Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بلوچستان حکومت کا پیسہ کبھی میں سرینڈر نہیں ہوتا اور نہ ہی وفاق کے پاس واپس جاتاہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کا پیسہ کبھی میں سرینڈر نہیں ہوتا اور نہ ہی وفاق کے پاس واپس جاتاہے حکومت کا پیسہ حکومت کے پاس رہتاہے اپوزیشن اگر عدالت نہ جاتی تو صوبے کے ترقیاتی عمل میں چھ ماہ کا التواءنہ آتا، رواں سال 80ارب کی اتھارئزیشن کی ہے جس میں سے 40ارب خرچ ہوچکے ہیں ،سیف سٹی منصوبے کو سات سال بعد فعال اور مکمل کیا ہے صوبے میں آٹومیشن کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس سے نظام میں شفافیت آئےگی ، بجلی کے بحران کا معاملہ وفاق کے سامنے اٹھایا ہے،یہ بات انہوں نے جمعرات کو سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں پی ایس ڈی پی آٹومیشن سسٹم کے افتتاح کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان حکومت کا پیسہ کبھی میں سرینڈر نہیں ہوتا اور نہ ہی وفاق کے پاس واپس جاتاہے حکومت کا پیسہ حکومت کے پاس رہتاہے مالی سال کے دوران جتنے پیسے خرچ ہونے بعد رہ جاتے ہیں وہ اگلے سال کی ریفلکٹ بیلنس شیٹ میں آجاتاہے جو خرچ کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت گزشتہ کئی سالوں سے خسارے کا بجٹ بنا رہی ہے رواں بجٹ میں 100ارب کا خسارے کا تھا انہوں نے کہا کہ ایسا صوبہ جو پی ایس ڈی پی پر سب سے زیادہ انحصار کرتا ہے اسکے چھ ماہ کا وقت ضائع ہوا ہے اگر اپوزیشن جماعتیں ایسا نہ کرتیں تو چار سے چھ ماہ بچ جاتے عدالتی احکامات کی وجہ سے 2020-21کی نئی اسکیمات، وہ اسکیمات جن پر گزشتہ سال میں صفر اخراجات ہوئے سمیت دیگر منصوبوں پر محکمہ پی اینڈ ڈی اور خزانہ آگے نہیں بڑھا سکے لیکن سپریم کورٹ سے ہم جیتے ہیں انہوں نے کہا کہ 80ارب کی اتھارئزیشن کی ہے جس میں سے 40ارب خرچ ہوچکے ہیں جہاں بھی کمی بیشی ہوئی ہے ان پر کام تیز کریں گے ،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے میڈیا اور بلوچستان کے عوام کو پوچھنا چاہےے کہ کئی لوگ جنکا روزگار پی ایس ڈی پی سے وابستہ ہے انکے روزگار کو صرف اس لئے کیوں متاثر کیا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ علاقے کے ایم پی اے اور ان سے پوچھا نہیں گیا انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر حکومت بجٹ اور پی ایس ڈی پی بناتی ہے انفرادی طور پر کوئی نہیں بناتا ہم اس وقت قصور وار ہونگے اگر ہم کہیں کہ ہم کسی کے حلقے میں کام نہیں کریں گے حکومت کے طور پر یہ اختیار ہمارا ہے کہ پورے بلوچستا ن میں کہیں بھی کام کر سکتے ہیں جہاں حکومت کا رکن ہو یا اپوزیشن کا کام کرنے کا اختیار حکومت کا ہوگا کل کو ہم بھی اگر اپوزیشن میں ہوں تو ہم بھی یہ تقاضہ نہیں کرسکتے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا سیاسی موقف ہے لیکن حکومت کوئٹہ، پشین ،خضدارسمیت ہر حلقے اور ہر علاقے میںسکول ،روڈ ہسپتال سمیت دیگر کام کر رہی ہے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی چیز امپورٹ ہوتی ہے کسٹم ،میری ٹائم کلیئرنس کے بعد داخل ہوتی ہے حکومت بلوچستان گڈانی میں سالانہ اور پانچ سال کی بنیادوں پر کرایہ پر دیتی ہے گڈانی میں ممنوعہ کیمیکل جہاز آنے کی انکوائری ہورہی ہے جس کی رپورٹ جلد ہی شائع ہوگی اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کریں گے اگر وفاقی محکموں کی کوتاہی اور غفلت ہوئی تو متعلقہ محکمے کو آگاہ کریں گے انہوں نے کہا کہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں جہاز توڑنے میں ایس او پیز پر عملدآمد میں کمزوری رہی ہے اس معاملے پر توجہ نہیں دی گئی حکومتوں نے پہلے کبھی بھی گڈانی میں ہسپتال ، سڑکیں اور دیگر سہولیات مہیا نہیں کیں موجودہ حکومت نے پہلی بار گڈانی میں پورا انتظامی ڈھانچہ قائم کیا ہے انہوں نے کہا کہ نظام حکومت کو بہتر چلانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر یے ماضی میں ٹیکنالوجی کا استعمال کم تھا ٹیکنالوجی کی مدد سے وقت کی بچت ہوتی ہے نظام حکومت میں ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے سے عوام کومشکلات ہوتی ہیں ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال نگرانی کا موثر ذریعہ ہے ٹیکنالوجی عام ہونے سے جواب دہی کا عمل عام ہورہا ہے کسی محکمے کا سربراہ کھبی نہیں چاہے گا کہ محکمے پر سوال اٹھے آنے والے وقت میں انکوائری بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہوگی انہوں نے کہا کہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں میں جدت لانے کیلئے آٹومیشن لائی جارہی ہے آٹومیشن نظام کی بدولت فیصلہ سازی کا عمل آسان ہوگا تعلیم،صحت سمیت تمام شعبوں معلومات آٹومیشن سے ممکن بنادی گئی ہے حکومت آٹومیشن کے عمل سے مزید آسانیاں پید کرے گی جبکہ آٹومیشن نظام کی بدولت ریونیو ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ نی کی کمی کا مسئلہ پندرہ سالوں حل طلب ہے پانی بلوچستان کو سندھ کے ذرےعے ملتا ہے سندھ کے دریا کنارے کچی آبادیاں قائم ہیں اسلئے نگرانی مشکل ہے انہوں نے کہاکہ سیف سٹی منصوبے کو مکمل کرلیا گیا ہے سیف سٹی کو سمارٹ سٹی بنا رہے ہیں پولیس لائن میں میگا کنڑول رومز کے ذریعے منصوبہ کو مانیٹر کیا جائے گاسیف سٹی منصوبہ سات سالوں سے زیر التوا تھا موجودہ حکومت نے سیف سٹی منصوبے کو عملی شکل دی پی ایس ڈی پی حکومت بناتی ہے ترقیاتی اسکیموں کی اچھی تجاویز کا خیر مقدم کرینگے موجودہ بجٹ کو معیاری بنائیں گے بلوچستان میں بجلی کے بحران کو حل کرنے کیلئے وفاق کے سامنے معاملہ اٹھایا گیا ہے سرحدی علاقوں میں امن وامان کی صوتحال خراب ہونے پر ماضی میں نیٹ سروس معطل کی گئی حالات بہتر ہونے پر چھ اضلاع میں نیٹ سروس بحال کی گئی

Leave A Reply

Your email address will not be published.