Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کورونا وائرس: عالمی معیشت کو 9 ہزار ارب ڈالرز کانقصان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کورونا وائرس کے بحران کے دوران دنیا بھر کی طرح پاکستان کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پیدا شدہ صورتِ حال کے سبب پاکستان کی مالی حیثیت پربھی یہ دبائو بڑھا ہے

کہا جاتا ہے کہ وبائی امراض اور انسانوں کی دشمنی بہت پرانی ہے۔ اب وہ طاعون ہو، خسرہ ہو، پولیو ہو یا پھر ملیریا، ہمیشہ ہی سے وبائی امراض کی آفات نے انسانی معاشروں کو بُری طرح تلپٹ کیے رکھا۔

وبائی امراض کی خون آشام طاقت اپنی جگہ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ انسانوں نے بھی کبھی وبائی امراض سے مقابلہ کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھارکھی۔ یہی وجہ ہے کہ وبائی امراض کتنے ہی ہلاکت خیز کیوں نہ ہوں، انسانی وجود زمین سے مٹانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ یہی حال کو وڈ 19 یا کورونا وائرس کا بھی ہے۔ اِنشاء اللہ انسانیت جلد اسے شکست دینے میں کامیاب ہوگی ۔

دنیا میں کورونا کے سبب سیاحت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا

دنیا میں سیاحت کاسیکٹر نئی قسم کی کورونا وائرس (کوویڈ۔19) کی وباء کی وجہ سے بدترین سال ثابت ہوا ۔اقوام متحدہ کی عالمی سیاحت کی تنظیم (یو این ڈبلیو ٹی او)، جس کا صدر دفتر اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں واقع ہے، کے 2020 کے پہلے 10 ماہ میں، بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد میں گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 72 فیصد کمی واقع ہونے سے آگاہ کیاگیا۔اطلاع کے مطابق بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد میں اس سال جنوری سے اکتوبر کے عرصہ میں 900 ملین کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سفر کی پابندیوں اور کوویڈ 19 کی وجہ سے کم صارفین کے اعتماد کی وجہ سے 2019 کے اسی عرصے کے مقابلے میں، بی ایم ڈی ٹی اونے اعلان کیا کہ سیاحت میں آمدنی کا نقصان 935 بلین ڈالر تھا۔اقوام متحدہ کی تنظیم نے بتایا کہ دنیا میں سیاحت 1990 کی سطح پر واپس آچکی ہے، اور سیاحت میں ہونے والا نقصان 2009 میں عالمی معاشی بحران کے اثرات سے 10 گنا زیادہ ہے۔تنظیم کے مطابق ایشیا اور بحر الکاہل میں سیاحت کے شعبے میں 82 فیصد کی کمی کے ساتھ یہ علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے ، اس کے بعد مشرق وسطی میں 73 فیصد، افریقہ میں 69 فیصد، اور یورپ اور امریکہ میں 68 فیصد کمی دیکھی گئی ہے

پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کو 3 ہزار ارب روپے کاخسارہ

آئندہ برس 12 ممالک قحط اور فاقہ کشی کا شکار ہو سکتے ہیں، عالمی خوراک پروگرام عالمی خوراک پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ برس بد ترین انسانی بحران کا سال ثابت ہو سکتا ہے اور 12 ممالک قحط کے خطرات سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ کووڈ۔19 سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’’آئندہ سال ٹھیک معنوں میں آفت زدہ سال ثابت ہو گا‘‘عام وبا ء اور جنگوں کے باعث انسانی ضروریات میں 2 گنا اضافہ ہونے پر توجہ مبذول کرانے والے بیسلے کا کہنا تھا کہ قحط اور فاقہ کشی 12 ممالک کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔انہوں ان 12 ممالک کے نام تو نہیں دئیے تا ہم فی الفور اقدامات سے اس خطرے کا سد باب کیے جاسکنے پر زور دیا ہے۔جبکہ مہلک کورونا وائرس کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات جاری ہیں اور اقتصادی لحاظ سے دنیا کے مضبوط ممالک پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو تیزی سے نیچے آرہی ہے۔

