لگائی جائے۔تاہم ملک کی سول سوسائٹی اور سیاست دانوں نے اس پابندی کو مسترد کر دیا ہے اور اسے شرمناک و قابل مذمت قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے ایک حکم میں ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کے خطابات اور میڈیا ٹاک پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس پابندی پر ملک کی سیاسی پارٹیوں یا سول سوسائٹی نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا لیکن سیاست دانوں کے مطابق، موجودہ سیاسی حالات میں اس پابندی کا مقصد، نوازشریف کی آواز بند کرنا ہے اور حزب اختلاف کی ممکنہ احتجاجی تحریک کو کمزور کرنا ہے، جس کی وہ بھر پور مخالفت کرر ہے ہیں اور ہر سطح پر مذمت کر رہے ہیں۔

ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور صحافتی برادری نے اسے افسوناک قرار دیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے اس پابندی کو ایک فاشسٹ اقدام سے تعبیر کیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، “کیا ہم ایک فاشسٹ ریاست میں رہ رہے ہیں، جوایسی پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ یہ پابندی آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے۔ نواز شریف نہ صرف ایک سیاست دان ہے بلکہ اس ملک کے تین مرتبے منتخب ہونے والے وزیر اعظم ہیں۔ آپ ان سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان کی بنیادی آزادی کو نہیں چھین سکتے۔”ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن نے اس پابندی کو افسوناک قرار دیتے ہوئے، ڈی ڈبلیو کو بتایا، “یہ پابندی جمہوری اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف ملک کے طول وعرض پر کالعدم تنظیمیں جلسے جلوس کر رہی ہیں۔ ریلیاں نکال رہی ہیں۔ مذہبی منافرت پھیلا رہی ہیں۔ ان کو روکا نہیں جا رہا لیکن سیاسی رہنماو¿ں پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔”سیاسی رہنما، ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر ماحولیات سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔ “یہ فیصلہ جمہوری اصولوں کی توہین ہے اور ہم اس کو ہر سطح پر چیلنج کریں گے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ نواز شریف کی تقاریر اور خطابات پر عدالتوں کے ذریعے پابندی لگادی جائے گی لیکن یہ پیش نظر رہے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے کسی آمر نے جدوجہد نہیں کی تھی بلکہ یہ نواز شریف تھا جو عدلیہ کی آزادی کے لیے نکلا تھا۔”ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ “اگر انصاف ہوتا تو آج نواز شریف ملک کے وزیر اعظم ہوتے اور عمران خان مقدمات کا سامنا کر رہے ہوتے۔ لیکن پوری ن لیگ کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے۔ ہمارے رہنماو¿ں پر مقدمات ہیں۔ شریف فیملی کے افراد جیلوں میں ہیں لیکن اس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایسی پابندیوں کا اطلاق مشرف پر نہیں ہوگا۔”

پی پی پی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری منظور کا کہنا ہے کہ یہ پابندی جمہوریت دشمن عناصر کی طرف سے لگائی گئی ہے۔ “ہم اس غیر جمہوری پابندی کی مذمت کرتے ہیں اور لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ ‘ہائبریڈ حکومت کب تک یہ فیصلے کرتی رہے گی کہ کون سا سیاست دان سیاست کرے اور کونسا نہ کرے۔ کونسا جج رہے اور کونسا نہ رہے۔ کونسا اینکر پرسن یا صحافی بر سر روزگار رہے اور کونسا بے روزگار ہو جائے۔ اس عمل کو اب بند ہونا چاہیے کیونکہ ایسے ہتھکنڈوں سے حزب اختلاف کے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ ہمارے احتجاج میں مزید شدت آئے گی۔” اس فیصلے کی قانونی حیثیت پر بھی ملک بھر میں تبصرے ہورہے ہیں۔ سیاسی کارکنان اس فیصلے کو غیر قانونی کہتے ہیں لیکن قانون کی باریکیوں کو سمجھنے والے اس فیصلے کو قانون کے تناظر میں درست قرار دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ نواز شریف پر پابندی قانون کے مطابق ہے۔ “مفرور اور اشتہاری قانون کی نظر میں عدالت سے بھاگا ہوا ہے اور اگر وہ عدالتوں کو میسر نہیں تو پھر اسے کہیں نہیں ہونا چاہیے۔ قانون کے مطابق ایسے بندے کی آزادی پر قدغن لگائی جا سکتی ہے اور جب تک وہ عدالت میں پیش نہ ہو، اسے رعایت نہیں ملتی۔ لیکن اگر اس کا اطلاق صرف نواز شریف پر ہوتا ہے اور پرویز مشرف پر نہیں ہوتا تو پھر یہ آئین کی آرٹیکل پچیس کی خلاف ورزی ہوگی، جو کہتی ہے کہ قانون سب کے لئے برابر ہے۔ لہذا اگر اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے تو اس کا اطلاق مشرف پر بھی ہونا چاہیے۔”

Leave A Reply

Your email address will not be published.