وباء سے جہاں روز لاکھوں لوگ متاثر اور ہزاروں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں وہیں دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں اقتصادی نقصان بھی تمام ممالک کے لیے شدید دھچکا لگا اور اس منفی رجحان کی وجہ سے عالمی جی ڈی پی کو 9 ہزار ارب ڈالر کے نقصان کا خسارہ ہوا ۔ دستیاب ڈیٹا کے مطابق اگر کورونا وائرس کی دوسری لہر آئی تو 2019 کے مقابلے میں 2020 میں امریکا میں جی ڈی پی کی شرح نمو 7.3- فیصد، برطانیہ میں 11.5فیصد، فرانس میں 11.4 فیصد، جرمنی میں 6.6 فیصد، بھارت میں 3.7 فیصد اور چین میں 2.6 فیصدتک آگئی ۔ان اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ سال پاکستان کی جی ڈی پی میں منفی 0.4 فیصد تک کمی کا اندازہ ہے۔

قومی اقتصادی جائزہ کے مطابق اس وبا ء سے پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کو 3 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا۔وائرس سے قبل پاکستان کی طرف سے اقتصادی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کی جی ڈی پی میں 3 فیصد تک اضافے کا امکان تھا، تاہم وباء کی وجہ سے یہ اب منفی 0.4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔باوثوق اور مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق صرف اپریل میں امریکا میں پہلی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی میں 48 فیصد اور برطانیہ میں 20.4 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ۔کورونا سے عالمی معیشت 3.2 فیصد سکڑنے کا خدشہ ہے یورپی یونین میں، جس کا عالمی جی ڈی پی میں 20 فیصد حصہ ہے، گزشتہ 14 برسوں میں پہلی بار بڑے پیمانے پر کمی دیکھنے میں آئی۔عالمی بینک کے تازہ ترین جائزے میں بیس لائن کی بنیاد پر سال 2020 میں عالمی جی ڈی پی میں 5.2 فیصد کمی ہوئی ، حکومتوں کی جانب سے موثر مالیاتی اقدامات کے باوجود گزشتہ کئی عشروں میں یہ کساد بازاری کی بدترین صورتحال ہے۔عالمگیر وباء کی وجہ سے سال 2020 میں کئی ممالک کوکساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا ، ان ممالک میں 1870 کے بعد پہلی دفعہ فی کس آمدنی میں کمی آئی جبکہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں 7 فیصد تک سکڑکے رہ گئیں۔

جنوبی ایشیا کے خطے کی معیشتوں میں 2.7 فیصد، سب صحارا افریقہ میں 2.8 فیصد، مشرق وسطیٰ و شمالی امریکا میں 4.2 فیصد، یورپ اور وسطی ایشیا میں 4.7 فیصد اور لاطینی امریکا کی معیشتوں میں 7.2 فیصد تک سکڑاؤ پیدا ہوا ، ترقی یافتہ معیشتیں 7 فیصد تک سکڑگئیں جس کے اثرات ان ابھرتی ہوئی ترقی پذیر معیشتوں کو منتقل ہوجائیں گے جن کی معیشتوں میں اوسطاً 2.5 فیصد کے سکڑاؤ کا اندازہ لگایا گیاواضح رہے کہ اپریل 2020کے وسط میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے عالمی معیشت 3 فیصد تک سکڑنے کی پیش گوئی کی تھی لیکن اقوام متحدہ نے اس سے بھی زیادہ 3.2 فیصد تک معیشت کے سکڑنے کا عندیہ دیا ۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے معیشت کے سکڑنے کے ساتھ ساتھ 2021 میں عالمی معاشی شرح نمو میں 5.8 فیصد ترقی کی نوید بھی سنائی لیکن اقوام متحدہ نے اس بات سے بھی اتفاق نہیں کیا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ آئندہ سال2021 میں بھی غیریقینی صورتحال چھائی رہے گی جس کے سبب 3.4 فیصد معاشی بہتری کی توقع محض سراب لگتا ہے۔اس سلسلے میں اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں غربت میں مزید بڑے پیمانے پر اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے بھیانک اثرات کے سبب عدم مساوات اور غربت میں اضافے سے مزید 34.3 ملین لوگ غربت کی کم ترین لکیر سے نیچے چلے جائیں گے جن کی روزانہ آمدنی 1.90 ڈالر ہے اور ان میں سے 56 فیصد کا تعلق افریقہ سے ہے۔

اقوام متحدہ نے خطرہ ظاہر کیا کہ 2030 تک 13 کروڑ مزید افراد انتہائی غربت کے شکار افراد کی فہرست کا حصہ بن سکتے ہیں جس سے عالمی سطح پر ادارے کی غربت سے نمٹنے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.